والٹن ایئرپورٹ: لاہور کا سب سے پرانا ہوائی اڈہ کہاں گیا؟

والٹن ایئرپورٹ

اگر آپ لاہوری ہیں تو آپ نے یقیناً لاہور کے پرانے ہوائی اڈے کو دیکھا ہو گا اور وہاں سے اڑتے ہوئے طیارے آپ کو یاد ہوں گے

ہم یہاں لاہور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نہیں بلکہ اس سے بھی پرانے اس ایئرپورٹ کی بات کر رہے ہیں جو خطے میں ہوابازی کے بانیوں کی آماجگاہ رہا ہے۔

لاہور کا والٹن ایئرپورٹ پاکستان نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی ہوا بازی کی تاریخ میں تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

ماضی میں یہ صوبائی دارالحکومت لاہور کا مرکزی ایئرپورٹ تھا تاہم لاہور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر کے بعد 1961 میں والٹن ایئرپورٹ کو جنرل ایوی ایشن کے لیے معین ہوائی اڈے میں تبدیل کر دیا گیا۔

اس ہوائی اڈے کی بنیاد 100 برس قبل رکھی گئی اور اس کے بعد اسے دوسری عالمی جنگ، 1965 اور 1971 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی دونوں جنگوں کے دوران عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

تقسیم کے بعد سے اب تک اس تاریخی ایئرپورٹ نے بہت کچھ دیکھ رکھا ہے اور اب اسے نہ صرف پائلٹس کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ اس ہوائی اڈے کے مستقبل کے لیے بڑے منصوبے موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Walton Archives

والٹن ایئرپورٹ کب اور کیسے وجود میں آیا؟

1918 میں ہندوستان کے وزیر برائے بلدیات حکومت پنجاب سر گوکول چند نارنگ کی سربراہی میں ہوا بازوں کے ایک گروپ نے ایک فضائی پٹی یعنی ایئر فیلڈ کے قیام کے لیے حکومت ہند (یعنی تاج برطانیہ) سے اجازت کے لیے درخواست دی۔

سنہ 1920 میں محکمہ جنگلات پنجاب کی جانب سے اس گروپ کو کوٹ لکھپت اور قریبی گاؤں بھابڑہ میں ایئرفیلڈ کے قیام کے لیے تقریباً 158 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی۔

اس ایئر فیلڈ پر پروازوں کا آغاز 1920 میں اس وقت ہوا جب سر گوکول چند نارنگ نے فرانسیسی کوغدوں بردران کا بنایا ہوا ایک کوغدوں جی تھری طیارہ عطیہ کیا۔ یہ طیارہ صرف چھ سال قبل ہی تیار ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Walton Archives
Image caption فرانسیسی کوغدوں بردران کا بنایا ہوا ایک کوغدوں جی تھری طیارہ

1922 میں اس کلب کو باضابطہ طور پر ناردرن انڈین فلائنگ کلب کے طور پر مقامی رجسٹریشن آفس میں رجسٹرڈ کیا گیا اور عام لوگوں میں ہوابازی کے فروغ کے لیے پائلٹس کی تربیت، ڈاک کی ترسیل اور تفریحی پروازوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

سنہ 1929 میں سر گوکول چند نارنگ اور ان کے ساتھی ہوابازوں نے طیاروں کی خریداری، عمارتوں کی تعمیر اور سازو سامان کی خریداری کے لیے تاج برطانیہ کے اعلی اہلکاروں کو عطیات کے لیے درخواستیں دیں مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔

اس کی بنیادی وجہ اس کلب کی تشکیل کی ساخت تھی یعنی جس انداز میں اس کو بنایا گیا تھا وہ اس راہ میں رکاوٹ بنا۔ جا کے بعد اسے بدلنے کا فیصلہ کیا گیا۔

لیکن 1930 میں کلب کے سالانہ عام اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ کلب کو رجسٹرڈ کروا کر اس کی حیثیت کو بدلا جائے گا اور اسے ایک کمپنی بنایا جائے گا۔ تاکہ فنڈز جمع کیے جائیں تاکہ آنے والے برسوں میں ہوابازی کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Walton Archives
Image caption سنہ 1933 میں جپسی موتھ سے لیا گیا لاہور مال روذ کا ایک فضائی منظر

اس فیصلے کے دو سال بعد 1932 میں ناردرن انڈین فلائنگ کلب کو باقاعدہ طور پر کمپنی کا درجہ دیا گیا جس کا مقصد ہوابازی اور اس کی تربیت کو فروغ دینا تھا۔

اس فیصلے نے کلب کی قسمت کا پانسہ پلٹ دیا اور 1933 میں کلب نے برطانوی طیارہ ساز کمپنی ڈی ہیوی لینڈ ایئرکرافٹ کمپنی کے بنائے ہوئے دو دو نئے طیارے جپسی موتھ خرید کر بیڑے میں شامل کیے۔

ان طیاروں کو نا صرف ہوا بازی اور تربیت کے لیے استعمال کیا گیا بلکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Walton Archives
Image caption سر کرنل کیوسیک والٹن

فلائنگ کلب کو کمپنی کا درجہ دینے کے بعد 1933 میں سر گوکول چند نارنگ نے والٹن ریلوے ٹریننگ سکول کے بانی اور ہندوستان کے شمال مغربی ریلوے کے ایجنٹ سر کرنل کیوسیک والٹن کو اس کلب کی سرپرستی کے لیے رضامند کر لیا۔

اس سے باقاعدہ طور پر اس کلب کی سربراہی حکومت کے زیر سایہ آ گئی۔

سر والٹن نے اس ہوائی اڈے پر ہینگرز اور رن وے کی تعمیر و ترقی کے لیے حکومت سے کئی گرانٹس حاصل کیں اور ان کی انھی خدمات کے پیش نظر 1935 میں اس فضائی پٹی کو والٹن ایئر فیلڈ کا نام دیا گیا۔

ہندوستان کی پہلی خاتون ہوا باز

تصویر کے کاپی رائٹ Walton Archives
Image caption 1936 میں صرف 21 برس کی عمر میں سرلا ٹھاکرال نے ہوابازی کا لائسنس حاصل کیا

اسی دوران 1935 میں سرلا ٹھاکرال نے یہاں سے اپنے فضائی کرئیر کا آغاز 21 برس کی عمر میں کیا۔ سرلا پہلی ہندوستانی خاتون ہیں جنھوں نے بطور پائلٹ طیارہ اڑایا۔

ان کو اس کام کی تربیت دینے والے کوئی اور نہیں بلکہ ناردرن انڈین فلائنگ کلب کے رکن اور ان کے شوہر پی ڈی شرما تھے۔

1936 میں صرف 21 برس کی عمر میں سرلا ٹھاکرال نے ہوابازی کا لائسنس حاصل کر لیا۔ انھوں نے ناردرن انڈین فلائنگ کلب سے اپنی پروازوں کے 1000 گھنٹے مکمل کیے۔

اسی سال گورنر کی درخواست پر نئے سال کے موقع پر والٹن ائیرپورٹ پر ایئرشو کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں ناردرن انڈین فلائنگ کلب نے اہم کردار ادا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Walton Archives

پنجاب ایگزیکٹو کونسل کے ریوینو ممبر سردار بہادر سر سندر سنگھ مجیٹھیا نے 1937 میں والٹن ایئرپورٹ کے رن ویز کی سطح کنکریٹ کی بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

1941 میں اپنے انتقال سے قبل تک وہ والٹن ایئرپورٹ کے انتہائی متحرک ہوا باز بھی رہے۔

دوسری عالمی جنگ

اس کے بعد 1939 میں دوسری عالمی جنگ کے شروع ہوتے ہی یہاں پر سویلین ہوبازی کو معطل کر دیا گیا اور اسے مکمل طور پر عسکری کارروائیوں اور تربیت کے لیے استعمال کیا گیا۔

برطانیہ کی شاہی فضائیہ نے والٹن ایئر فیلڈ کو جنگ کے دوران اہم کارروائیوں کے لیے استعمال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Walton Archive

تقسیمِ ہند

برصغیر کی تقسیم کے وقت لاہور کا یہ ہوائی اڈہ ایک عارضی کیمپ کی شکل اختیار کر گیا۔

انڈیا سے پاکستان ہجرت کرنے والے لاکھوں افراد جب لٹے پٹے نئے وطن پہنچے تو اس ہوائی اڈے کے وسیع میدان میں ہی انھیں پناہ ملی۔

اس مقصد کے لیے یہاں خیمہ بستی اور ہسپتال قائم کیے گئے تھے۔

بانی پاکستان کا استقبال

پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے بانی محمد علی جناح جب پاکستان پہنچے تو ان کا طیارہ اس نئے ملک میں پہلی بار لاہور کے والٹن ایئرپورٹ پر ہی اترا تھا۔

اس موقع پر انھوں نے استقبال کے لیے آئے ہوئے ہزاروں افراد سے خطاب کیا جسے پاکستان کی تاریخ میں تاریخی اہمیت حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Walton Archives

اوریئنٹ ایرویز کا مرکز اور پی آئی اے کا قیام

تقسیم ہند سے تقریباً ایک برس قبل مرزا احمد اصفہانی نے آدم جی اور اراگ گروپ کی مدد سے کلکتہ میں 23 اکتوبر 1946 کو اورینٹ ایئرویز کی بنیاد رکھی تھی۔

ہندوستان کی تقسیم کے بعد اس فضائی کمپنی نے اپنے آپریشنز پاکستان منتقل کر لیے اور والٹن ایئرپورٹ اس میں ایک اہم حیثیت کا حامل رہا۔

ابتدائی طور پر اس اورینٹ ایئرویز کراچی سے لاہور اور لاہور سے پشاور کے ساتھ ساتھ کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے لاہور تک اپنی پروازیں چلاتی تھی۔

یہیں سے بعد میں 1949 میں پہلی حج پرواز گئی۔ 11 مارچ 1955 کو حکومتِ پاکستان نے اس کمپنی کو اپنی تجویز کردہ فضائی کمپنی میں ضم کر لیا اور یوں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن وجود میں آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Walton Archives

پائلٹس کی تربیت کا آغاز

اس کے بعد 1951 میں ہی والٹن ایئرپورٹ پر ناردرن انڈین فلائنگ کلب میں کمرشل پائلٹس کی تربیت کا سلسلہ شروع ہوا۔

سول ایوی ایشن کی ایک سکیم کے تحت لوگوں کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ تربیت حاصل کر کے بطور پائلٹ ایئر لائنز میں شمولیت اختیار کریں۔ اس سکیم کے تحت 31 پائلٹس کو تربیت دی گئی۔

یوں 1952 میں پاکستان ایئرفورس کی جانب سے ٹریننگ یونٹس یونیورسٹی ایئر سکواڈرن کو تشکیل دیا گیا۔

پی اے ایف نے 80 کیڈٹس کو بھرتی کیا گیا اور فضائی تربیت کے لیے پہلے ناردرن انڈین فلائنگ کلب اور پھر مزید تربیت کے لیے رسالپور اور کوئٹہ بھیجا گیا۔

1953 میں والٹن ایئرپورٹ پر چارٹرڈ پروازوں کا آغاز کیا گیا اور اس کے ایک سال بعد 1954 میں ناردرن انڈین فلائنگ کلب کا نام تبدیل کر کے اسے لاہور فلائنگ کا نام دے دیا گیا جو آج تک برقرار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIA

قیامِ پاکستان کے بعد اورینٹ ایئرویز اور پھر پی آئی اے دونوں نے والٹن کے فضائی اڈے کا استعمال جاری رکھا۔

اس وقت تک پی آئی اے کے زیرِاستعمال طیارے بآسانی اس ہوائی اڈے کے رن وے پر اتر سکتے تھے تاہم جب پی آئی اے نے بڑے طیارے خصوصاً بوئنگ 702 خریدے تو اس کے لیے اس ہوائی اڈے کا رن وے چھوٹا پڑنے لگا۔

اس پر حکومت نے لاہور انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنانے کا فیصلہ کیا جو اب خود جگہ کی کمی کے باعث علامہ اقبال ایئرپورٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

1962 میں لاہور کے نئے ایئرپورٹ کے قیام کے بعد تمام ایئرلائنز کے فضائی آپریشنز کو والٹن سے لاہور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر منتقل کر دیا گیا اور والٹن ایئرپورٹ جنرل ایوی ایشن کے لیے مخصوص ہوائی اڈے میں تبدیل کر دیا گیا۔

جنگ میں اہم آپریشن اور فضائی سپرے

پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1965 اور 1971 میں لڑی جانے والی دونوں جنگوں میں بھی والٹن ایئرپورٹ نے اہم کردار ادا کیا۔

اس جنگ کے دوران آرمی ایوی ایشن اور پاکستان ایئرفورس نے اپنے متعدد آپریشنز کے لیے اسی ہوائی اڈے کا استعمال کیا۔

Image caption رن وے سے ہینگر تک پہنچے کے لیے سڑک کے دونوں اطراف پاکستان بحریہ کی عمارتیں ہیں اور ان کے بیچوں بیچ ایک راستہ ہینگر تک جاتا ہے

1976 میں پاکستان کی موجودہ وزارت برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اور ریسرچ کے پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ نے اپنے فضائی یونٹ کو والٹن ایئرپورٹ پر منتقل کر دیا۔

یہ محکمہ فصلوں پر کیڑوں کے حملے کنٹرول کے لیے کام کرتا ہے مگر اب والٹن ہوائی اڈے پر ان کے لیے جگہ تنگ ہوتی جا رہی ہے۔

رن وے سے اس محکمے کے ہینگر تک جانے کے لیے جو سڑک موجود تھی اسے بھی کچھ عرصہ قبل تک دیوار بنا کر بند کر دیا گیا تھا۔

حال ہی میں ٹڈی دل کے حملے کے بعد جب سپرے کے لیے طیاروں کو اڑان کا حکم ملا تو دیوار گرا کر طیارے جنوبی پنجاب روانہ کیے گئے۔

والٹن ایئرپورٹ کی موجودہ صورتحال

ہزاروں پائلٹس آج بھی لاہور کے والٹن ایئرپورٹ پر موجود مختلف فلائنگ کلبز سے تربیت حاصل کر کے اپنے فضائی کریئر کا آغاز کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ameer Hamza
Image caption حمنیٰ خان جیسے ہزاروں پائلٹ والٹن ایئرپورٹ پر موجود مختلف فلائنگ کلبز سے تربیت حاصل کر کے اپنے فضائی کریئر کا آغاز کرتے ہیں

یہاں موجود لاہور فلائنگ کلب جنوبی ایشیا کے ابتدائی فلائنگ کلب کی حیثیت رکھتا ہے۔

لاہور فلائنگ کلب نے نہ صرف پاکستان میں ہوا بازی کی تربیت کے سلسلے میں خدمات سرانجام دیں ہیں بلکہ یہ دنیا بھر کی مختلف ایئر لائنز کو بھی ماہر ہوا باز مہیا کرتا رہا ہے۔

ہوائی اڈے کے مینیجر کے بقول گذشتہ دو برسوں کے دوران ہوائی اڈے کی چار دیواری اور کنٹرول ٹاور تعمیر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ یہاں ایک ایگزیکیٹو لاؤنج بھی بنایا گیا ہے تاکہ اسے کاروباری ایوی ایشن کے لیے پرکشش بنایا جائے۔

تاہم ایک صدی قبل 158 ایکڑ رقبے پر پھیلا یہ ہوائی اڈہ اب سکڑتے سکڑتے چھوٹے سے ایک رن وے اور چند ہینگرز تک محدود ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ameer Hamza

ایک جانب فضائیہ کی کالونی اور عقب میں پاکستانی بحریہ کی کالونی پھیلتے پھیلتے ہوائی اڈے کے رن وے تک آن پہنچی ہیں لیکن عسکری اور سول ایوی ایشن اور بیوروکریسی کے درمیان یہ تاریخی ورثہ بظاہر تنگ ہوتی زمین کے باوجود سینکڑوں نوجوانوں کے خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے اپنا دامن کھولے بیٹھا ہے۔

والٹن سے رخصت ہوتے ہوئے اس ہوائی اڈے سے منسلک ایک فرد کی بات ذہن میں اٹکی رہی کہ 'قبضہ گیروں اور مفادات کے تصادم میں ہر روز یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کسی دن رن وے پر بھی ایک دیوار ہو گی جس کے پیچھے ایک رہائشی سکیم مستقبل کے ہوابازوں کی امیدوں پر ایک آسیب کی طرح قبضہ جمانے پھیل رہی ہو گی۔‘

سوال یہ ہے کب تک والٹن اپنا وجود بچا کر رکھ سکے گا اور کب کسی کو خیال آئے گا کہ اس ہوائی اڈے کا ایک تاریخی مقام تو ہے ہی لیکن اس کے محل وقوع کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہنگامی حالات میں اس ہوائی اڈے سے شہر کے اہم ہسپتالوں اور دیگر مقامات تک رسائی محض چند منٹ میں ممکن ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں