الطاف میر: اننت ناگ میں احتجاج سے کوک سٹوڈیو میں گلوکاری تک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
الطاف میر کوک سٹوڈیو میں اپنے گائے ہوئے کشمیری گانے کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں

انڈیا کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن نے جہاں وہاں کے مقامی افراد کی زندگی اجیرن کر دی ہے وہیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم ایسے افراد کی پریشانی بھی کم نہیں ہو رہی جو رشتوں کی ڈور سے ان لوگوں سے بندھے ہوئے ہیں۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے متعدد کشمیری پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

حالات کی حالیہ خرابی سے پہلے ایسے افراد کا سرحد پار اپنے خاندانوں سے ملنا جلنا رہا ہے لیکن بگڑتی ہوئی صورتحال کے نتیجے میں اب یہ لوگ سرحد پار اپنی بات پہنچانے اور وہاں کی خیریت معلوم کرنے سے قاصر اور بےچین ہیں۔

مزید پڑھیے

’موبائل بحال کیے تو سرحد پار سے جعلی پیغام آئیں گے‘

وکلا کی ہڑتال: سرینگر ہائی کورٹ میں مقدمات التوا کا شکار

انھی لوگوں میں 45 سالہ الطاف میر بھی شامل ہیں جنھیں بہت سے لوگ پاکستان میں موسیقی کے مقبول پروگرام کوک سٹوڈیو میں پیش کیے گئے ان کے گانے 'ہاگلو' کے ذریعے جانتے ہیں۔

الطاف میر نے حال ہی میں بی بی سی اردو سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنے ماضی اور پاکستان میں اپنے مستقبل کے حوالے سے بات کی۔

کشمیر میں اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے الطاف میر کا کہنا تھا کہ ’اننت ناگ کو زیادہ تر کشمیری اسلام آباد کہتے ہیں، میرا تعلق وہیں سے ہے۔ ہمارا شہر سری نگر کے بعد سب سے بڑا شہر ہے۔ آج 60 دن ہوئے گھر والوں سے بات نہیں ہوئی۔ میرا ایک قریبی رشتہ دار وہاں سے حال ہی میں آیا ہے۔ اس نے بتایا کہ آپ کے گھر میں اب تک بجلی نہیں آئی ہے اور امّی نے پیغام بھیجا ہے کہ اگر ہو سکے تو کرفیو کے اٹھتے ہی ملنے آ جانا۔'

1980 کی دہائی میں جب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندی کی شروعات کے بعد جہاں بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان اس مزاحمتی تحریک میں شامل بھی ہوئے وہیں کچھ لوگوں نے ایک نئے اور 'آزاد' شہر کی تلاش میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا رخ کیا تھا۔

انھی نوجوانوں میں الطاف بھی شامل تھے جن کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انڈیا کے زیرِ انتطام کشمیر میں جاری مزاحمتی تحریک میں ان کے بھائی، کزن اور کئی ساتھی مارے گئے۔ الطاف نے کہا کہ 'جب انسان مجبور ہوتا ہے تو پتھر اٹھانا پڑتا ہے۔ ہمیں خواہ مخواہ مارا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہمیں بھی جواب دینا پڑتا ہے۔'

اننت ناگ میں اپنی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے الطاف نے بتایا 'روز صبح پانچ بجے انڈین فوج گھر سے باہر نکال کر کھڑا رکھتے تھے۔ پھر پوچھ گچھ شروع ہوتی تھی۔ پوچھا جاتا تھا کون مجاہد ہے کون نہیں، اور اس کے فوراً بعد مار پیٹ۔'

Image caption مظفر آباد میں اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ مقیم الطاف خود کو یہاں محفوظ سمجھتے ہیں مگر ان کا دل اننت ناگ میں ہی ہے

الطاف میر نے کہا کہ 'میں تنگ آگیا تھا۔ روز روز کی تذلیل سے، اسی لیے میں ایک ایسے گروہ میں شامل ہوا جو نوجوانوں کو پتھر پھینکنا اور اس کے بعد بندوق چلانا سکھاتے تھے۔ کیونکہ میں عمر میں چھوٹا تھا تو مجھے صرف پتھر مارنے کی حد تک رکھا گیا۔ یہ ہماری مزاحمت کا حصہ تھا۔

’میرے ساتھ میرے سکول کے باقی ساتھی بھی شامل تھے۔ ہمیں جیلوں میں ڈالا گیا لیکن تشدد کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ مجھے نہیں پتا میں نے صحیح کیا یا نہیں۔ لیکن اس وقت میرے پاس یہی راستہ تھا۔ پھر میں بھاگ کر یہاں آ گیا۔'

الطاف کے مطابق وہ کشمیر میں حالات سے تنگ کر آ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ 'میں کئی کئی دن بھوکا رہا۔ کسی دن کوئی فقیر سمجھ کر کھانا دے دیتا تھا۔ کبھی کبھار کوئی دھتکار دیتا تھا۔ لیکن میں نے سونے کے علاوہ راستے میں کہیں بھی زیادہ وقت نہیں گزارا۔اور چلتا رہا۔'

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر آمد کے بعد بھی الطاف کی زندگی فوری طور پر بہتر نہیں ہوئی۔ 'یہاں آیا تو ایک کشمیری بھائی نے اپنے گھر جگہ دی۔ پھر اسی طرح ایک سے دوسرے کے گھر جاتا رہا اور وقت گزارتا رہا۔'

الطاف کے پاس دو فن تھے، کڑھائی اور موسیقی، جو انھوں نے اپنے والدین کو دیکھتے ہوئے سیکھے تھے۔ انھوں نے اپنے ان فنون کو کام میں لانے کا فیصلہ کیا اور مظفرآباد میں ریڈیو کے لیے گائیکی اور موسیقی دینے کا کام شروع کر دیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کشمیر کی مزاحمتی موسیقی

'میں کشمیری گانے گاتا تھا تو بہت مشہور ہوتے تھے۔ مجھے ثقافتی محفلوں میں بلایا جنے لگا۔ یہ میری کمائی کا ایک ذریعہ بھی بن گیا۔ جو میرے فن، میرے شوق سے جُڑا تھا۔'

اور پھر ایک دن انھیں کوک سٹوڈیو سے بلاوا آیا۔ ’میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ تمہیں گانے کے لیے بلایا ہے۔ وقت ملے تو پرل کانٹیننٹل ہوٹل گانا گانے پہنچ جاؤ۔ میرا گانا انھیں پسند آیا اور میں منتخب ہو گیا۔'

الطاف میر کوک سٹوڈیو سے کافی مشہور ہو گئے۔ 'مجھے ہر کوئی پہچاننے لگ گیا۔ میری عزت کرنے لگا۔ میرے لیے یہی بہت تھا کہ میرے والدین کے سکھائے ہوئے گانے آج سب سن رہے ہیں، ان کی تعریف کر رہے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ دنیا ان کی آواز سن رہی ہے لیکن ان کی سب سے بڑی خواہش 'والدین کی آواز سننا ہے۔ اس وقت تو اگر وہ مجھے ڈانٹنے کے لیے بھی فون کر پائیں تو میں سن لوں گا۔ میرے لیے اس وقت یہی جاننا بہت ہے کہ وہ جہاں بھی ہیں محفوظ ہیں۔'

مظفر آباد میں اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ مقیم الطاف خود کو یہاں محفوظ سمجھتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ 'میرا مستقبل یہیں ہے۔ لیکن دل اننت ناگ میں ہی ہے۔'

اسی بارے میں