مولانا فضل الرحمان کا ایجنڈا، سیاسی ایجنڈا نہیں ہے: تحریکِ انصاف

فضل الرحمان، تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے تحریکِ انصاف کی حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کے اعلان کے بعد جہاں حکومت کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے وہیں سوشل میڈیا پر بھی دونوں جماعتوں کے حامیوں کے مابین نیا محاذ کھل گیا ہے۔

پیر کو وفاقی حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو قانونی نوٹس بھیجنے اور جواب نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیرِ امورِ کشمیر علی امین گنڈاپور نے پیر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے خلاف الزامات کی ایک طویل فہرست پیش کی اور اعلان کیا ہے کہ انھیں جواب دہی کے لیے ایک نوٹس بھجوایا جائے گا اور اگر انھوں نے جواب نہ دیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے ’ایک مذموم ایجنڈے کے تحت پاکستان کی ریاست کو متنازع اور نفرت کا نشانہ بنانے کے لیے ایسے وقت میں بے بنیاد مہم شروع کی‘ جب ان کے مطابق حکومت، ریاست اور عوام انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور وہاں جنم لینے والی انسانی حقوق کی صورتحال کے خلاف یکسو ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد کا ڈی چوک آباد ہونے کو ہے!

آزادی مارچ: اپوزیشن اور حکومت کہاں کھڑی ہیں؟

حکومت مخالف تحریک: اگر مولانا فضل الرحمٰن مان جاتے ہیں؟

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے مدارس کے بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے حکومت کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انھوں نے مدارس کے طلبا کے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اس مارچ میں ’استعمال ہونے‘ سے بچائیں۔

انھوں نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں گنواتے ہوئے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ یہ سب اس وقت ہوا جب ان کے پاس کشمیر کمیٹی کا بنگلہ، گاڑی، دفتر اور قومی خزانے سے اس مقصد کے لیے بھاری فنڈز موجود تھے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس مولانا فضل الرحمان کے خلاف ثبوت موجود ہیں جن کی بنیاد پر انھیں ’سزا ہو گی‘۔

ایک صحافی کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہر پارٹی کو سیاسی احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن ’یہ سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔‘

علی امین کا کہنا تھا کہ ’یہ سیاسی ایجنڈے کے لیے، احتجاج کے لیے متعین جگہوں پر آ جائیں، ہم انھیں سہولیات بھی دیں گے اور پانی بھی فراہم کریں گے۔‘

مولانا فضل الرحمان یا ان کی جماعت کی جانب سے تاحال وفاقی وزیر کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم آزادی مارچ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اس سے منسوب جعلی مواد کی گردش میں تیزی آ گئی ہے۔

اتوار کو سوشل میڈیا پر جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسوب دھرنے اور احتجاج کے بارے میں ایک پیغام گردش کرتا نظر آیا جس میں شامل متنازع باتیں انٹرنیٹ پر بحث کا موضوع بنی رہیں۔

اس نوٹیفیکیشن میں کارکنان کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دھرنے میں شرکت کے لیے اپنے ساتھ اشیائے خور و نوش اور دیگر ذاتی سامان کے علاوہ پولیس کے لاٹھی چارج کی صورت میں مقابلے کے لیے اپنے ساتھ ڈنڈے بھی لائیں۔

سب سے زیادہ متنازع اس پیغام کی شق نمبر چھ تھی جس میں دھرنے کے کارکنان کے ہم جنس پرستی کے عمل کرنے کو امیر کی اجازت سے مشروط کیا گیا تھا۔

پیغام سامنے آنے کے بعد فوری طور پر جماعت کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس کی تردید کر دی گئی تاہم اس کے باوجود #شق_نمبر6 پیر کو ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا اور صارفین کی جانب سے اس پر تبصروں کا سلسلہ جاری رہا جن میں سے بیشتر یہاں دوبارہ نقل کرنے کے قابل نہیں۔

تاہم بات یہاں تھمی نہیں اور پیر کی دوپہر اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر سے منسوب ایک پیغام ٹوئٹر پر گردش کرنے لگا جس میں کہا گیا تھا کہ 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں ایک سیاسی جلسے کے دوران ’لواطت‘ کا خدشہ ہے اور انتظامیہ ایسے کسی بھی اقدام سے سختی سے نمٹے گی۔

لیکن اس جعلی نوٹیفیکیشن کا انجام بھی جلد ہی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کی جانب سے اس وضاحت کے ساتھ ہو گیا کہ یہ نوٹیفیکیشن جعلی ہے اور ان کی جانب سے ایسا کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں