RoyalVisitPakistan#: شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کا لاہور میں بادشاہی مسجد اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا دورہ

برطانوی شاہی جوڑا شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن دورۂ پاکستان کے چوتھے دن لاہور میں ہیں جہاں انھوں نے بادشاہی مسجد کا بھی دورہ کیا۔

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption برطانوی شاہی جوڑے نے بادشاہی مسجد کے بعد لاہور میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کا دورہ کیا
شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے ڈاکڑوں نے شاہی جوڑے کو وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات پر بریفنگ دی۔
شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے شوکت خانم کینسر ہسپتال میں بچوں کے وارڈ کا دورہ کیا۔
شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی شاہی جوڑے نے بادشاہی مسجد کے مختلف حصے دیکھے۔

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شاہی جوڑی نے قرآن کی تلاوت بھی سنی۔

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن تصویر کے کاپی رائٹ EPA

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن لاہور کی بادشاہی مسجد کے دورے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
کیٹ ولیم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سے قبل شاہی جوڑے نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا دورہ کیا۔ اور اس موقعے ہر انھوں نے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور کرکٹ بھی کھیلی۔

کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
لائن

نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور سے بیبی سی اردو کا فیس بک لائیو

لائن

لاہور پہنچنے پر وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر چوہدری سرور نے ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ CM House

اس موقعے پر وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ شاہی جوڑے کی تاریخی شہر لاہور آمد ہمارے لیے باعث اعزاز ہے۔

کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ CM Office

شاہی جوڑے سے ملاقات کے بعد وزیرِاعلیٰ پنجاب نے انھیں تحائف پیش کیے جن میں شہزادی کیٹ مڈلٹن کے لیے شال کا تحفہ بھی شامل تھا۔

کیٹ

گذشتہ روز شاہی جوڑے نے چترال کی وادیِ کیلاش کا دورہ کیا تھا جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن وادیِ کیلاش میں چترالی رقص سے لطف اندوز بھی ہوئے۔

کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@ukinpakistan

اس سے قبل شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کو وادی بروغل کے ایک گلیشیئر پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے ڈاکٹر فرخ بشیر کی جانب سے بریفنگ بھی ملی۔

کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@ukinpakistan
کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے زلزلے سے متاثرہ مقامی افراد سے ملاقات بھی کی۔

کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شہزادی کیٹ مڈلٹن نے چترال آمد پر ایک روایتی چترالی ٹوپی زیب تن کر رکھی تھی، جسے دیکھ کر کئی لوگوں کے ذہن میں ان کی ساس شہزادی ڈیانا کی یادیں تازہ ہو گیں۔

کیٹ، ڈیانا تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ڈیانا نے اپنے 1991 کے دورے میں چترال کا دورہ کیا تھا اور مقامی لوگوں میں گھل مل گئں تھیں۔ وہاں کے لوگ انھیں ابھی بھی اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔

اس موقع پر شہزادہ ولیم کو بھی حکام نے چترال کا مقامی لباس پیش کیا۔

شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

شاہی جوڑے کا دورۂ پاکستان: ’کاش میں ان سے مل سکوں‘

'لیڈی ڈیانا سے کہیں اپنی ساس کو ہمارے پاس بھیج دیں'

برطانوی شاہی خاندان کے پاکستانی دورے

وہ پاکستانی بُندے جو ایک شہزادی کو بھا گئے

اس سے قبل پاکستان آمد کے بعد پہلے روز شاہی جوڑا عمران خان سے ملنے وزیراعظم ہاؤس آیا جہاں ان کے لیے دوپہر کا کھانا رکھا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے وقت شہزادی کیٹ نے سبز رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔

مانومنٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی شاہی جوڑا ایک رکشے میں بیٹھ کر پاکستان نیشنل مانومنٹ پہنچے جہاں ان کے اعزاز میں ایک عشائیہ منعقد کیا گیا۔ ۔ اس بار شہزادے اور شہزادی دونوں نے ہی منفرد روایتی پاکستانی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔

اس موقع پر اپنی تقریر میں شہزادہ ولیم نے کہا کہ پاکستانی ’ہم پر انحصار کر سکتے ہیں کہ ہم آپ کے حریف اور دوست کے طور پر اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔‘

کیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سے قبل برطانوی شاہی جوڑا ایونِ صدر پہنچا تھا جہاں صدر عارف علوی اور خاتون اول نے ان کا اسقتبال کیا۔ ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی اورغربت کے خاتمے سمیت مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔

شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شاہی جوڑا اسلام آباد میں مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہا ہے۔

اسلام آباد کے ایک سکول کے دورے پر انھوں نے اساتذہ اور بچوں سے ملاقاتیں کیں جبکہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں انھوں نے درختوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے بچوں سے بات چیت کی۔

شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شاہی جوڑے کی آمد پر سکول کے باہر انھیں ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے سلوٹ کیا۔

شاہی جوڑے نے نوجوان طلبہ کی ذہنی صحت پر توجہ دینے پر زور دیا ہے۔

شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس موقع پر شہزادہ ولیم کا کہنا تھا کہ غریب گھرانوں سے آنے والے بچوں کے لیے بنیادی صحت کے مراکز کی کمی ہے۔

گرلز کالج کے ایک استاد سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ 'برطانیہ میں ہم کوشش کررہے ہیں کہ ذہنی صحت کے مسائل تعلیم کا حصہ بنیں۔'

شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق انھوں نے سنہ 2011 سے پاکستان میں 55 لاکھ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

ایک سرکاری کالج میں طلبہ سے بات کرتے ہوئے شاہی جوڑے نے پاکستان میں خواتین کی شرح خواندگی کی کمی پر اظہار خیال کیا۔

شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’لیڈی ڈیانا کے فین‘

جہاں پاکستان میں شہزادی کیٹ اور لیڈی ڈیانا کے ملتے جلتے کپڑوں کی بات ہورہی ہے تو وہیں شاہی جوڑے کو اسلام آباد میں کئی بار یہ سننے کو ملا کہ وہ لیڈی ڈیانا کے چاہنے والے ہیں۔

شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کالج کی ایک طالبہ نے شہزادہ ولیم کو بتایا کہ وہ اور ان کی دیگر ہم جماعت ان کی والدہ کی فینہیں۔ جواب میں شہزادہ ولیم نے کہا ’آپ کا بہت شکریہ۔ میں بھی اپنی والدہ کا بڑ فین ہوں۔‘

’وہ یہاں تین مرتبہ آئیں۔ اس وقت میں بہت چھوٹا تھا۔ میں یہاں پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ یہاں آنا اور آپ سے ملنا بہت اچھا رہا۔‘

کنسنگٹن پیلس کے مطابق خطے میں سکیورٹی اور سیاسی کشیدگی کے اعتبار سے یہ دونوں کا سب سے مشکل دورہ ہے۔

برطانوی ہائی کمیشن نے مقامی میڈیا کو منظم رہنے کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان آمد

پیر کو شاہی جوڑے کا راولپنڈی کے نور خان ائیر بیس پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے استقبال کیا گیا تھا۔

شاہی جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شاہی جوڑے کا خیر مقدم کرنے کے لیے انھیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے

یہ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن کا پہلا دورہ پاکستان ہے تاہم برطانوی شاہی خاندان کے دیگر افراد ماضی میں پاکستان آ چکے ہیں۔

سنہ 2006 میں شہزادہ ولیم کے والد شہزادہ چارلس نے اپنی اہلیہ، ڈچس آف کارن وال کامیلا پارکر کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا تھا جبک ان کی والدہ'پرنسز آف ویلز شہزادی ڈیانا نے سنہ 1991، 1996 اور 1997 میں پاکستان کے دورے کیے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں