100Women#: بلوچستان کی ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی وکیل جلیلہ حیدر کا بچوں کی تعلیم سے اقلیتوں کے لیے آواز اٹھانے تک کا سفر

جلیلہ حیدر تصویر کے کاپی رائٹ Jalila Haider

بی بی سی کی 100 خواتین کی فہرست میں اس برس پاکستان میں صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کا نام بھی شامل ہے۔

دنیا بھر کی 100 با اثر خواتین میں پاکستان سے شامل کیے جانے پر جلیلہ حیدر خوش بھی ہیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم بھی۔

’مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اتنے بڑے ادارے نے مجھے اور میرے کام کو سراہا۔ لیکن اِس کے بعد اب ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ جیسے کہ اب بہت سارے لوگ توقع کرتے ہیں ہم اُس معاملے پر بات کریں اور اِس پر نہ کریں۔‘

یہ بھی پڑھیے

آرمی چیف کی ’یقین دہانی‘ پر جلیلہ کی بھوک ہڑتال ختم

بی بی سی کی 100 خواتین کی فہرست میں کون کون شامل ہے؟

جلیلہ حیدر: کوئٹہ میں اتنے دنبے ذبح نہیں ہوئے جتنے ہزارہ قتل ہوئے

جلیلہ حیدر سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں متبادل بیانیہ رکھنے والوں پر ’ایجنٹ‘ کا لیبل یا ’کفر کا فتویٰ‘ لگایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’مگر یہ تو ہم ملک کی خاطر کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/@jalila.haider.3

وہ کہتی ہیں کہ ’پوری دنیا میں پاکستان کا نام انسانی حقوق کے حوالے سے خراب ہو رہا ہے تو اُس پر تنقیدی رائے دیں تاکہ اُسے درست سمت استوار کیا جا سکے۔‘

بچوں کے حقوق سے سماجی کارکن بننے تک کا سفر

اپنے والد کی زندگی میں پُرآسائش زندگی گزارنے والی 12 سالہ جلیلہ کو اپنے والد کی خودکشی کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے جہاں آسمان سے زمین پر لا پٹخا وہیں اُنھیں یہ بھی سمجھا دیا کہ ’کچھ ہے جو برابری کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیوں کہ ریاست ہر بچے کی ذمہ داری نہیں اٹھاتی۔‘

اس کے بعد جلیلہ کی والدہ گھر کے گزر بسر کے لیے ہوم سکول چلاتی تھیں۔ یہاں آنے والے بچوں کو دیکھ کر اُنھیں احساس ہوا کہ کچھ بچے اِس دنیا میں اُن سے بھی زیادہ برے حالات میں ہیں۔

یہی وہ لمحہ تھا جب انھوں نے بچوں کے حقوق اور اُن کی فلاح و بہبود کے لیے کام کا آغاز کرنے کا سوچا اور ایک فلاحی سکول میں چھ سال تک تدریس کے شعبے سے وابسطہ رہیں۔

سنہ 2011 کے دوران سوشل ازم کا مطالعہ کیا اور چند تحریکوں سے وابسطہ ہونے کے بعد جلیلہ حیدر کو معلوم ہوا کہ مزاحمت میں بہت زیادہ طاقت ہوتی ہے۔ یہی وہ سال تھا جب ہزارہ زائرین کو بس سے اُتار کر اُن کی شناخت کی بنیاد پر گولیاں ماری گئیں۔

جلیلہ کے مطابق ’اُس وقت مجھے زندگی میں پہلی بار پتہ چلا کہ ہماری شناخت ہمارے لیے کتنی خطرناک ہے۔‘

یہ وہ موقع تھا جب جلیلہ حیدر نے سماجی کارکن یا انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر کام کیا اور ہزارہ خواتین کو کوئٹہ پریس کلب پر جمع کر کے پہلی بار برادری کی خواتین کا منظم مظاہرہ کیا۔

’اُسی سال میری قانون کی تعلیم بھی مکمل ہوئی تو میں نے اپنے آپ کو امپاورڈ محسوس کیا۔‘

وکالت اور سماجی خدمت کا کام چلتا رہا لیکن گذشتہ برس 2018 میں جب جلیلہ حیدر سٹاک ہوم جینڈر اکوالٹی فورم سے واپس آئیں تو اپنی والدہ کو فیس بُک پر ایک بچے کی ویڈیو دیکھتے پایا۔ ویڈیو میں بچہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا کیونکہ اُس دن پھر ہزارہ برادری پر حملہ ہوا تھا۔

جلیلہ حیدر کہتی ہیں کہ ’میری بنیاد اُس بچے کی چیخ سے ہل گئی اور میں دوڑ کر کوئٹہ پریس کلب چلی گئی۔ وہاں مجھے پتہ چلا کہ ہمارے مرد بہت زیادہ مصلحت پسند ہیں اور اِس معاملے کو انسانی بنیاد پر نہیں دیکھ رہے۔

’وہاں میں نے تمام اقوام سے اپیل کی کہ وہ ہمارا ساتھ دیں۔‘

جلیلہ سمجھتی ہیں کہ یہ ہزارہ برادری کا دیگر برادریوں کے ساتھ پہلا باقاعدہ رابطہ تھا جس کے پیچھے اُس بچے کی چیخ تھی جو اُنھوں نے فیس بُک پر سنی تھی۔

انسانی حقوق کی جنگ میں کبھی ذاتی نقصان ہوا؟

وہ کہتی ہیں کہ انھیں جبری گمشدگیوں کے معاملے میں فعال کردار ادا کرنے پر اِس سال برطانیہ کی ایک سکالرشپ سے محروم ہونا پڑا۔

یہ سکالر شپ بار کونسل کے ذریعے حکومت دیتی ہے اور جلیلہ حیدر کا دعویٰ ہے کہ شروع میں تو اس فہرست میں ان کا نام تھا لیکن حتمی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔

’پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے میں شرکت کے بعد میری پروفائلنگ کی گئی اور مجھے بری طرح ہراساں کیا گیا۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ کسی ساتھی نے اس پر بات نہیں کی اور میں نے بھی اِسے سوشل میڈیا پر اس ڈر سے نہیں اُٹھایا کہ جو لوگ ایکٹوزم کرنا چاہتے ہیں وہ ڈر نہ جائیں۔‘

جلیلہ حیدر نے بتایا کہ گذشتہ برس لندن سے واپسی پر یہ بات مشہور کرائی گئی کہ وہ ’ایجنٹ‘ ہیں اور کسی ’ایجنڈے‘ پر کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے اُنھیں اپنے تحفظ کے خطرات لاحق ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/@jalila.haider.3

’میری کردار کشی کی گئی کہ والد نے میرے کردار کی وجہ سے خود کشی کی تھی جبکہ میں اُس وقت صرف 12 برس کی تھی۔ میرے شادی نہ کرنے کی غلط وجوہات بیان کی گئیں۔‘

جلیلہ حیدر نے بتایا کہ والد کی وفات کے بعد ’زندگی کی تلخ حقیقت اور سخت زندگی نے اُنھیں موقع ہی نہیں دیا کہ وہ اِس جانب سوچ سکتیں۔ البتہ اُنھیں کئی بار پیشکش ہوئی۔‘

آگے کی منزل

جلیلہ حیدر نے بتایا کہ جدوجہد ایک دن کا کام نہیں ہے ’یہ انتہائی طویل ہوتی ہے اور کوئی بھی تبدیلی ایک دن میں نہیں آتی۔

'تو آزدای اظہار کے تناظر میں بلوچستان میں جو سکوت طاری ہے ہم اُس میں صرف پتھر ڈالتے ہیں تاکہ پانی میں ہلچل پیدا ہو اور لوگ سوچیں اور بات کرنا شروع کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Jalila Haider

اُنھوں نے بتایا کہ وہ آگے بھی معاشرے کے حساس موضوعات پر نہ صرف بات کرتی رہیں گی بلکہ اُن کے سدھار کے لیے کوششیں بھی کریں گی۔

مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا 'ماورائے عدالت قتل ہے، جبری طور پر لاپتہ کیا جانا ہے، مذہبی اور نسلی اقلیوں کے جو مسائل ہیں اور اسی طرح سیاسی جدوجہد پر پابندیاں ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ وہ ان مسائل پر اِس لیے بات کرتی رہیں گی تاکہ ’یہ ایک جمہوری ملک بنے اور اِس کی ترقی کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔‘

اسی بارے میں