کیا پاکستان ایئرلائنز پر پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عائد کر پائے گا؟

ہائی فلائی تصویر کے کاپی رائٹ Hi Fly/Twitter
Image caption عام طور پر ایئر لائنز اس کچرے کو سمندر میں ہی پھینک دیتی ہیں

پاکستان نے بیزل کنونشن کے تحت تمام ایئرلائنز کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ پاکستان میں آنے والی تمام پروازوں میں پلاسٹک کا استعمال ترک کر دیں۔

پاکستان کے شعبہ ہوابازی کی جانب سے یہ احکامات رواں برس 21 جون کو جاری کیے گئے تھے تاہم رواں ہفتے ہوابازی ڈویژن کے جوائنٹ سیکرٹری نے موسمیاتی تبدیلی پر وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر ملک امین اسلم کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ان احکامات کے مطابق تمام ایئرلائنز اور تمام مقامی ہوائی اڈوں پر ’سنگل یوز پلاسٹک‘ یعنی ایک مرتبہ استعمال کیے جانے والے پلاسٹک کو ترک کرنے کی بات کی گئی تھی۔

ہوابازی ڈویژن کے اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ احکامات تمام مقامی اور بین الاقوامی ایئرلائنز کو جاری کیے گئے ہیں تاہم آغاز میں جرمانے عائد کرنے کی بجائے صرف یاد دہانی کرائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

ہوائی اڈوں پر سامان کی پلاسٹک ’ریپنگ‘ کا حکم منسوخ

کیا پولی تھین کے تھیلوں سے آزادی ممکن ہے؟

’ایئرلائن مخصوص سائز کا لباس پہننے کا حکم نہیں دے سکتی‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ کیونکہ صرف اسلام آباد میں پلاسٹک کے استعمال پر پابندی ہے اس لیے فی الحال اسلام آباد کے ایئرپورٹ پر ہی ان احکامات کا نفاذ ممکن ہو سکے گا۔

پاکستان کے دیگر ہوائی اڈوں پر ان احکامات کا اطلاق کیسے کیا جائے گا، اس حوالے سے صورتحال فی الحال واضح نہیں ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد میں اس پابندی کا نفاذ 1997 کے ماحولیاتی تحفظ کے قانون کے تحت رواں برس 14 اگست سے کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بیزل کنونشن ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو ترقی یافتہ ممالک سے غیر ترقی یافتہ ممالک کے درمیان نقصان دہ کچرے کی منتقلی کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا

تاہم چائنیز سدرن ایئرلائنز نے سوال اٹھایا ہے کہ ان احکامات کو کس قانون کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ ہوابازی ڈویژن کے مطابق اس حوالے سے چینی ایئر لائن کو جواب ارسال کیا جا چکا ہے۔

بیزل کنونشن کیا ہے؟

بیزل کنونشن ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو ترقی یافتہ ممالک سے غیر ترقی یافتہ ممالک کے درمیان نقصان دہ کچرے کی منتقلی کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔

یہ معاہدہ سنہ 1992 میں عمل میں آیا اور اکتوبر سنہ 2018 تک اس معائدے پر یورپی یونین سمیت 187 ممالک نے دستخط کر لیے تھے۔

سنہ 1995 میں اس معائدے میں ’بین ایمینڈمینٹ‘ کی گئی تھی یعنی ایسے ممالک جو اپنا کچرا خود تلف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان پر اسں کی منتقلی پر پابندی عائد کرنے کے لیے ترمیم کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اب تک سمندروں میں پھینکے گئے کچرے کا وزن 10 کروڑ ٹن ہے

تاہم اس کے اطلاق کے لیے 75 فیصد ممالک کا اس ترمیم کو تسلیم کرنا ضروری تھا۔

رواں ماہ کی چھ تاریخ کو کروشیا اس ترمیم کو تسلیم کرنے والا 97واں ملک بن گیا جس کے بعد یہ ترمیم ان تمام ممالک پر لاگو ہوتی ہے جنھوں نے بیزل کنونشن کو تسلیم کر رکھا۔

اب اس ترمیم کا اطلاق دو دسمبر سے ہو جائے گا اور نقصان دہ کچرے کی منتقلی کی روک تھام کی جا سکے گی۔

پاکستان نے اس ترمیم کو تو اب تک تسلیم نہیں کیا تاہم پاکستان نے بیزل کنوشن پر دستخط ضرور کر رکھے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پلاسٹک پر پابندی کیوں؟

رواں برس ابو ظہبی کی ایئرلائن اتحاد ائیرویز نے انکشاف کیا تھا کہ ہر سال ان کی پروازوں میں استعمال کیے جانے والے کافی کپ کے ڈھکنوں کا مجموعی وزن دو کروڑ سات لاکھ ٹن ہوتا ہے۔

عام طور پر ایئر لائنز اس کچرے کو سمندر میں ہی پھینک دیتی ہیں تاہم موسمیاتی تبدیلی اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کی بڑھتی تعداد کے باعث ایئر لائنز اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رواں برس اتحاد ائیرویز نے انکشاف کیا تھا کہ ہر سال ان کی پروازوں میں استعمال کیے جانے والے کافی کپ کے ڈھکنوں کا مجموعی وزن دو کروڑ سات لاکھ ٹن ہوتا ہے

پرتگال کی ائیر لائن کے چیف اگزیکٹو افسر پالو میرپوری نے اس حوالے سے رواں برس کینیڈین ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’انسانوں کو لگتا ہے کہ سمندر خوراک اور راحت پانے کا ایک نا ختم ہونے والا ذخیرہ ہے اور ساتھ ہی ایک لامحدود کوڑے دان بھی۔‘

’ہم پلاسٹک کی آلودگی اور اس سے انسانوں کی صحت پر ہونے والے اثرات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اب تک سمندروں میں پھینکے گئے کچرے کا وزن 10 کروڑ ٹن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hi Fly/Twitter
Image caption گذشتہ برس دسمبر کے مہینے میں پرتگال کی ہائی فلائی نامی ائیر لائن نے پہلی 'پلاسٹک سے پاک' پرواز بھیجی

دنیا میں ائیر لائنز کیا اقدامات اٹھا رہی ہیں؟

گذشتہ برس دسمبر کے مہینے میں پرتگال کی ہائی فلائی نامی ائیر لائن نے پہلی ’پلاسٹک سے پاک‘ پرواز بھیجی۔ اس تجربے کے دوران پرتگال کے دارالحکومت لسبن سے چار رٹرن پروازیں بھیجی گئیں۔

ایئر لائن کے مطابق ان پروازوں میں 700 مسافروں کے لیے تقریباً 350 کلو ’سنگل یوز‘ پلاسٹک بچایا گیا۔

ان پروازوں میں پلاسٹک کے کپ، چمچ، نمک اور کالی مرچ کی بوتلوں، ہنگامی شاپروں ،پلیٹوں اور ٹوتھ برشوں کی جگہ لکڑی اور کاغذ کے متبادل رکھ دیے گئے تھے۔

ہائی فلائی ایئر لائن کا دعویٰ ہے کہ وہ رواں برس کے آخر تک اپنی پروازوں کو مکمل طور پر ایک مرتبہ استعمال کیے جانے والے پلاسٹک سے پاک کر دے گی۔

ساتھ ہی آئرش ایئرلائن ریان ایئر نے سنہ 2023 تک ’گرینیسٹ ایئرلائن‘ بننے کے منصوبے کے تحت اپنی پروازوں اور دفتروں کو پلاسٹک سے پاک کرنے کا عہد کیا ہے۔

ریان ایئر کی حریف ایئر لائن ایزی جیٹ نے اپنی پروازوں میں ایک مخصوص پودے کی مدد سے بنے ایسے کپس متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جنھیں تلف کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hi Fly/Twitter

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ اسوسیئیشن (آئی اے ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2017 میں مسافروں کی جانب سے پیدا کیے جانے والے کچرے کا وزن 57 لاکھ ٹن تھا۔ ان کے مطابق اگر اس حوالے سے کوئی کارروائی نہ کی گئی تو اس کچرے میں دو گنا اضافے کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ ایئر نیوزی لینڈ نے بھی اپنی پروازوں میں ایسی بہت ساری اشیا پر پابندی عائد کی ہے جن میں پلاسٹک استعمال کیا جاتا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ آئندہ برس ایسی 14 مزید اشیاء پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

اسی بارے میں