مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت یا صرف حمایت، نواز شریف کے خط میں کیا ہے؟

پاکستان مسلم لیگ نون

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے متعلق حکمت عملی پر غور کے لیے آج لاہور میں مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف کے خط کے مندرجات مولانا فضل الرحمان سے شیئر کیے جائیں گے۔

نواز شریف کا خط لے کر مسلم لیگ نون کا وفد کل مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرے گا۔

اس مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما نون لیگ احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے خط میں پارٹی کےلیے مکمل طریقہ کار لکھا ہے اور پارٹی نے نواز شریف کے خط کی مکمل تائید کی ہے۔

احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت کا فیصلہ اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے حساب سے کریں گی۔

یہ بھی پڑھیے

آزادی مارچ: ’مولانا کی مٹھی میں کچھ نہ کچھ بند ہے‘

آزادی مارچ: اپوزیشن اور حکومت کہاں کھڑی ہیں؟

’مولانا فضل الرحمان کا ایجنڈا، سیاسی ایجنڈا نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پارٹی میں اختلافات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ نون لیگ میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس کا ایک ہی نظریہ ہے جس کا نام ہے نواز شریف ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف نے آزادی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

اس سے قبل نون لیگ کے رہنما کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ پارٹی معاملات میں حتمی فیصلہ نواز شریف کا ہوتا ہے اور مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں شمولیت کے معاملے پر بھی ان کا فیصلہ ہی حتمی ہو گا۔

لیکن نواز شریف کی جانب سے آزادی مارچ کی حمایت کے اعلان کے بعد بھی یہ سوال ابھی باقی ہے کہ کیا نون لیگ آزادی مارچ میں شرکت بھی کرے گی یا صرف باہر بیٹھ کر اس کی حمایت کرے گی۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔

اسی بارے میں