محمد حنیف کا کالم: مرد کا پردہ

سکول کی طالبا تصویر کے کاپی رائٹ A MAJEED
Image caption پیر کو خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنے ہی صوبے کے محکمہ تعلیم کی طرف سے سرکاری سکولوں میں طالبات کے لیے چادر یا عبایہ پہننا لازمی قرار دینے کے سلسلے میں جاری کردہ اعلامیہ واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا

کچھ عرصہ پہلے ٹی وی پر ایک گرما گرم ٹی وی ٹاک شو دیکھتے ہوئے ایک دم انکشاف ہوا کہ ٹی وی پر شام سات بجے کے بعد آنے والے تقریباً تمام مرد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں ورنہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہر روز دنیا جہان کے ہر مسئلے پر اتنا غصہ، اتنی چیخ وپکار یقیناً یہ فشار خون کا مسئلہ ہی ہوسکتا ہے۔

یہ پروگرام دیکھ دیکھ کر میرا بلڈ پریشر بھی جمپ کرنے لگا تو میں نے فیصلہ کیا کہ شام کراچی کے گہرے ساحل سمندر پر گزاری جائے تو افاقہ ہوگا کیونکہ سمندر چاہے گندا ہو، ہوا تو ٹھنڈی آتی ہے۔ افاقہ تو ہوا لیکن پرانی عادتیں کہاں جاتی ہیں۔ اگلے روز ریموٹ اٹھایا اور ٹیلی ویژن آن کرلیا۔

میرے دو پسندیدہ صحافی دو مختلف چینلوں پر براجمان تھے۔ ان کا اتنا احترام ہے کہ پہلا نام لینے کی بھی جرات نہیں ہے، یوں کہہ لیں کہ ایک بھٹی صاحب ہیں اور دوسرے عباسی صاحب۔ دونوں کا بلڈ پریشر بڑھا ہوا لگ رہا تھا اور چہروں پر وہ جلال تھا جو ہائی بلڈ پریشر والوں کے ہوتا ہے۔

محمد حنیف کے دیگر کالم

عمران خان کا ’خان‘ کہاں ہے؟

خاموشی اور خوف

گندی باتیں۔۔۔

میں اس طرح کے شو آواز بند کر کے بھی دیکھ لیتا ہوں لیکن دل میں تجسس ہوا کہ دیکھوں میرے محبوب صحافی آج کس سے ناراض ہیں۔ آواز بڑھائی تو پتہ چلا کہ کے پی کے میں دس سال کی بچیاں اور ان کو عبایہ پہنانے یا نہ پہنانے پر بحث ہو رہی ہے۔ دل دکھی ہوا کہ کیا وقت آ گیا ہے کہ ادھیڑ عمر کے مرد دس بارہ سال کی بچیوں کے جسموں کے بارے میں بحث کر رہے ہیں۔

پھر پتہ چلا کہ ادھیڑ عمر کے لوگ اتنے بھی پاگل نہیں ہیں کیونکہ وہ ٹی وی سکرین پر موجود بے پردہ خواتین سے بحث تو کر رہے تھے۔ انھیں قرآن، حدیث اور فرانس کے قوانین کے حوالے تو دے رہے تھے۔ (مسز بھٹی پردہ دار ہیں اور فرانس میں ان پر کیا بیتی) لیکن ایک بار انھوں نے پروگرام کی میزبان اور دوسری خاتون میزبان سے یہ نہیں کہا کہ پہلے آپ عبایہ پہنیں ورنہ ہم نہیں کھیلتے اور تو اور نظریں بھی نیچی نہیں کیں۔

بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آواز بلند کر کے بِکنی پہننے والوں کا ذکر کرتے رہے۔ اسلام میں سنا تھا کہ ایک نظر تو معاف ہے لیکن ٹی وی پر آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے اور مغربی معاشروں کی گندی حرکات پر مزے لے کر بحث کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

لیکن میں جیسے جیسے ان کے دلائل سنتا گیا میں قائل ہوتا گیا کہ وہ بات صحیح کر رہے ہیں۔ ملک اسلامی، آئین قرآنی، معاشرہ روایتی، مرد جانور بلکہ جانوروں سے بھی بدتر کیونکہ جانور تو بچوں کی ریپ کی ویڈیو بنا کر نہیں بیچتے۔ اس لیے پردہ ضروری ہے۔ پھر ایک ذہین خاتون وکیل نے میرے بلڈ پریشر زدہ بھائیوں کو روک کر بتایا کہ جن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے ان میں سے پچاس فیصد سے زیادہ تو لڑکے ہوتے ہیں ان کا کیا کریں۔

محمد حنیف کے دیگر کالم

بھکاری کے جوتے۔۔۔

کشمیر مانگو گے۔۔۔

پوری قوم اقبال پر پی ایچ ڈی کیے بیٹھی ہے!

اُستاد ولایت خان کی یاد میں

میرے بھائیوں کا جواب آنے سے پہلے کمرشل بریک آگئی۔ جس میں وسیم اکرم ڈیڑھ سو عورتوں کو کپڑے دھونے کے گر بتاتے ہیں۔ میں سوچنے لگا کہ ملک میں بارہ تیرہ کروڑ عورتیں تو ہیں ان میں سے یقیناً کچھ کمزور ایمان والی بھی ہوں گی، میرے بھٹیوں، میرے عباسیوں کے حسن کے جلوے ہر روز ٹی وی پر دیکھ کر ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔

کسی کی گداز ترشی داڑھی، کسی کے جیل لگے گھنگریالے بال۔ عورتیں اتنی گندی باتیں نہیں سوچتیں جتنی مرد سوچتے ہیں لیکن دل میں یہ خیال تو آتا ہی ہوگا کہ کاش یہ ٹی وی پر بیٹھا ہیرا میرا برقعہ بھی اتروا کر میرے ساتھ پیرس کی گلیوں میں گھومے یا کم از کم کہیں عمرے پر ہی لے جائے تو ہم میچنگ احرام پہن کر کتنے اچھے لگیں۔

اور عورتیں تو عورتیں کئی مردوں کا بھی ان حسن پاروں کو دیکھ کر وضو ٹوٹ جاتا ہوگا۔ ویسے بھی پاکستانی مرد کچھ بھی چلے گا کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں تو قوم کے اجتماعی اخلاق کو بچانے کے لیے کیا ہی اچھا ہو کہ میرے بھٹی، میرے عباسی بھی تھوڑا سا پردہ شروع کردیں۔

کئی فیشن ڈیزانئر مردانہ عبایہ بنانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ ٹی وی کے صحافی بھائی میری آپ کی یا اپنے ضمیر کی سنیں نہ سنیں اپنے پروڈیوسر کی بات سنتے ہیں، یا پھر چینل کے مالک کی اور جو کسی کی بھی نہیں سنتے وہ سر غفور کی بات ضرور سنتے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہو کہ وہ ہمارے قومی اخلاق کے سدھار میں اپنا حصہ ڈالیں۔

اسی بارے میں