وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اصل کون ہے اور روبوٹ کون، بوجھو تو جانیں

بات سے بات

دنیا چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے۔ پہلا صنعتی انقلاب چھاپے خانے کی ایجاد اور ٹیکسٹائل مشینری کی تنصیب پر ختم ہوا۔ یعنی حرف اور لباس عام دسترس میں آ گیا۔

دوسرا صنعتی انقلاب ضروریاتِ زندگی کی بکثرت پیداوار اور اس پیداوار کی عام آدمی تک پہنچ کا سبب بنا۔ اس کے طفیل وہ اشیا جو اشرافیہ کی دسترس میں سمجھی جاتی تھیں عام ہو گئیں جیسے موٹرسائیکل، کار، فریج، سیاحت و تفریح وغیرہ۔

تیسرے صنعتی انقلاب نے تیز رفتار ذرائع آمدورفت اور رابطے کے طریقے عام کیے اور انٹرنیٹ جیسی سہولتیں ہر ماجھے ساجھے کے لیے ممکن بنائیں۔

یہ بھی پڑھیے

اپوزیشن کا باپ بھی حکومت نہیں گرا سکتا

اکیلا باصلاحیت کپتان کیا کر سکتا ہے؟

صحافیو سچ کو جھوٹ میں مت ملاؤ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چوہاؤ نامی میڈیائی روبوٹ بغیر رُکے خبریں پڑھ سکتا ہے اور رپورٹنگ کر سکتا ہے

چوتھا صنعتی انقلاب سمارٹ ٹیکنالوجیز کے ذریعے ڈیٹا کے جن کو قابو میں لانے اور اس ڈیٹا کی بنیاد پر ترقی پانے والی مصنوعی ذہانت کے ذریعے زیادہ سے زیادہ کام انسانی دماغ و ہاتھ سے انسان کے بنائے مصنوعی ہاتھوں اور دماغوں کے ذریعے انجام دینے کا عمل آگے بڑھا رہا ہے۔

یعنی انسانوں نے اپنی روزمرہ زندگی سمارٹ فونز، ایپس اور ہر طرح کے ضروری ڈیٹا سے مسلح روبوٹ مشینوں کے ہاتھ میں دے دی ہے۔

ان سمارٹ ٹیکنالوجیز کے ذریعے جہاں عام آدمی اپنی زندگی کو مادی اعتبار سے سہل اور تیز رفتار بنانے کے قابل ہوا وہیں حکومتیں بھی رعایا کے روزمرہ اور دماغوں کو بہت حد تک کنٹرول کرنے پر قادر ہو گئی ہیں۔

فی الحال بیشتر ممالک میں عام آدمی دوسرے اور تیسرے صنعتی انقلاب سے گزر رہا ہے جبکہ ریاستی اسٹیبلشمنٹ چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’صوفیہ‘ پہلی متحرک ذہین مشین ہے جسے دو برس پہلے سعودی شہریت عطا کی گئی

ڈیٹا کے بنیادی ذرائع پر اس کا کنٹرول ہے اور اس کنٹرول کے ذریعے پیدا ہونے والی مصنوعی ذہانت سے اصلی ذہانت پر گرفت مضبوط کرنے کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

صوفیہ نامی روبوٹ پہلی متحرک ذہین مشین ہے جسے دو برس پہلے سعودی شہریت عطا کی گئی۔

گذشتہ برس نومبر میں چین میں پہلاروبوٹ صحافی اور نیوز کاسٹر متعارف کروایا گیا۔ وہ اپنے حلیے، آواز، پڑھت اور سر کی جنبش سے بالکل انسان لگتا ہے۔

چوہاؤ نامی یہ میڈیائی روبوٹ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژن ہوا اور سرچ انجن سوگو نے متعارف کروایا جو انتھک اور بلا رکے خبریں پڑھ سکتا ہے اور رپورٹنگ کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں صحافت اور سیاست میں انسان اور روبوٹ کا فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے

پر مجھے لگتا ہے کہ پاکستان اردگرد کے دیگر ممالک کی نسبت چوتھے صنعتی انقلاب میں بہت تیزی سے دبے پاؤں داخل ہو رہا ہے اور امکان ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت کے عمومی فروغ میں تھوڑے ہی عرصے میں سبقت نہ لے جائے۔

خصوصاً صحافت اور سیاست کے شعبوں میں یہ بوجھنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

یہ جو سکرین پر خبریں پڑھ رہی ہے یا رپورٹنگ کر رہا ہے یا ٹاک شو کا میزبان یا مہمان ہے یا دھواں دھار پریس کانفرنس کر رہا ہے یا عدالت میں براجمان ہے یا سیکرٹریٹ میں آرم چیئر پر ہلکورے لیتے ہوئے سگار گھما رہا ہے یا کابینہ کے فیصلوں کی بریفنگ یا لانگ مارچ کی دھمکی دے رہا ہے۔

یہ واقعی اصل ہے یا مصنوعی ذہانت کا شاہکار انسان نما پروگرامڈ روبوٹ؟

یہ وفائیں ساری دھوکے، پھر یہ دھوکے بھی کہاں

چند دن کی بات ہے پھر لوگ ہم سے بھی کہاں ( احمد ہمدانی )

اسی بارے میں