گرلز بائیک ٹو سکول: پاکپتن کی لڑکیوں کے لیے ایک سائیکل ’تعلیم کی کُنجی‘ کیسے بنی

عائشہ عمران
Image caption گاؤں کی کچی پکی سڑکوں پر سائیکلیں دوڑاتی یہ لڑکیاں معاشرتی رویے تبدیل کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع پاکپتن کی نو سالہ عائشہ عمران کو دو سال قبل بائیسکل ملی تو وہ اُن کی کُل کائنات بن گئی۔

'ماموں نے مجھے ہینڈل پکڑنا سِکھایا، بریکیں مارنی بتائیں اور پیڈل مارنا سِکھایا۔ ماموں سائیکل کو پیچھے سے دھکا دیتے تھے اور میں اُسے چلاتی تھی۔'

چار بہنوں میں سب سے بڑی عائشہ کا کہنا ہے 'میں نے سائیکل چلانا سیکھنا شروع کیا تو بہت بار گِری تھی۔ چوٍٹیں بھی لگی تھیں۔ ایک بار سامنے سے موٹر سائیکل آ رہا تھا تو مجھے موڑ کاٹنا نہیں آیا اور میں گر گئی۔ پھر ایک دفعہ سامنے سے کتا آ گیا تھا۔'

پنجاب کے اِس دورافتادہ اور پسماندہ گاؤں میں عائشہ کی عمر کی لڑکیوں کے لیے یہ سائیکل ہی واحد ایسی چیز ہے جسے وہ اپنی ملکیت کہہ سکتی ہیں۔

'اپنی سائیکل کا میں خود خیال رکھتی ہوں۔ اُس کو گیلے کپڑے سے صاف کرتی ہوں۔ جب بارش ہوتی ہے تو میں اُسے صحن سے اندر لے جاتی ہوں تاکہ وہ خراب نہ ہو۔ میں نے سائیکل کے اوپر اپنا نام بھی لکھا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

حصولِ تعلیم کے لیے چنگچی پر پُرخطر سفر

’ہمت اور گھر والوں کا ساتھ ہو تو کچھ ناممکن نہیں‘

’پڑھنے لکھنے کا خواب ادھورا رہ گیا‘

'گرلز بائیک ٹو سکول'

عائشہ عمران کو 2017 میں ملنے والی سائیکل 'گرلز بائیک ٹو سکول' منصوبے کا حصہ ہے جس کے ذریعے ضلع پاکپتن کے 150 دیہات کی لڑکیوں کو گھر اور سکول کے درمیان آمدورفت کے لیے سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں۔

یہ منصوبہ غیر سرکاری تنظیم اِرج ایجوکیشن اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے سربراہ ارشاد احمد مغل کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 'یہ منصوبہ دیہی علاقوں میں سکول جانے والی لڑکیوں کے لیے ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث شروع کیا گیا۔'

ان کے مطابق دو سال کے اِس منصوبے میں مقامی طور پر تیار کردہ چھ سو سے زائد سائیکلیں سرکاری اور پرائیوٹ سکولوں کی مڈل اور ہائی سکول کی طالبات کو فراہم کی گئیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
'گرلز بائیک ٹو سکول' منصوبے کے تحت سائیکلیں فراہم کرنے سے قبل طالبات کو اُنھیں چلانے کی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ سائیکل کے پُرزوں کے بارے میں بنیادی معلومات بھی فراہم کی گئی

سکولوں سے باہر بچے

اقوامِ متحدہ کے فنڈ برائے اطفال یونیسف کا دعوی ہے کہ سکول نہ جانے والے بچوں کی دنیا میں دوسری بڑی تعداد پاکستان میں ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سکول جانے کی عمر کے دو کروڑ 28 لاکھ پاکستانی بچے سکولوں سے باہر ہیں جن میں سے اکثریت لڑکیوں کی ہے اور اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ 30 لاکھ لڑکیاں سکول نہیں جاتیں۔

ماہرِ تعلیم اور انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان ہمایوں کے مطابق پاکستان میں پرائمری میں داخل ہونے والے بَہتر فیصد طلبا میٹرک تک تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔

سلمان ہمایوں کے مطابق 'کیونکہ ملک بھر میں پرائمری سکولوں کی تعداد زیادہ ہے لہذا پرائمری کی سطح تک حاضری کی صورتحال بھی بہتر ہے۔ مِڈل اور ہائی سکولوں تک پہنچتے پہنچتے رسائی کی مشکلات کے باعث طلبا اور طالبات کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔'

'ہیومن رائٹس واچ' کی ایک رپورٹ کے مطابق جو عوامل لڑکیوں کو اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے سے روکتے ہیں اُن میں سکولوں کی کم تعداد، تعلیم کے اخراجات، سکولوں میں مار پیٹ، والدین کی طرف سے اجازت کا نہ ملنا، لازمی تعلیم کا عدم نفاذ کے علاوہ گھر سے سکول کا فاصلہ بھی شامل ہیں۔

'گرلز بائیک ٹو سکول' پراجیکٹ کے ارشاد احمد مغل بتاتے ہیں کہ دیہات میں لڑکیوں کو سکولوں تک پہچنے کے لیے روزانہ میلوں فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے جو آسان کام نہیں۔ اس وجہ سے اکثر لڑکیاں اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ دیتی ہیں۔

Image caption دیہات میں لڑکیوں کو سکولوں تک پہچنے کے لیے روزانہ میلوں فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے

دھوپ، مٹی اور کتّے

سکول کے میدان میں سہلیوں کے ساتھ کھیلتی عائشہ عمران نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے وہ پیدل سکول جایا کرتی تھیں۔ کبھی اُن کے ماموں اور کبھی نانی سکول لے کر آتے تھے۔ اگر کبھی کوئی بڑا گھر پر موجود نہیں ہوتا تھا تو اُنھیں چھٹی کرنا پڑتی تھی جس کی وجہ سے اُن کی تعلیم کا حرج ہو رہا تھا۔

عائشہ کے ماموں احسن باسط کہتے ہیں کہ انھی مشکلات کے باعث اکثر والدین لڑکیوں کو گھر بٹھا لیتے ہیں۔

'کچھ والدین کھیتی باڑی میں مصروف ہوتے ہیں تو وہ بچوں کو سکول لا لے جا نہیں سکتے۔ اگر بچیاں اکیلی بھی جائیں تو کئی کئی کلومیٹر پیدل چلنا اُن کے لیے بہت دشوار کام ہے۔ موسم کی سختی کی وجہ سے اکثر لڑکیاں بیمار پڑ جاتی ہیں۔ کئی دفعہ بچوں کو کتّوں نے بھی کاٹا ہے۔'

عائشہ کی نانی نسیم بیگم بتاتی ہیں کہ ماضی میں کچھ لڑکیوں کو ہراساں بھی کیا گیا۔ ’گاؤں کا ماحول ایسا نہیں ہے جو لڑکیوں کو اکیلے آزادانہ آنے جانے کی اجازت دیں۔‘

انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان ہمایوں کے مطابق ضرورت اِس بات کی ہے کہ حکومت تعلیمی پالیسی میں سکولوں کی عمارت کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کی دیگر ضروریات اور ٹرانسپورٹ کا بھی خیال رکھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ 'پالیسی سازوں کو مغرب کی طرز پر ایک ایسا جامع اور مربوط ٹرانسپورٹ سسٹم وضع کرنا چاہیے جس میں سرکاری سکول بسیں طلبا اور طالبات کو گھر اور سکول کے درمیان آمدورفت کی مفت سہولیات فراہم کریں۔'

Image caption عائشہ اب ہنسی خوشی سکول جانے کی تیاری کرتی ہیں

سائیکل تعلیم کی کُنجی

'گرلز بائیک ٹو سکول' منصوبے کے تحت سائیکلیں فراہم کرنے سے قبل طالبات کو اُنھیں چلانے کی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ سائیکل کے پُرزوں کے بارے میں بنیادی معلومات بھی فراہم کی گئی۔

لڑکیوں کو اِس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ گروپ کی شکل میں سکول جائیں تاکہ کسی حادثے یا بائیسکل خراب ہونے کی صورت میں ساتھی طالبات اُن کی مدد کر سکیں۔

اِرج ایجوکیشن اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے سربراہ ارشاد احمد مغل نے بی بی سی کو بتایا کہ 'گرلز بائیک ٹو سکول' منصوبے کے تحت جن طالبات کو سائیکلیں فراہم کی گئیں اُن کے والدین کے ساتھ تحریری معاہدہ بھی کیا گیا کہ لڑکیوں کو میٹرک تک تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سلمان ہمایوں کہتے ہیں کہ اُن کے تجربے کے مطابق والدین بچوں کو سکول بھیجنا چاہتے ہیں لیکن وسائل کی کمی اور سہولیات نہ ہونے کے باعث ایسا نہیں کر پاتے۔

'ضرورت اِس بات کی ہے کہ نہ صرف غیرحاضر طالبات کو سکولوں میں لایا جائے بلکہ ایسا تعلیمی ماحول پروان چڑھایا جائے کہ سکولوں میں پہلے سے موجود طالبات اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔'

Image caption اقوامِ متحدہ کے فنڈ برائے اطفال یونیسف کا دعوی ہے کہ سکول نہ جانے والے بچوں کی دنیا میں دوسری بڑی تعداد پاکستان میں ہے

'اب سکول جانا اچھا لگتا ہے'

عائشہ مسکراتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اُنھیں سائیکل چلانا بہت اچھا لگتا ہے۔

'اب سکول جانے کا بھی دل کرتا ہے۔ اِس لیے میں چاہتی ہوں کہ سب سے پہلے کلاس میں پہنچ جاؤں۔ ہم سب سہیلیاں صبح مل کر سکول جاتی ہیں اور چھٹی کے وقت ایک ساتھ واپس آتی ہیں۔'

عائشہ کے سکول میں گذشتہ تین سال سے تدریس کی ذمہ داریاں نبھانے والی ریحانہ نثار کہتی ہیں کہ سائیکلیں ملنے کے بعد لڑکیوں میں خود اعتمادی آئی ہے۔

'ابتدا میں لڑکیوں میں شرم اور جھجھک تھی کہ وہ سائیکل کیسے چلائیں گی اور لوگ کیا کہیں گے۔ لیکن اب وہ کہتی ہیں کہ لوگ کچھ بھی بولیں اُنھیں سکول جانا ہے۔

'طالبات نے پڑھائی میں بھی دلچسپی لینا شروع کر دی ہے اور بہت سی لڑکیوں کا رزلٹ بہتر ہوگیا ہے۔'

عائشہ بھی فخر سے بتاتی ہیں کہ اب اُن کی کلاس میں پوزیشن آتی ہے۔ کبھی فرسٹ، کبھی سیکنڈ اور کبھی تھرڈ۔

معاشرتی رویہ جو تبدیل ہوا

ارشاد احمد مغل مانتے ہیں کہ گاؤں کی کچی پکی سڑکوں پر سائیکلیں دوڑاتی یہ لڑکیاں معاشرتی رویے تبدیل کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

'اب ہمیں مزید طالبات اور اُن کے والدین کی طرف سے درخواستیں مل رہی ہیں کہ اُنھیں بھی ایسی ہی سائیکلیں فراہم کی جائیں۔ یہاں تک کہ اب علاقے کی خواتین ٹیچرز بھی چاہتی ہیں کہ اُنھیں موٹر سائیکلیں دی جائیں تاکہ اُن کے ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی حل ہوں۔'

اپنی نواسی کو روز صبح سائیکل پر سکول جاتے دیکھتی عائشہ کی نانی نسیم بیگم کو بالاخر یقین ہو چلا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے۔

'پہلے تھا کہ لڑکیوں پر پابندیاں تھیں۔ اُنھیں باہر نہ جانے دیں، اُنھیں پڑھائیں نہ۔ اب لڑکیاں سب کچھ کرتی ہیں۔ لڑکوں کے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ لڑکیاں موٹر سائیکل اور گاڑیاں چلا رہی ہیں، سائیکل کیا چیز ہے۔'

'مجھے ایک اور سائیکل چاہیے'

عائشہ کا خواب ہے کہ وہ بڑے ہو کر ڈاکٹر بنیں۔ 'مجھے لاہور جانا پڑے گا۔ پھر میں ڈاکٹر بنوں گی اور غریبوں کا علاج کروں گی۔'

نسیم بیگم کہتی ہیں کہ عائشہ آگے ضرور پڑھے گی۔ 'اگر عائشہ شہر یونیورسٹی جانا چاہے گی تو ہم سواری کا انتظام کریں گے۔ عائشہ کو پڑھنے کا شوق ہے وہ جہاں تک کہے گی ہم پڑھائیں گے۔'

لیکن ڈاکٹر بننے سے پہلے عائشہ ایک اور ضروری کام نمٹانا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں 'مجھے ایک اور سائیکل چاہیے۔ پھر ایک سائیکل میں خود چلاؤں گی اور دوسری پر اپنی چھوٹی بہنوں کو سکھاؤں گی۔'

آج سائیکل پر سکول جانے والی عائشہ کل گاڑی میں سفر کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔

'میں بڑی ہو جاؤں گی تو گاڑی چلانا بھی سیکھوں گی۔ اگر گاڑی چلانا آ گیا تو پھر سب کچھ ہی چلانا آ جائے گا۔'

اسی بارے میں