العزیزیہ ریفرنس: ’مائی لارڈز سپریم کورٹ تو آپ کو پہلے ہی ڈائریکشن دے چکی‘

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کمرہ عدالت کیس کی سماعت سے پہلے ہی پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں، وکلا اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھر چکا تھا (فائل فوٹو)

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو گذشتہ برس احتساب عدالت کی جانب سے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں ملنے والی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت بدھ کو جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی۔

ڈویژن بینچ عمومی طور پر دن 12 بجے کے بعد کسی بھی مقدمے کی سماعت شروع کرتا ہے تاہم نواز شریف کی اپیل کی سماعت ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی۔

کمرہ عدالت اس کیس کی سماعت سے پہلے ہی پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں، وکلا اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھر چکا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے کچھ رہنما سماعت شروع ہونے کے بعد کمرہ عدالت میں پہنچے تو ان کی نشستوں پر براجمان پارٹی کے کارکنوں نے ان کے لیے جگہ خالی کر دی۔

یہ بھی پڑھیے

جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں تین ملزمان بری

’عوامی عدالت جج کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی‘

العزیزیہ کیس: نواز شریف کی درخواستِ ضمانت مسترد

نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات برس قید، فلیگ شپ میں بری

مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپیل کے حق میں دلائل دینے کی بجائے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک جنھوں نے نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی، کے بیانِ حلفی کی مصدقہ کاپی طلب کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد کی احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی

خیال رہے کہ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد انھوں نے اپنا بیان حلفی اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو جمع کروایا تھا۔

خواجہ حارث نے عدالت سے اس ضمن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کی بھی مصدقہ کاپی حاصل کرنے کی استدعا کی۔

اس دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے بیان حلفی کی اصل کاپی تو رجسٹرار کے پاس ہے جبکہ اس ضمن میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی ان سے مذکورہ جج کے بیان حلفی کی کاپی طلب کی ہے۔

عدالت نے کوشش کی کہ نواز شریف کے وکیل اپنی اپیل سے متعلق دلائل شروع کریں۔

عدالت نے خواجہ حارث سے کہا کہ سماعت آگے چلنے دیں پھر اس کو دیکھیں گے لیکن خواجہ حارث نے اپنے دلائل کو اس بات پر ہی فوکس رکھا کہ انھیں پہلے ارشد ملک کے بیان حلفی کی کاپی دی جائے اور پھر اس کے بعد اپیل سے متعلق دلائل ہوں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد ملک کے بیان حلفی کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا ہوا ہے اور اس کو نواز شریف کی اپیل کے ساتھ ہی سنا جائے گا۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے بھی احتساب عدالت کے سابق جج کے بیان حلفی اور اس ضمن میں عدالت عالیہ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کی مصدقہ نقل فراہم کرنے کی درخواست کی جسے منظور کرلیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ دیکھنا پڑے گا کہ احتساب عدالت کے سابق جج کے بیان حلفی کا مجرم کی اپیل پر کیا اثر پڑے گا۔

بینچ کے سربراہ نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ضمن میں (ارشد ملک کے حوالے سے) عدالت کی معاونت کریں جس پر خواجہ حارث تھوڑی دیر کے لیے رکے اور پھر طنزیہ انداز میں کہا ’مائی لارڈز سپریم کورٹ تو آپ کو پہلے ہی ڈائریکشن دے چکی ہے۔‘

خواجہ حارث کا یہ جواب سن کر بینچ میں شامل دونوں جج خاموش ہو گئے۔

سپریم کورٹ نے ارشد ملک کے ویڈیو سکینڈل سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اگر ہائی کورٹ چاہے تو ان ریفرنس میں دی گئی سزا کو کالعدم قرار دے سکتی ہے اور اس ریفرنس کی از سر نو سماعت بھی کر سکتی ہے۔

اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس شخص کا عدالت کے سامنے پیش ہونا ضروری ہے جس نے یہ ویڈیو بنائی ہے۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ خواجہ حارث کی کوشش ہے کہ وہ جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کے بارے میں دلائل دے کر اس فیصلے کو کالعدم قرار دلوائیں۔

عدالت نے نواز شریف کی اپیل پر اس کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں