بجلی کی کھپت میں کمی پر حکومت کا سارا دن یکساں نرخ پر بجلی دینے کا منصوبہ

بجلی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آج سے چند برس قبل تک پاکستانی عوام بجلی کی عدم دستیابی اور لوڈ شیڈنگ کا رونا روتے سڑکوں پر مظاہرے اور جلاؤ گھیراؤ کرتے دکھائی دیتے تھے تو آج مہنگی بجلی کے نرخوں کے باعث سراپا احتجاج ہیں۔

گیس، پیٹرول اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں نے جہاں عوام کو پریشان کر رکھا ہے وہیں اب عوام نے گیس اور بجلی کا استعمال کم کر دیا ہے۔

اس بات کا اعتراف وزارت توانائی کے حکام نے حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں یہ کہتے ہوئے کیا کہ صارفین کی جانب سے پیک آورز یعنی شام پانچ بجے سے لے کر رات 11 بجے تک بجلی کا استعمال کم ہو گیا ہے جس کے باعث حکومت کو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت کے واجبات ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’بل زیادہ اور بجلی کم، ہر طرف ہے گیس بند‘

پاکستان کے’ 40 فیصد علاقوں میں اب بھی گھنٹوں بجلی بند‘

’یہ تو عام آدمی کا تیل نکال رہے ہیں‘

'جب نوٹ چھاپیں گے تو افراطِ زر تو بڑھے گا'

اس لیے حکومت موسم سرما کے لیے عوام کو بجلی کے استعمال کرنے پر حوصلہ افزائی کے لیے سستا فلیٹ ریٹ یعنی یکساں قیمت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وفاقی سیکرٹری توانائی عرفان علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت موسم سرما میں صارفین کے لیے سستے نرخ پر بجلی کا یکساں ریٹ متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے جس پر کام کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نومبر میں صارفین کو سستی ریٹ پر بجلی دی جائے گی تاکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت سے پڑنے والے بوجھ پر قابو پایا جا سکے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ابھی وہ اس کی قیمت سمیت مزید تفصیلات فراہم نہیں کر سکتے کیونکہ اس سکیم کے مسودے پر کام جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

آف پیک اور آن پیک ریٹ کیا ہے؟

ملک میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت کا تعین صارفین کے زیر استعمال بجلی کے میٹرز کے تحت کیا جاتا ہے۔

ملک میں دو طرح کے بجلی کے میٹرز زیر استعمال ہیں۔ ایک پرانے میٹر جنھیں نان ٹائم آف یوز میٹرز کہا جاتا ہے اور دوسرے ٹائم آف یوز ڈیجیٹل میٹرز۔

نان ٹائم آف یوز میٹرز وہ پرانے میٹرز ہیں جو پہلے سابقہ واپڈا کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے صارفین کو لگائے گیے تھے اور ان پر بجلی کے ریٹ سلیب کے مطابق متعین کیے جاتے ہیں۔

جبکہ ٹائم آف یوز ڈیجیٹل میٹرز وہ نئے میٹرز ہیں جن پر دن کے بجلی کے فی یونٹ کی قیمت اوقات کار کے تحت متعین کی جاتی ہے۔ جن پر دن کی اوقات میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت مخلتف جبکہ شام کے اوقات میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت مختلف ہوتی ہیں۔

ان کو پیک ریٹ اور آف پیک ریٹ کہا جاتا ہے۔ نیپرا حکام کے مطابق اب گزشتہ چند برسوں سے صارفین کو نئے ٹائم آف یوز میٹرز ہی لگائے جاتے ہیں۔

اس فیصلے کی ضرورت پیش کیوں آئی؟

وفاقی سیکرٹری توانائی کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو جمع کروائے گئے جواب کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار تقریباً 35000 میگا واٹ ہے جبکہ موسم سرما میں بعض اوقات بجلی کی کھپت کم ہوکر 5000 میگا واٹ تک گر جاتی ہے۔

ایسے میں حکومت پر بجلی بنانے والی کمپینوں کی پیداواری لاگت کا بوجھ بڑھے گا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ان کی جانب سے بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت گردشی قرضہ 1200 ارب روپے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ماہر توانائی شاہد ستار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس فیصلے کی ایک وجہ تو صارفین کی جانب سے بجلی کے کم استعمال کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت ادا کرنے کے لیے صارفین پر اضافی بوجھ آئے گا اور انھیں اس بجلی کی قیمت بھی ادا کرنا پڑے گی جو انھوں نے استعمال نہیں کی۔

دوسرا اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہمارے ملک میں اس وقت بجلی کے فی یونٹ کی پیک ریٹ قیمت 22 روپے سے 28 روپے تک ہے۔ تو اس ریٹ پر بجلی کیوں خریدے یا استعمال کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا ملک جہاں بجلی کی پیداوار میں کمی ہو وہاں پیک ریٹ کا اطلاق سمجھ میں آتا ہے لیکن جہاں پر اضافی بجلی پیدا ہو وہاں پر پیک آور ٹیرف یا ٹائم آف یوز ٹیرف کا فائدہ نہیں ہوتا۔

شاہد ستار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس بجلی تو اضافی ہے لیکن اس کی ترسیل کا نظام مناسب نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کبھی 22000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی ترسیل نہیں کر سکی۔

بجلی کی کھپت میں کمی کیوں آئی؟

وفاقی سیکرٹری توانائی کے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اپنائے گئے موقف کے مطابق موسم سرما میں گھریلو صارفین زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات مثلاً ایئرکنڈیشنر اور فریج کا استعمال کم کر دیتے ہیں اس لیے بجلی کی کھپت میں کمی آئی ہے۔

جبکہ ماہر توانائی شاہد ستار کا کہنا ہے کہ جس قیمت پر ہمیں بجلی کا فی یونٹ دیا جا رہا ہے وہ تو زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کے مطابق ہے۔ ہمیں ملنے والی بجلی کے قیمت عوام کی قوت خرید سے مسابقت نہیں رکھتی۔ ہماری عوام کی ماہانہ آمدن ترقی یافتہ ممالک سے 30، 40 فیصد کم ہیں لیکن ہم بجلی کی قیمت ان سے زیادہ ادا کر رہے ہیں۔

’صارفین کی آمدن کا 40 فیصد حصہ تو بلوں میں نکل جاتا ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے جو دو بڑے پلانٹ لگائے گئے ہیں اگر ان کے ٹیرف یعنی فی قیمت بجلی کا جائزہ کیا جائے تو اس کی قیمت نو سینٹ متعین کی گئی ہے جبکہ دنیا بھر میں ساڑھے پانچ سینٹ ٹیرف تھا۔ تو مہنگی بجلی کو کون استعمال کرے گا جب اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

شاہد ستار کے مطابق کھپت میں کمی کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی کی پیداوار کر لی ہے اور طلب اور رسد کا جو فرق تھا وہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ملک میں غیر استعمال شدہ بجلی کی پیداوار زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت، عوام اور انڈسٹری اس بجلی ٹیرف کی متحمل نہیں ہو سکتی جو ہمارے پر لاگو ہے۔

ماہر توانائی امتیاز قزلباش بھی شاہد ستار سے اس بات پر اتفاق کرتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تیل اور کوئلہ سے حاصل کی جانے والی بجلی بہت مہنگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جس ملک کے پاس آبی وسائل موجود ہوں اور وہ سستی پن بجلی حاصل کرنے کی بجائے صرف چند افراد کے کمیشن کے چکر میں مہنگی تیل اور کوئلے سے بنی بجلی حاصل کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بجلی کے فی یونٹ کی قیمت کیا ہے؟

نیپرا حکام کے مطابق گھریلو صارفین جو نان ٹائم آف یوز میٹر کے ذریعے بجلی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے ملک میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت تقریباً سات روپے سے 21 روپے کے درمیان ہے۔ جبکہ فی یونٹ کی اوسط قیمت تقریباً 13 روپے ہے۔

جبکہ ٹائم آف یوز میٹرز کے آن پیک ریٹ کے مطابق فی یونٹ کی قیمت 23 روپے 70 پیسے اور آف پیک ریٹ میں فی یونٹ کی قیمت 17 روپے 60 پیسے مقرر ہے۔

حکومت نے گذشتہ برس سے اب تک بیس یونٹ پرائس یعنی یونٹ کی بنیادی قیمت میں تقریباً پانچ روپے اضافہ کیا ہے۔ جبکہ فیول ایڈجسمنٹ کے مد میں حاصل کی جانے والی قیمت اس کے علاوہ ہے جو ہر ماہ تبدیل ہوتی ہے۔

تاہم نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ ٹائم آف یوز میٹرز کے فی یونٹ کی قیمت پورے ملک میں یکساں ہوتی ہے۔ جبکہ نان ٹائم آف یوز میٹرز کے فی یونٹ کی قیمت سلیب ریٹ کے مطابق طے کی جاتی ہے اور ہر سابقہ واپڈا ڈسٹریبیوشن کمپنی (ڈسکوز) نیپرا کے بنیادی یونٹ کی قیمت پر اپنی اپنی قیمت کا تعین کرتی ہے۔

اس قیمت کا تعین ان کمپینوں کی کارکردگی جن میں لائن لاسز، بجلی چوری پر قابو پانا، بلوں کی ریکوری سمیت نئے کنکشن کی کھپت کے عوامل کے ساتھ ساتھ ٹائم آف یوز میٹرز صارفین کو دی جانے والی فی یونٹ کی اوسط قیمت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

واضح رہے ملک میں سابقہ واپڈا ڈسٹریبیوشن کمپنیاں (ڈسکوز) دس ہیں جنھیں ریجن کی لحاظ سے تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی(فیسکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (جیپکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو)، ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو)، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو)، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) شامل ہیں۔

اسی بارے میں