ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اتوار سے، پاکستان کے لیے امتحان کی گھڑی

ایف اے ٹی ایف اجلاس تصویر کے کاپی رائٹ FATF

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا (ایف اے ٹی ایف) کا اہم اجلاس اتوار سے پیرس میں شروع ہو رہا ہے جس میں منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خاتمے کے لیے کیے گئے پاکستان کے اقدامت پر غور کیا جائے گا۔

اگر پاکستان کے اقدامات سے ایف اے ٹی ایف مطمئن ہوئی تو اسے ’گرے ایریا‘ کی فہرست سے خارج کرنے کی کاروائی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ 'ناکافی پیش رفت کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف پاکستان کے بارے اگلی سطح کے اقدامات لینے کے بارے میں غور کرے گی۔'

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 13 اکتوبر سے شروع ہو گا اور 18 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس میں 205 ممالک اور عالمی تنظیمیں شرکت کریں گیں۔ ان اجلاسوں میں کئی ممالک اور مختلف امور پر غور ہو گا۔ ایف اے ٹی ایف ’ورچؤل ایسیٹس‘ اور ’سٹیبل کوئنز‘ پر بھی غور کرے گا۔

اس کے علاوہ روس اور ترکی کے ان اقدامت پر بھی غور ہو گا جو انھوں نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے لیے کیے ہیں۔ پاکستان، ایران اور چند دیگر ممالک جو موجودہ عالمی مالی نظام کے لیے 'خطرہ' ہیں، ان کے اقدامات کی پیش رفت پر 14 اور 15 اکتوبر کو غور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ایف اے ٹی ایف: پاکستان پر لٹکتی بدنامی کی تلوار

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اور پاکستان کی مشکلات

پاکستان کی بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کی جدوجہد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

احکامات کی تعمیل کی فہرست

پاکستان کا ایک وفد اقتصادی امور کے وفاقی وزیر حماد اظہر کی قیادت میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں شرکت کر کے اجلاس کو آگاہ کرے گا کہ پاکستان نے ضروری تقاضوں اور اقدامات کی فہرست کی تعمیل کر لی ہے یعنی پاکستان ایف اے ٹی ایف کو اپنی ’کمپلائینس لسٹ‘ پیش کرے گا۔

اس اجلاس میں شرکت سے چند دن پہلے ہی پاکستان نے اپنے ایکشن پلان پر علمدرآمد کرتے ہوئے کالعدم تنظیم جمعیت الدعوۃ/ لشکرِ طیبہ کے چار رہنماؤں کو دہشت گردی کی مالی امداد کرنے کے جرم میں گرفتار کیا ہے۔

پاکستانی حکام نے پروفیسر ظفر اقبال، یحیٰ عزیز، محمد اشرف اور عبدالسلام کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر دہشت گردی کی مالی امداد کرنے کے جرائم کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔ اس کالعدم تنظیم کے سربراہ حافظ سعید پہلے ہی سے زیرِ حراست ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu

کچھ دن پہلے چند اخبارات میں ایسی خبریں آئیں تھیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کی 'کمپلائینس لسٹ' سے غیر مطمئن ہے کیونکہ پاکستان نے 40 نکات میں سے صرف چھ پر علمدرآمد کیا تھا۔ تاہم بعد میں ایسی کسی خبر کی تصدیق نہ ہو سکی۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ ماہ انڈیا پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی ’گرے ایریا‘ میں رکھنے اور بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ’پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے کی مکمل کوشش کی ہے۔‘

’گرے ایریا لسٹ‘

ایف اے ٹی ایف کی ’گرے ایریا‘ اس فہرست کو کہتے ہیں جس میں ایسے ممالک کے نام درج کیے جاتے ہیں جن کے بارے میں یہ ادارہ طے کرتا ہے کہ ان ممالک کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد روکنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس وقت ’گرے ایریا‘ کی فہرست میں بہاماز، بوٹسوانا، کمبوڈیا، ایتھوپیا، گھانا، پاکستان، پاناما، سری لنکا، شام، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، تیونس اور یمن کے نام شامل ہیں۔ سربیا کا بھی نام تھا لیکن اسے بہتر کارکردگی کی وجہ سے گرے ایریا سے خارج کردیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایف اے ٹی ایف نے اب تک شمالی کوریا کے بارے میں یہ تجویز کیا ہے کہ شمالی کوریا سے مالی رابطے بند کیے جائیں جبکہ ایران کے اقدامات کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گذشتہ برس جون میں ایف اے ٹی ایف اور اس کے ایک ذیلی ادارے ایشیا پیسیفیک گروپ (اے پی جی) سے منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خلاف موثر اقدامات لینے کے لیے عزم کا اظہار کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ اپنی مالی نظام میں ان سٹریٹجک نقائص کا بھی خاتمہ کرے گا جو دہشت گردی کے خاتمے میں رکاوٹ ہیں۔ پاکستان نے ان وعدوں کے بعد منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خلاف موثر اقدامات کیے۔

اگرچہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے اضافی احکامات پر بھی عملدرآمد کیا لیکن رپورٹ کے مطابق ’پاکستان دہشت گردی کی مالی امداد کی بین الاقوامی سطح پر سنگینی کو سمجھ نہیں پایا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایف اے ٹی ایف پاکستان سے کیا چاہتا ہے؟

اس رپورٹ میں تجویز کیا گیا تھا کہ پاکستان اپنے سٹریٹجک نقائص پر قابو پانے کے لیے اپنے ایکشن پلان پر عمدرآمد ان تجاویز پر بھی عملدرآمد کرکے دکھائے:

  1. ایسے اقدامت لے جس سے اس بات کا مظاہرہ ہو کہ پاکستان دہشت گرد گروہوں کے خطرات کی سنگینی کو سمجھتا ہے اور ان کے خطرے کی حساسیت کی سطح کو سمجھتے ہوئے ان کی نگرانی کرے۔
  2. اگر کہیں منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی امداد موثر طریقے سے نہ ہو تو وہاں اس کے انسداد کے لیے مناسب اقدامات لے اور جو اقدامات لیے جائیں ان کے بعد منی لانڈرنگ کرنے والے اور دہشت گردی کی مالی امداد کرنے والے افراد یا اداروں پر نظر آئیں۔
  3. ایسے اقدامات بھی لے جن سے یہ ظاہر ہو کہ مجاز حکام ان اقدامات کی درست طور پر شناخت کر رہے ہیں اور ان پر علدرآمد کر رہے ہیں جن سے غیر قانونی دولت یا اثاثے منتقل کرنے والے ذرائغ کا خاتمہ ہوآ
  4. یہ بات واضح طور پر نظر آئے کہ مجاز حکام کیش لے جانے والوں اور غیر قانونی طور پر روپے اور دیگر کرنسیوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والوں پر قابو پائے اور اس سمجھداری کا مظاہرہ کریں کہ کیش لے جانے والے دہشت گردی کی مالی امداد کرنے کا کتنا بڑا ذریعہ ہیں۔
  5. مختلف اداروں میں اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے سے تعاون کو بڑھائیں۔
  6. اس بات کا بھی مظاہرہ کریں کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کی وسیع سطح پر درست نشاندہی کر رہے ہیں، ان کی تحقیقات کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف تحقیقات کے دوران ان شخصیات پر نظر رکھیں جنھیں اقوام متحدہ دہشت گرد قرار دے چکی ہے اور ایسے افراد اور اداروں جو اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی شخصیات کے لیے کام کرتے ہیں۔
  7. پاکستان اس بات کو بھی کر کے دکھائے کہ جو دہشت گردی کے مقدمے چلیں جن کے نتائج موثر، متناسب اور دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی کریں، اس کے علاوہ ایسے اقدامات بھی لیے جائیں جن سے استغاثہ اور عدلیہ کی صلاحیت اور حمایت میں اضافہ ہو۔
  8. اور دہشت گردی میں ملوث 1267 افراد اور 1373 اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئیں شخصیات ان مالیاتی پابندیاں عائد کی جائیں، اس کے علاوہ ان اداروں اور افراد پر بھی جو ان شخصیات کے لیے مالی امداد جمع کرنے سمیت رقم یا دیگر سامان منتقل کرتے ہیں ان کو ہدف بنا کر (جن کو جامع قسم کی قانونی حمایت حاصل ہو) ان کے خلاف اقدامات لیں، مزید یہ کہ ایسی شخصیات اور افراد کے منقولہ و غیر منقولہ اثاثے منجمد کیے جائیں اور انھیں کسی بھی قسم کے فنڈ یا مالیاتی خدمت حاصل کرنے سے محروم کیا جائے۔
  9. دہشت گردی کی مالی مدد کی خلاف ورزیوں کی بیخ کنی ہو جس کے لیے انتظامی سطح پر اور عدالتوں کے ذریعے کاروائیاں کی جائیں اور ایسے واقعات کی صورت میں صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے سے تعاون کریںآ
  10. سہولتیں اور خدمات جو کے اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی شخصیات کی ملکیت ہیں انھیں اِن وسائل اور اِن کے استعمال سے محروم کیا جائے۔

اب تک پاکستان ناکام رہا ہے

ایف اے ٹی ایف اپنی تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف جنوری کی حتمی تاریخ تک اپنے ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہا بلکہ یہ مئی 2019 میں ایکشن پلان کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’ایف اے ٹی ایف کا پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ اکتوبر سنہ 2019 تک جب ایکشن پلان کے تحت اقدامات کا آخری سیٹ پر علدرآمدگی کی میعاد ختم ہو رہی ہے، اسے تیزی سے مکمل کرے۔ دیگر صورت میں ایف اے ٹی ایف ناکافی پیش رفت کی وجہ سے پاکستان کے بارے میں اگلے اقدامات لینے پر غور کرے گی۔‘

منی لانڈرنگ سے متعلقہ بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد اقتصادی لحاظ سے دنیا کے سات سب سے زیادہ طاقتور ممالک جی سیون نے سنہ 1989 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس آن منی لانڈرنگ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اب ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر معیار طے کرنے کا ایک ادارہ ہے جس کی قانونی حیثیت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے تسلیم کیا جا چکا ہے۔

دنیا میں بین الاقوامی مالیاتی نظام کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اور منی لانڈرنگ کو روکنے اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خاتمے کے لیے بہتر سے بہتر قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کرانے کے لیے ایف اے ٹی ایف ان ممالک اور اداروں کی نشاندہی کرتا ہے جن میں سٹریٹجک نقائص موجود ہیں اور پھر ان سے مل کر ان نقائص کو دور کرنے میں تعاون کرتا ہے جو بین الاقوامی مالیاتی نظام کے لیے خطرہ ہیں۔

اسی بارے میں