عاصمہ شیرازی کا کالم: وقت کم، مقابلہ سخت

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس میں شبہ نہیں کہ کپتان کا جادو اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر کے بعد سر چڑھ کر بول رہا ہے

اُمید اور ناامیدی کے درمیان فقط انتظار ہوتا ہے اور منتظر چہرے اضطراب کا شکار۔ اضطراب وہ واحد کیفیت ہے جسے جانچنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں۔

اضطرابی کیفیت میں امید کی کوئی اُمید نظر نہ آئے تو ہیجان جنم لیتا ہے اور ہیجان انتشار کا سبب بنتا ہے۔

بہر حال کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس وقت قوم کو معیشت کی بحالی کی اُمید ختم ہو رہی ہے اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔

گذشتہ ایک برس میں خود کو یقین دلاتے عوام امید اور نا امیدی کی کیفیت میں الجھتے چلے آ رہے ہیں۔ اعشاریے جیسے بھی ہیں دعوے جو بھی ہوں مگر سچ تو یہ ہے کہ عوام کی حالت دگرگوں ہوتی چلی جا رہی ہے۔

اس میں شبہ نہیں کہ کپتان کا جادو اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر کے بعد سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم پڑھیے

جمہوریت بمقابلہ فسطائیت

ہمیں کپتان واپس چاہیے!!!

’پیچھے نہیں، آگے دیکھو‘

تقریر کشمیر پر حاوی ہو گئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ سوال پھر جنم لے رہا ہے کہ ’اب آگے کیا۔۔۔؟‘

یہی وہ سوال ہے جس کا کوئی جواب کم از کم حکومت میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس وقت قوم کو معیشت کی بحالی کی اُمید ختم ہو رہی ہے اور اضطراب بڑھ رہا ہے

وزیراعظم کے پاس سب کچھ ہے، اختیار، اقتدار، اسباب۔۔۔ نہیں ہے تو کوئی ایسی طاقت نہیں جو چھومنتر کے ساتھ ہی پنجاب میں ناقص حکمرانی ٹھیک کر سکے۔ کوئی ایسی جادوئی چھڑی نہیں کہ گھمائیں تو صنعتیں چل پڑیں۔ کوئی ایسا چراغ نہیں کہ گھسائیں تو دن بہ دن چڑھتے قرضے اتارنے کی سبیل ہو۔

کوئی ایسی پھونک نہیں جو بجھتے چراغوں کو روشنی دے، کوئی ایسا استخارہ نہیں جو بے روزگاروں کو روزگار دے، کوئی ایسا دم نہیں جو غریبوں کے بے جان جسموں میں دم ڈال دے۔

مشکل ہے تو اُن کے لیے جن کی آرزوؤں کا واحد مرکز اور امیدوں کا محور یہی چنیدہ حکومت ہے۔

اب کیا کیا جائے۔۔۔ جلائی ہوئی تمام کشتیوں کے سرے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ راندہ درگاہ ایک بار پھر نوازنے کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیب کی ستائی حزب اختلاف میں کہیں اُمید نے انگڑائی لی ہے لیکن نہ تو نواز شریف فی الحال باہر آنے کو تیار ہیں نہ ہی زرداری صاحب کوئی دلچسپی رکھتے ہیں

نیب کی ستائی حزب اختلاف میں کہیں اُمید نے انگڑائی لی ہے لیکن نہ تو نواز شریف فی الحال باہر آنے کو تیار ہیں نہ ہی زرداری صاحب کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی لیے تاحال اُن کی جانب سے ضمانت کی کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔

اخیر نومبر تک چھڑی نہیں ہلے گی لیکن دسمبر کے بعد چھڑی کو ہلنا تو ہے ہی۔

مولانا کے دھرنے نے جو سراسیمگی پھیلائی ہے اُس کا توڑ بھی ڈھونڈا جا رہا ہے۔ منتشر حزب اختلاف اور عدم کارکردگی دکھانے والی حکومت دونوں ہی درد سر بن رہے ہیں۔

حزب اختلاف کی سیاست کی کمان کس کے ہاتھ ہے یہ بھی مسئلہ۔۔۔ اور حکومت کی کمان فرد واحد کے پاس ہے، یہ بھی مجبوری۔۔۔

اپوزیشن کے مطالبات بھی ناممکن اور حکومت کی خواہشات بھی لا محدود۔۔۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر تناؤ، امریکہ، سعودی، ایرانی اور چینی دائرہ تنگ تو اندرونی محاذ پر صف آراء سیاسی طاقتیں، کہیں جیلوں کا دباؤ، کہیں باہر والوں کی طنابوں کو کھینچنے کی تگ و دو۔

غرض چارہ گر، کیا چارہ کریں۔۔۔ یہ ایک انوکھی صورتحال ہے۔ بہر حال اب گتھیوں کو سلجھانا تو ہے ہی۔

کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی کو اُمید دلانا ہے، کارکردگی دکھانی ہے، عوام کو نا امیدی سے بچانا ہے تاکہ ہیجان برپا نہ ہو اور انتشار سے بچا جا سکے۔۔۔

ڈور جن کے ہاتھ ہے انھی کو سرا ڈھونڈنا ہے، گیم جہاں سے الجھی ہے وہیں سے سلجھنی ہے۔۔۔ بہر حال وقت کم مقابلہ سخت ہے۔

اصل امتحان حکومت یا اپوزیشن کا نہیں فیصلہ سازوں کا ہے۔

اسی بارے میں