عمران کا دورۂ امریکہ: کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں ثالثی کرے۔

منگل کے روز نیویارک میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران کا معاملہ زیرِ بحث آیا اور ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ان کی ایرانی صدر روحانی سے ملاقات بھی ہوئی۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر بھی سکتا ہے یا نہیں؟

یہ بھی پڑھیے

’جوہری معاہدے کی پاسداری کے بغیر کوئی نئی ڈیل نہیں ہوگی‘

’مجاہدین اور طالبان کو مکس کر دیتے ہیں‘

’کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کے بعد قتل عام کا خدشہ ہے‘

اس سوال کے جواب میں بی بی سی نے تہران اور اسلام آباد دونوں کا پس منظر حاصل کرنے کے لیے دو ماہرین سے بات کی مگر دونوں کی رائے میں بہت فرق تھا۔

تہران میں مقیم صحافی زہرہ زیدی کی رائےسابق ڈائریکٹر، ریڈیو تہران

’پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کبھی تو بہتر ہو جاتے ہیں اور کبھی کھچاؤ آ جاتا ہے، یہ کیفیت ایک عرصے سے جاری ہے۔

ایسا ہمیشہ لگاتا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہونے والا ہے، دونوں ملکوں کے لین دین میں تجارتی تعلقات میں بہتری آنے والی ہے، مگر پاکستان پیچھے ہٹ جاتا تھا۔۔۔ اسی لیے پاکستان کے سلسلے میں پڑوسی ہونے کے باوجود ایرانیوں کے تاثرات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ پاکستان امریکہ کے بہت زیادہ دباؤ میں ہے۔‘

جب نئے وزیراعظم عمران خان آئے تو ایسا لگا کہ وہ کوئی بہت مضبوط قدم اٹھانے والے ہیں مگر وہاں (پاکستان) کی اسٹیبلشمنٹ کا جو کردار ہے اس میں کسی کے ہاتھ زیادہ کھلے نہیں رہ پاتے۔ وہاں بہت ساری چیزیں دیکھتے ہوئے اور چاہتے ہوئے بھی نہیں کر سکتا کیونکہ اس پر اندر سے اسٹیبلشمنٹ کا بہت دباؤ ہوتا ہے اور باہر سے ان ملکوں کا۔ وہاں تو اس طرح کی بات ہو رہی ہے کہ اسرائیل سے دوستی کی جائے۔ تو وہ آپس میں مل تو لیں گے، پڑوسی ہیں دوست نہیں مگر اس سے زیادہ کوئی قربت نظر نہیں آتا۔

اور جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے وہ تو اس وقت پھنسا ہوا ہے اور جن دلدلوں میں اس نے قدم رکھا ہے، وہاں مشکل میں ہے۔ اور سعودی عرب کا بھی یہ حال ہے۔ لیکن پاکستان کو امریکہ اور سعودی عرب کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور ایران کے یہ دونوں مخالف ہیں۔

تو جب ایرانیوں کو یہ بات پتا ہے کہ ان کی دوستی ان دونوں کے ساتھ بہت زیادہ ہے اور یہ جو کچھ کریں گے تو ان کے مفادات کو زیادہ نظر میں رکھ کر کریں گے تو اس لیے میں نہیں سمجھتی کے ثالثی کرنے میں کھچاؤ دور کرنے میں پاکستان کوئی خاص کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

امریکہ میں اس وقت موڈ پر چلنے والی کیفیت ہے ٹرمپ صاحب کی۔۔۔ ادھر پاکستان کا یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کب اس کا رجحان ادھر کو بڑھ جائے یا اس کی مجبوری اتنی بڑھ جائے اور وہ امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ چلنے لگے۔ ایران اور پاکستان نے جب بھی دوستی کی کوشش کی کہاں پر پاکستان ان کو چھوڑ دے گا اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔

اسلام آباد سے ڈاکٹر قندیل عباس کی رائےقائداعظم یونیورسٹی کے شعبہِ بین الاقوامی امور کے پروفیسر

اس وقت ایران امریکہ ثالثی کے سلسلے میں دو اہم کوششیں ہو رہی ہیں، ایک فرانسیسی صدر میکخواں کی جانب سے اور ایک جرمن چانسلر اینگلا مرکل کی جانب سے۔ مرکل نے تو گذشتہ روز صدر روحانی سے ایک غیر پلان شدہ ملاقات بھی کی ہے۔ یہ دونوں کوششیں انتہائی اہم ہیں کیونکہ ان دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات بھی ہیں اور ماضی میں جو معاہدہ ہوا تھا ایران کے ساتھ اس میں بھی ان دونوں ممالک کا اہم کردار تھا۔

تیسری اہم کوشش عمران خان کی ہے۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ خود عمران خان نے پیشکش کی اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آپ یہ کام ہمارے لیے کریں۔

یہ اہم اس لیے ہے کہ آپ اگر فرانس یا جرمنی یا کسی بھی یورپی ملک کی بات کریں تو وہ امریکہ کے ساتھ ایک ایک پارٹی نظر آتے ہیں، بہت سے معاملات میں وہ امریکی موقف کی تائید کرتے ہیں جیسے کہ سعودی عرب میں آرامکو پر حملے ہوئے تو انھوں نے ایران پر الزام لگاتے ہویے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ایرانی قیادت بھی یورپی ممالک ہر اس طرح کا اعتماد نہیں کرتی جس طرح کے اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ ضرور آئے ہیں مگر کوئی ایسا تنازع موجود نہیں ہے جو کہ تعلقات پر بہت زیادہ اثر انداز ہو۔

اسی لیے ہم نے دیکھا کہ جب سعودی عرب نے یمن میں پاکستان سے مدد مانگی تو پاکستان نے غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی جس پر بہت سے عرب ممالک ناراض بھی ہوئے۔

اب جب اسلامی ممالک کی فوج بنی ہے اور راحیل شریف تعینات ہوئے ہیں تو پاکستان میں داخلی طور پر سوال اٹھایا گیا کہ اس سے پاکستان کا خطے کے بارے میں متوازن موقف متاثر ہوسکتا ہے تو پاکستانی حکومت نے یہی کہا کہ راحیل شریف کی موجودگی سے اس بات میں مدد ملے گی کہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کو ایک دوسرے کے قریب لا سکے۔

ساری مشکلات کے باوجود ایران نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا کھل کر ساتھ دیا ہے، بہت سے عرب دوست وہ کردار ادا نہیں کر سکے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس بات کا احساس ضرور ہے کہ مشکل حالات میں ایران پاکستان کا ساتھ دے رہا ہے۔ حالانکہ ایران انڈیا کی منڈیوں پر بہت منحصر ہے۔ ایران کی پاکستان کے بارے میں رائے بہت متوازن رہی ہے۔

اسی لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اگر ایران اور امریکہ کے درمیان یا ایران اور سعودی عرب کے درمیان کردار ادا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں