پشاور: افغان مارکیٹ سے پرچم اتارنے پر تنازع، افغان قونصل خانہ احتجاجاً بند

افغان پرچم

پاکستان میں افغان سفارتخانے نے پشاور کی افغان مارکیٹ میں نصب افغانستان کا پرچم اتارے جانے پر احتجاجاً پشاور میں اپنا قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعے کو افغان سفارتخانے کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی پولیس نے جمعرات کی شب دوبارہ افغان مارکیٹ پر چھاپہ مارا اور وہاں نصب کیے گئے افغان پرچم کو دوبارہ اُتار دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق افغان سفارتی حکام اس عمل کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور یہ عمل سفارتی اُصولوں کے خلاف ہیں اس لیے احتجاجاً میں وہ پشاور میں افغان قونصل خانہ بند کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پشاور میں افغان پرچم لہرانے پر افغان نوجوان گرفتار

پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل ہاشم نیازی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چند روز پہلے بھی مارکیٹ سے افغانستان کا پرچم اتارا گیا تھا جس پر پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر آئندہ پرچم اتارا گیا تو وہ پشاور میں قونصل خانہ بند کر دیں گے۔

ہاشم نیازی نے کہا کہ اب دوسری مرتبہ رات گئے پرچم اتارنے اور دکانداروں کو ہراساں کرنے کے بعد قونصل خانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔

تاجر پریشان

افغان مارکیٹ کے دکانداروں نے بتایا کہ رات گیارہ بجے کے قریب پولیس اہلکار اور انتظامیہ کے افسران مارکیٹ پہنچے تھے جہاں انھیں افغانستان کا پرچم اتارا اور دکانیں بند کر دیں۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے چند گھنٹوں کے بعد افغان قونصل جنرل آئے اور انھوں نے پرچم دوبارہ لہرا دیا تھا۔

افغان مارکیٹ یونین کے چیئرمین ملک خان سید مہمند نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اداروں کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کے افسران رات کے اندھیرے میں مارکیٹ میں آتے ہیں اور دکانیں بند کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کا تنازع اپنی جگہ وہ چالیں سال سے اس مارکیٹ میں کرائے پر دکانیں لیے ہوئے ہیں اور وہ کرایہ افغان اہلکاروں کو دیتے ہیں۔ اس تنازعے کی وجہ سے ان کا کاروبار بُری طرح متاثر ہوا ہے۔

پشاور کی افغان مارکیٹ پر افغان پرچم لہرانے کا تنازع رواں ہفتے شروع ہوا تھا اور بدھ کی شام افغان سفیر شکراللہ عاطف مشعل کی جانب سے متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر اب پشاور میں واقع افغان مارکیٹ پر لہرائے جانے والے افغان پرچم کو ہٹایا گیا تو احتجاجاً پشاور میں افغان قونصل خانہ بند کردیا جائے گا۔

اس بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ منگل کو پولیس اور پاکستانی حکام نے اس مارکیٹ کو غیر قانونی طور پر قبضہ مافیا کے حوالے کرنے کی کوشش کی، مارکیٹ کی دکانوں کو تالے لگوائے اور وہاں سے افغان جھنڈے کو اُتار لیا گیا۔

افغان سفارت خانے کے بیان کے مطابق افغان سفیر نے پشاور جا کر میڈیا کو افغان حکومت کے موقف سے آگاہ کیا ہے اور مارکیٹ پر افغان پرچم دوبارہ لہرا دیا گیا تھا۔

اس بیان میں افغان سفیر کے حوالے کہا گیا تھا کہ ’اس مسئلے کو افراد کے درمیان نہیں بلکہ دو ملکوں کے درمیان مسئلے کی نظر سے دیکھا جائے اور اگر پاکستانی حکام نے یہ قدم دوبارہ اُٹھایا تو پشاور میں قونصلیٹ کو احتجاجاً بند کر دیں گے۔‘

افغان مارکیٹ پشاور کس کی ملکیت ہے؟

پشاور کے علاقے فردوس میں جناح پارک کے ساتھ واقع افغان مارکیٹ پر کئی دہائیوں سے پشاور کے ایک شہری نے دعوی کیا ہوا ہے کہ یہ جگہ اُن کی ملکیت ہے۔

ادھر افغان سفارتخانے کے حکام کے مطابق یہ مارکیٹ افغان حکومت نے تقسیم ہند سے پہلے خریدا تھا اور آج تک افغان نیشنل بینک کی ملکیت ہے۔

افغان مارکیٹ کی انجمن دوکانداران کے چیئرمین خان سید مہمند نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس مارکیٹ پر سید زوار حسین کے نامی شخص کی جانب سے ملکیت کا دعوی کیا گیا لیکن خود اس شخص کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا ہے۔

سید مہمند کے مطابق سید زوار کے نام پر قبضہ مافیا اس مارکیٹ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

’میں آج بھی یہ کہتا ہوں کہ وہ میرے سامنے سید زوار حسین کو پیش کریں، ہم یہ مارکیٹ خالی کریں گے‘۔

اُن کے مطابق 1971 سے اس بازار پر مذکورہ شخص اور افغان حکومت کے درمیان پاکستان کے مختلف عدالتوں میں مقدمات چلے، لیکن جنوری 2017 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سید زوار حسین کے حق میں فیصلہ دیا، جو افغان حکومت تسلیم نہیں کرتی۔

اسلام آباد میں افغان سفارتخانے کے حکام کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ یکطرفہ ہے دوسری جانب شوکت جمال کشمیری جس کے پاس مدعی کا مختارنامہ ہے کہتے ہیں کہ سید زوار حسین کے والد کو یہ جگہ 1989 میں اُس جائیداد کے بدلے میں الاٹ کی گئی جو اُنھوں نے پاکستان بننے کے بعد انڈیا میں چھوڑی تھی۔

خان سید مومند کے مطابق منگل کی شام کو انتظامیہ نے زبردستی اس مارکیٹ کو خالی کرنے کی کوشش کی، کچھ دوکانوں کو تقصان بھی پہنچایا اور مارکیٹ کو تالے لگائے۔

ان کے مطابق ’اُسی رات کو پشاور میں مقیم افغان قونصل جنرل کے کہنے پر ہم نے تالے توڑ کر اپنی دکانیں سنبھال لیں اور بدھ کی صبح سے ہم واپس آ گئے ہیں۔‘

حکومت کا کیا موقف ہے؟

جمعرات کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں جب ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل سے اس بارے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پشاور میں افغان مارکیٹ کا ایک قانونی کیس تھا، سپریم کورٹ نے اس میں فیصلہ کیا ہے اور وہ فیصلہ ظاہر ہے کہ لاگو کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں اگر کوئی غیر سفارتی سرگرمی ہوئی ہے تو وہ ہمارے نوٹس میں ہیں اور اُس پر کارروائی کریں گے۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

بدھ کی شام افغان مارکیٹ کی چھت پر لہراتے افغان جھنڈے کی تصاویر جب افغانستان اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو جہاں افغان عوام کی جانب سے اسے اس پیغام کے ساتھ شیئر کیا جانے لگا کہ یہ بات باعثِ فخر ہے کہ افغان پرچم ایک بار پھر وہیں لہرا دیا گیا جہاں سے اسے اتارا گیا تھا۔

ادھر پاکستان میں سوشل میڈیا کے صارفین نے ان تصاویر اور ویڈیوز پر غصے کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ ’پاکستانی سرزمین پر افغان پرچم کیوں لہرایا جا رہا ہے؟‘

صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان سفیر نے زبردستی یہ پرچم لہرایا ہے اور اس اقدام پر حکومت کو افغان حکام کو طلب کر کے باقاعدہ احتجاج کرنا چاہیے۔

خان سید کے مطابق افغان مارکیٹ کا کل رقبہ 64543 مربع فٹ ہے جو 238 مرلے بنتا ہے ۔ اس رقبے کے پانچ کنال انیس مرلے اور پانچ کنال انیس مرلے کے دو انتقال ہیں آ اس رقبے میں کوئئ دو کنال بارمرلے زمین پر ریلوے کا دعوی ہے جو کہ ریل کی پٹڑی کے قریب ہے ۔ عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد اب افغان قوصل خانے کے حصے میں کل 66 مرلے یعنی دو کنال اور 16 مرلے زمین آتی ہے ۔

دکانیں اور کرائے

اس مارکیٹ میں 300 کے قریب دکانیں ہیں جس میں زیادہ تر جوتوں ، بچوں کے سلے سلائے کپڑے یعنی ریڈی میڈ سوٹ، پلاسٹک کی اشیاء اور دیگر تھوک اور پرچوں کا سامان فروخت ہوتا ہے ۔ اس مارکیٹ کے اندر چھوٹی دکانوں کا کرایہ 1200 روپے سے 2000 روپے تک ہے لیکن مارکیٹ کی انتظامیہ کے مطابق اس مارکیٹ میں مین روڈ کی جانب ایسی دکانیں ہیں جن کا کرایہ 25000 روپے تک بھی ہے اور یہ کرایہ ہر ماہ افغان قونصل کے اہلکار وصل کرتے ہیں۔

اس مارکیٹ میں افغان قونصل خانے کا ایک دفتر بھی قائم ہے جس میں افغان اہلکار ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

محل وقوع

پشاور کے معروف چپلی کباب کی دکانیں جلیل چپل کباب اور طورے چپل کباب بھی اسی مارکیٹ میں فروخت ہوتے ہیں ۔ اس مارکیٹ کے سامنے پشاور کا معروف جناح پارک ہے جبکہ اس کے ساتھ پہلے فردوس سینما ہوا کرتی تھی جس کی جگہ پر اب پلازا اور ہوٹل تعمیر کر دیا گیا ہے ۔ یہ علاقہ جی ٹی روڈ پر قلعہ بالا حصار کے سامنے واقع ہے۔

ماضی میں اس جگہ افغان قونصل خانے کے دفتر کے علاوہ گاڑیوں کا اذا ہوتا تھا اور یہاں سے گاڑیاں افغانستان جایا کرتی تھیں ۔ اسی جگہ سے تجارت کا سامان بھی افغانستان بھیجا جاتا تھا یعنی ماضی میں بھی یہ جگہ تجارت کا ایک بڑا مرکز تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں