آزادی مارچ: اسلام آباد کا ڈی چوک آباد ہونے کو ہے!

دھرنا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مولانا گرفتاری کی صورت میں متبادل قیادت اور تین متبادل منصوبے پہلے ہی ترتیب دے چکے ہیں

مولانا فضل الرحمان نے بالآخر ’مارچ پلس دھرنے‘ کا اعلان کر دیا۔

27 اکتوبر کو کشمیری عوام انڈیا کے خلاف یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔۔۔ اس دن جگہ جگہ احتجاج کرتے ہوئے ریلیاں اسلام آباد کے شاہراہ دستور یا ڈی چوک کی طرف روانہ ہو جائیں گی۔

مولانا گرفتاری کی صورت میں متبادل قیادت اور تین متبادل منصوبے پہلے ہی ترتیب دے چکے ہیں۔

مولانا کیا چاہتے ہیں، کیوں چاہتے ہیں اور کیسے چاہتے ہیں یہ سوالات اہم ہیں؟

ایک سوال یہ بھی ہے کہ ماضی میں کوئی دھرنا یا لانگ مارچ اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد کے بغیر کامیاب نہیں ہوا۔ یہاں ابھی کل ہی آرمی چیف تاجروں سے ملے اور انھیں اخباری اطلاعات کے مطابق صاف کہا کہ تاجر برادری حکومت مخالفین کا ساتھ نہ دے۔

عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم

عزیز ہم وطنو!

وقت کم، مقابلہ سخت

روک سکو تو روک لو!

سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی

کیا مولانا ایک کامیاب دھرنا دے سکتے ہیں؟ یہ بھی اہم ہے کہ دھرنے کی ناکامی کی صورت میں تحریکِ انصاف کی حکومت کو مزید طاقت ملی تو کیا ہو گا؟

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے مرکزی رہنماؤں کے مطابق مذہب کارڈ کے استعمال پر تحفظات سے متعلق تمام سوالات مولانا کے سامنے رکھے گئے ہیں جن پر کئی روز بحث مباحثہ جاری رہا، بلاآخر دھرنے کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی نے اس کا خیر مقدم اور ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے چند اور روز سوچنے کا وقت مانگ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دھرنے کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی نے اس کا خیر مقدم اور ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے چند اور روز سوچنے کا وقت مانگ لیا

اُدھر شہباز شریف اور نواز شریف کی میٹنگ میں نواز شریف نے مہنگائی کے علاوہ کسی بھی اور مارچ میں شرکت کی حامی تاحال نہیں بھری۔ نواز شریف اور بلاول اس معاملے میں ایک صفحے پر ہیں کہ کسی بھی طرح عوامی جذبات کی نمائندگی کے علاوہ بات نہ کی جائے۔

بظاہر مولانا فضل الرحمن، پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اس حکومت کو گھر بھجوانا ہے، البتہ طریقہ کار اور لائحہ عمل میں اختلاف ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتیں اس دھرنے کو ’اینڈ گیم‘ قرار دیتے ہوئے تین نتائج کو بھانپ رہی ہیں۔

نمبر ایک: وزیراعظم استعفی دیں اور اسمبلی کو برخواست کر کے عام انتخابات کا اعلان کیا جائے۔

نمبر دو: وزیراعظم کے استعفے کی صورت میں اگر اُن کی جماعت سے کوئی اور وزیراعظم بننا چاہے تو اسے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا، ایسی صورت میں حزب اختلاف اتحادیوں سے رابطہ کرے گی اور انھیں یقین ہے کہ عوامی دباؤ اتحادیوں سے ان کی حمایت میں فیصلہ کروائے گا۔

نمبر تین: اپوزیشن کی کامیابی کی صورت میں ان کا نمائندہ وزیراعظم انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے گا اور اصلاحات کی تکمیل کے بعد عام انتخابات کا اعلان کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگلے تین ماہ میں متوقع چند ایک سیاسی و عدالتی واقعات خاصی اہمیت کے حامل ہوں گے

یہ سب وہ نکات ہیں جن پر اپوزیشن سوچ بچار کر رہی ہے۔

دوسری جانب حکومت اس صورت حال سے نمٹنے کی کوششوں میں ہے۔ طاقت کا استعمال معاملات خراب کر سکتا ہے جبکہ مذاکرات کی صورت میں حکومت کو لے اور دے کی بنیادوں پر چلنا ہو گا۔

اس لین دین میں مذاکرات کون کرے گا اور کس سے ہوں گے یہ نکتہ انتہائی اہم ہے۔ البتہ غور طلب بات یہ ہے کہ اگلے تین ماہ میں متوقع چند ایک سیاسی و عدالتی واقعات خاصی اہمیت کے حامل ہوں گے۔

نواز شریف کی جانب سے اپیل پر تین ماہ کا وقت مانگا جانا، آصف زرداری کی جانب سے ضمانت کی درخواست کا دائر نہ کرنا اور حکومتی اتحادی سردار اختر مینگل کا حکومت کو آخری تین ماہ کی ڈیڈ لائن دینا، کئی اہم اشارے دیتے ہیں۔ ایسے میں کیا اگلے سال کا آغاز سیاسی سرپرائز دے سکتا ہے؟

اسی بارے میں