اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ :’کسی بھی جج کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں ہونا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ ایک جج کو طاقتور قوتوں، دوست اور رشتہ داروں سے خود کو دور رکھنا چاہیے کیونکہ یہ عناصر کسی بھی عدالتی فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے زیر اہتمام ’عدالتی آزادی کا مفہوم‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’یہ بات کسی بھی جج کے شیان شان نہیں ہے کہ وہ بااثر یا طاقتور عناصر کے کہنے پر کوئی فیصلہ دے بلکہ جج کے منصب کا تقاضا یہی ہے کہ وہ قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ دے‘۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں واقع ماتحت عدالتوں میں تعینات ججز پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس ضمن میں ان کی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اس بارے میں ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد: ججوں کے سوشل میڈیا استعمال پر انتہائی تشویش

پنجاب: تھانوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی

سکیورٹی یا کچھ اور، دفاتر میں سمارٹ فونز پر پابندی کیوں

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’ایک جج کے لیے ضروری ہے کہ وہ آزاد ہو تاکہ وہ دیانتداری سے فیصلے کر سکے‘۔ اُنھوں نے کہا کہ ’اگر کسی جج نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ وہ صرف مقبول فیصلے کرے تو وہ بھی درست نہیں‘۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی منصف کے بارے میں پوچھنا ہو تو اس کی بار سے معلوم کرلینا چاہیے‘۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو جج کے منصب پر بیٹھایا گیا ہے تو اس کا احتساب بھی کڑا ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ کسی بھی جج کا سوشل میڈیا پر اکاونٹ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اُنھیں سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ IHC
Image caption اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا جب وہ بیرون ملک دورے پر گئے تو ان کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا گیا لیکن اُنھوں نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ جب وہ بیرون ممالک کے دورے پر گئے تھے تو ان کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا گیا لیکن اُنھوں نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ نہ تو سوشل میڈیا دیکھتے ہیں اور نہ ہی اس کا اثر لیتے ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ان کی وفاداری اپنے حلف کے ساتھ رہے گی۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ جدید دور میں سوشل میڈیا ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس کے کوئی حدود و قیود نہیں ہیں جبکہ اس کے برعکس پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کسی ضابطے کے تحت چلتے ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت کی ضلعی عدالتیں دکانوں میں ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماضی اور موجودہ حکومت کی ترجیحات میں یہ عدالتیں شامل نہیں ہیں‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں