عاصمہ شیرازی کا کالم: سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی

مولانا فضل الرحمان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہوا ہے

پاکستان کی سیاست کا میچ اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگلی سہ ماہی کا ٹوئنٹی ٹوئنٹی شروع ہو چکا ہے، نئی نئی ٹیمیں وجود میں آرہی ہیں، اُکھاڑ پچھاڑ کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اپوزیشن اپنی صف بندیوں جبکہ حکومت احتساب کے تازہ دم دستوں کے لیے تیار ہے۔

گذشتہ برس جولائی میں انتخابات سے قبل ایک اہم اننگز کا آغاز کیا گیا۔ احتساب کی اس اننگز میں جناب عمران خان نے شاندار بولنگ کی۔ اپوزیشن کی اہم وکٹیں گرا دیں، جس جس نے چیلنج کیا اُسے پویلین میں بھیج دیا گیا، چوں چراں کرنے والی ہر آواز کا ناطقہ بند۔ قومی اسمبلی کی اولین دو قطاروں سے ناپسندیدہ چہرے غائب، یہاں تک کہ اگر میڈیا سے بھی اختلافی آوازیں آئیں تو خاموشی کا خود ساختہ بٹن آن ہو گیا۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، چور چور کی صدائیں، حزب اختلاف کی لوٹ مار کی کہانیاں زبان زد عام تھیں۔ اتنی خوش نصیب حکومت کہ اس کے تمام صفحے اور اس کی سب تحریریں ایک۔ نہ کوئی احتجاج، نہ کوئی للکار۔

یہ بھی پڑھیے

جمہوریت بمقابلہ فسطائیت

’پیچھے نہیں، آگے دیکھو‘

عزیز ہم وطنو!

’حکومت مستعفی نہ ہوئی تو اکتوبر میں آزادی مارچ ہوگا‘

پھر کیا ہوا کہ ایک سال ہو گیا، آہستہ آہستہ انصاف حکومت کی حمایتی آوازوں کے پاس گذشتہ ایک سال میں کیا کارکردگی رہی جیسے سوالوں کا جواب تراشنا مشکل ہو گیا۔ حکومت کی معاشی کارکردگی نے ہر سوال کے جواب میں حکومت کے لیے سوال کھڑے کرنے شروع کر دیے۔ احتساب پر بات ہونے لگی کہ 'چوروں' کے خلاف ثبوت کب تک منظر عام پر آئیں گے؟

رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات کی ویڈیو جس کی گواہی بےحد ایماندار وزیر شہریار آفریدی نے ٹی وی پر دی تھی آج تک عدالت میں پیش نہیں ہو سکی۔ اور تو اور ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے جج صاحب نے یہ تک فرما دیا کہ یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ احتساب کا عمل سیاسی انجینیئرنگ کے لیے استعمال ہوا۔

Image caption سٹریٹ پاور کے حامل مولانا فضل الرحمان کو اخلاقی جواز ن لیگ اور پیپلز پارٹی فراہم کر سکتے ہیں

اِدھر ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رہنے والے مولانا نے اکتوبر کی کال دی اُدھر نواز شریف کے ساتھ مبینہ بات چیت کا آغاز ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمان گذشتہ تین سے چار دہائیوں سے پاکستان کی سیاست کی اہم ترین شخصیات میں سے ہیں۔ وہی ہتھیار استعمال کرنا جانتے ہیں جن کو اُن کے ہاتھ دیا جاتا رہا۔

اگرچہ اس وقت مولانا ہیں تو سیاست کے اس کھیل کے بارہویں کھلاڑی مگر اس میچ کی جگہ اور وقت کا تعین بظاہر وہی کریں گے۔ سٹریٹ پاور کے حامل مولانا کو اخلاقی جواز ن لیگ اور پیپلز پارٹی فراہم کر سکتے ہیں۔

گزرتے وقت کے ساتھ مولانا فضل الرحمن اُن تمام کھیلوں سے آشنا ہو چکے ہیں جن میں امپائر کا کردار انتہائی اہم ہو تا ہے۔ لہٰذا اب گیند مولانا کے ہاتھ آتی ہے۔ کھیل بنانے والوں نے سوچا نہیں تھا کہ وہ کھلاڑی بھی کھیل میں کود پڑیں گے جو نکال باہر کر دیے گئے یا ہو گئے۔ مولانا اسلام آباد آنے کی تیاریوں میں ہیں اور کسی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں سوائے اس کے کہ عام انتخابات کا اعلان کیا جائے۔

مسلم لیگ نواز کی باگ ڈور شہباز شریف کے ہاتھ ہونے کے باوجود کھیل نواز شریف کے ہاتھ ہے۔ اس اننگز میں اُن کے ہم خیال شاید اُن کی ٹیم کے اہم رہنما تو نہیں البتہ تماشائی اور عوامی کھلاڑی اُن کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ سے کھلاڑی نو بال کرا رہے ہیں اور کوٹ لکھپت کا کھلاڑی شاٹ تو نہیں مار رہا البتہ کریز پر کھڑا ضرور ہے۔

گذشتہ روز شہباز شریف سے شیڈول سے ہٹ کر ہونے والی ملاقات میں نواز شریف ایک بار پھر مولانا فضل الرحمن کے حامی نظر آئے گو کہ شہباز شریف اور اُن کے ساتھی میاں صاحب کو یہ بات منوانا چاہتے ہیں کہ مذہب کارڈ پر ساتھ نہ دیا جائے تاہم میاں نواز شریف پُر امید ہیں کہ اس بارے میں مولانا کوئی راہ نکال سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اس دور میں کہ جب رہنماؤں کی اکثریت جیل میں ہے سیاسی خلا پر کر سکتے ہیں

مولانا کے آزادی مارچ میں اگر نون لیگ کی قیادت شریک نہیں بھی ہوتی تو بھی نون لیگ کا ورکر شریک ہو سکتا ہے۔ یوں بظاہر نواز شریف خود اور بیٹی کی دوبارہ قید کے بعد کسی قسم کی ڈیل میں دلچسپی نہیں رکھتے تاہم جوں جوں قید طویل ہو رہی ہے اُن کے پتے تعداد میں زیادہ اور مخالفین کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نواز شریف جیل میں بیٹھ کر بھی اہم میچ شروع کر چکے ہیں۔

اب آئیے پیپلز پارٹی کی جانب۔ بلاول بھٹو سندھ حکومت بچانا چاہتے ہیں مگر اخلاقی سیاست کا دامن بھی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور جیل میں ہیں اور مراد علی شاہ کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ مذہبی کارڈ اور دھرنا سیاست سے دور رہنا چاہتے ہیں لیکن عام انتخابات کا انعقاد بھی چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی عوام کے نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے لیکن عوام کے جذ بات کے مطابق چلنا بھی مشکل ہے۔

بلاول بھٹو اس دور میں کہ جب رہنماؤں کی اکثریت جیل میں ہے سیاسی خلا کو پورا کر سکتے ہیں لیکن اُن کے ہاتھ لگی چند بیڑیاں فیصلہ سازی میں آڑے آ رہی ہیں۔ انھیں فیصلہ کر نا ہو گا کہ عوامی جذبات کے مخالف کھڑا ہونا ہے اور پیپلز پارٹی کا سیاسی مستقبل بچا نا ہے یا وقتی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

اور ہاں اکتوبر پت جھڑ کا موسم ہے۔ کھیل کھیلنے والوں کے لیے بھی اہم اور کھیل بنانے والوں کے لیے بھی۔

اسی بارے میں