ایک باہمت خاتون جس نے برگر بیچ کر اپنے کنبے کی کفالت کا بیڑا اٹھایا

سبیلہ غلام حسین
Image caption سبیلہ غلام حسین

’ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور ہمیں حلال رزق کمانے سے شرم نہیں آنی چاہیے۔‘ یہ الفاظ سبیلہ غلام حسین کے ہیں جو ماں جی کے نام سے بھی جانی پہچانی جاتی ہیں۔ راولپنڈی کے پوش علاقے چکلالہ سکیم تھری میں سڑک کے کنارے ’ماں جی برگر پوائنٹ‘ چلانے والی پچاس سالہ ماں جی ہمت اور حوصلے کی مثال ہیں۔

بے انتہا مشکلات کے باوجود اُنھوں نے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے حلال طریقے سے رزق کمانے کو ترجیح دی۔

میں جب اس علاقے میں پہنچی تو عوام کا بڑا ہجوم ایک سٹال کے پاس نظر آیا ۔اُس سٹال کے قریب جانے پر پتا چلا کہ یہ سبیلا غلام حسین عرف ماں جی ہیں جو یونیفارم میں کھڑی ہیں۔ ان کا پورا دھیان پھینٹے ہوئے انڈوں میں کباب کو لپیٹ کر توئے پر فرائی کرنے میں ہے۔ تاکہ تمام گاہکوں کو وقت پر اُن کے آرڈر دیں سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

’بھیک مانگنے سے اچھا ہے فٹ بال بناؤں‘

مزاحمت کی علامت بن جانے والی خاتون

’فیلڈ ورک میں عورتوں کو مردوں سے زیادہ منوانا پڑتا ہے‘

ماں جی برگر کے سٹال پر کوئی مرد اُن کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوتا۔ ماں جی اپنے ساتھ ایک ورکر کو لاتی ہیں جو برگر بنانے میں اُن کی مدد کرتی ہیں۔ آس پاس سبھی مردوں کے سٹال ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
راولپنڈی کی سبیلا غلام حسین کا ماں جی برگر پوائنٹ، عزم و ہمت کی مثال

مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کام کرنے کے بارے میں ماں جی کہتی ہیں ’میں اس وقت ننانوے فیصد مردوں میں اکیلی عورت کھڑی ہو کر کام کر رہی ہوں۔ یہ اللہ کی طرف سے ہمت ملی ہے مجھے۔ کہ میں مردوں کے معاشرے میں اکیلے مقابلہ کر رہی ہوں۔‘

تقریباً ایک سال قبل ماں جی نے اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ آخر اُن کو گھر سے باہر نکل کر یہاں تک پہچنے کا خیال کیوں آیا۔ تو اُنھوں نے بتایا ’یہ خیال نہیں تھا۔ اپنے حالات کے پیشِ نظر میں نے اسی کو بہتر سمجھا۔ میرے پاس اور بھی ہنر تھے۔ مگر اُن کے لیے مجھے دوسروں کی مدد لینی پڑتی۔ مگر اس کے لیے مجھے اپنے دو ہاتھوں کی ضرورت تھی۔‘

ماں جی نے اپنی مشکلات بتاتے ہوئے کہا کہ اُن کے گھر میں کمانے والے صرف اُن کے شوہر تھے۔ اُن کے بیمار ہونے کے بعد ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔

’میرے شوہر کچھ دن پہلے بھی آئی سی یو میں تھے۔ گھر چلانا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ میرے بچوں کا کھانا تک نہیں تھا۔ ایک دن میرے دس سال کے چھوٹے بیٹے نے صبح مجھ سے ناشتہ مانگا تو میرے پاس آنسوں کے علاوہ اُس کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔‘

’مجھ میں قوتِ ارادی تھی کہ باہر آ کے میں خود اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں۔ اپنے شوہر کا علاج کر وا رہی ہوں۔‘

ماں جی برگر کے سٹال پر مختلف اقسام کے برگر دستیاب ہیں۔ جو کہ اپنے ذائقے کی وجہ کافی مشہور ہیں۔ ناصرف آس پاس کے علاقوں بلکہ دور دارز سے بھی لوگ اس کو کھانے کے لیے آتے ہیں۔ ماں جی کا ہنر اُس وقت خوب بولتا نظر آیا جب ایک ہی وقت میں دس سے پندرہ گاہکوں کو ڈیل کرنے کے لیے اُن کو مشین سے زیادہ پھرتی سے کام کرتے دیکھا۔

ماں جی برگر کے سٹال پر چکن روسٹ برگر، بیف سٹیک برگر، فش برگر، انڈا شامی برگر اور بیف بیٹی برگر دستیاب ہیں۔ ماں جی کے مطابق ان کا بیف سٹیک برگر اور بیف شامی برگر عوام میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔

سٹال پر ماں جی کو جب یوینفارم میں کام کرتے دیکھا تو کسی پروفیشنل کک کا گمان ہوا۔ ایک چھوٹے سے سٹال پر کھڑے ہو کر ان گنت گاہکوں سے ڈیل کرنا آسان نہیں ہے۔ ماں جی کے مطابق وہ دیر رات تک سٹال پر کام کرتی ہیں۔ عمر کے ایک خاص حصے میں پہنچ کر دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے ٹانگوں میں درد کی وجہ سے اُن کو اکثر رات کو نیند نہیں آتی۔

’چوبیس گھنٹوں میں سے چار گھنٹے میں آرام کرتی ہوں۔ بیس گھنٹے مجھے اس کام کے لیے چیزوں کو جمع کرتے اور بناتے لگ جاتے ہیں۔ بیس گھنٹے کی محنت کرنے کے بعد جب رات کو گھر جاتی ہوں۔ تو مستقل کھڑے رہنے کی وجہ سے جو باقی کچھ گھنٹے بچتے ہیں۔ اُس میں درد سے میری چیخیں نکل رہی ہوتی ہیں۔‘

ماں جی نے آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو روکتے ہوئے بتایا کہ اس درد کو وہ اُس وقت بھول جاتی ہیں۔ جب وہ صبح اپنے بچوں کو اچھا ناشتہ کرتے، اچھے سکول میں جاتے دیکھتی ہیں۔ کیونکہ اُن کے مطابق اس عمر میں لوگ آرام کرتے ہیں اور وہ اپنے بچوں کے لیے رزق کمانے باہر نکلتی ہیں۔ مگر وہ جب اپنے بچوں اور شوہر کو خوش دیکھتی ہیں۔ تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتی ہیں۔

ان کے سٹال پر پہنچ کر اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا۔ کہ جب بارش اور آندھی آتی ہو گی تو کھلے آسمان کے نیچے کھڑی پچاس سالہ ماں جی کس افراتفری سے گزرتی ہوں گی۔

’جب بارش ہوتی ہے، تو میں ساری بھیگ جاتی ہوں۔ آندھی طوفان سے میرا سارا کھانے کا سامان خراب ہو جاتا ہے۔ جو میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ کیونکہ میں خراب سامان اپنے گاہکوں کو نہیں کھلا سکتی۔ جس کی وجہ سے میرا سب کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔‘

ماں جی نے کہا کہ ایک عورت ہونے کے ناطے اُن کو چار دیواری مہیا کی جانی چاہیے۔ اُنھوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی چھت فراہم کرنے میں اُن کی مدد کی جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ سڑک کنارے کھڑی رزق کما رہی ہیں۔ اُن کو صرف چار دیواری کی ضرورت ہے تاکہ وہ موسم کی زیادتی کی وجہ سے اپنے کھانے کو پہنچنے والے نقصان سے بچا سکیں۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عورت ہونے کے سبب آپ کو خود میں حوصلے کے ساتھ ساتھ ہمت بھی لانی پڑتی ہے۔ ماں جی نے اپنی جیسی دوسری ماؤں ، بیٹیوں اور بہنوں کو یہ پیغام دیا کہ مشکل حالات میں محنت سے رزق کمائیں اور اُن کی طرح دوسروں کے لیے مثال قائم کریں۔

مجھے دیکھیں، مجھے فخر ہے اپنے آپ پر!

اسی بارے میں