شکیل آفریدی کی اپیل: ’ایڈووکیٹ جنرل نے سماعت سے پہلے ہی کہہ دیا کہ انھیں مزید وقت درکار ہے‘

شکیل آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پشاور ہائی کورٹ میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف دائر کردہ نظرثانی کی اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ وہ آج اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا چاہتے ہیں لیکن پھر ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔

قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخواہ کے ساتھ انضمام کے بعد یہ سماعت چوتھی مرتبہ ملتوی کی گئی ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت شروع کی تو ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست کی کہ انھیں تیاری کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پہلے ہی بہت وقت دے چکی ہے اور اس سے پہلے بھی یہی کہا گیا تھا کے اگلی سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ آئیں۔

ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اس کیس میں عدالت کی معاونت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کیس اب پرانے قبائلی قانون یعنی ایف سی آر (فرنٹیئر کرائم ریگولیشن) کے تحت سنا جائے گا یا پاکستان بھر میں رائج قانون کے تحت اس کیس کی سماعت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

’اسامہ کی تلاش کا سرا آئی ایس آئی نے فراہم کیا تھا‘

’شکیل آفریدی کے خاندان کے شناختی کارڈ نہیں بنائے جا رہے‘

عدالت نے کہا کہ آپ کل تیاری کر کے آجائیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے ایک ماہ کا وقت مانگا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اس کیس کا فیصلہ جلد از جلد کرنا چاہتے ہیں اس لیے اتنا وقت نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے ایک ہفتے کا وقت دینا چاہا تو ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست کی کہ تیاری میں وقت زیادہ لگ سکتا ہے جس پر دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے اور آئندہ سماعت کے لیے 22 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جانب سے لطیف آفریدی ایڈووکیٹ اور قمر ندیم ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے عدالت سے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت پر زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا، وہ کچھ حقائق سامنے رکھیں گے اور کچھ سابقہ مقدمات جن پر فیصلے ہو چکے ہیں، لیکن عدالت نے کہا کہ دو ہفتے کا وقت دیا جاتا ہے۔

قمر ندیم ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ شکیل آفریدی کی جانب سے وہ مکمل تیاری کے ساتھ گئے تھے اور انھیں قوی امید تھی کہ وہ اپنے دلائل پیش کر سکتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے سماعت سے پہلے ہی کہہ دیا کہ انھیں مزید وقت درکار ہے۔

انھوں نے بتایا کہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں سے جتنے بھی کیس آئے ہیں وہ ان کے بارے میں پندرہ دنوں میں فیصلے کرنا چاہتے ہیں اس لیے اب دی گئی تاریخ میں مزید توسیع نہیں کی جا سکے گی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے مقدمے کی سماعت کے لیے اس سے پہلے ذرائع ابلاغ کے نمائندے ضرور پہنچ جاتے تھے لیکن بار بار کے التوا کی وجہ سے بدھ کو میڈیا کے اراکین کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔

شکیل آفریدی کو کس الزام میں سزا ہوئی؟

خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2011 میں پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے امریکہ کے لیے جاسوسی کی اور اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں کیے گئے آپریشن میں امریکہ کی مدد کی تھی۔ اسامہ بن لادن اس کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

لیکن انھیں ان الزامات میں نہیں بلکہ شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں سزا دی گئی تھی۔ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کی عدالت نے انھیں تین مقدمات میں کل 23 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام سے پہلے شکیل آفریدی کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل فاٹا ٹریبیونل میں دائر کی گئی تھی جہاں پہلے ٹریبیونل کے اراکین مکمل نہیں تھے اور بعد میں ریکارڈ کی طلبی اور عدم تیاری کی وجہ سے سماعت نہیں ہو سکی تھی۔

خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد بھی اب تک چار مرتبہ یہ سماعت ملتوی ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کئی سال تک پشاور کی سینٹرل جیل میں قید رہے اور پھر سکیورٹی کے خدشات کے باعث انھیں اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا۔ آج کل وہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں انتہائی سخت سکیورٹی والی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

اسی بارے میں