حراستی مراکز کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل

مسنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے خیبر پختونخوا میں رائج مخصوص قوانین ایکشن ان ایڈ اینڈ سول پاور آرڈیننس 2019 اور حراستی مراکز کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اس کے خلاف 13 نومبر تک حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔

عدالت عظمی نے اس معاملے پر مزید سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے مبینہ شدت پسندی کے الزامات کے تحت حراست میں لینے جانے والے افراد کو قید میں رکھنے کے لیے بنائے گئے تقریباً 30 کے قریب 'حراستی مراکز' کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کا اختیار پولیس کو حوالے کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ احکامات صوبے میں مخصوص قوانین ایکشنز ان ایڈ اینڈ سول پاورز کے نفاذ کے خلاف دائر کردہ درخواست کو منظور کرتے ہوئے جاری کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’جب قانون ہی نہیں رہا تو سینٹر کی حیثیت کیا ہے؟‘

انسدادِ دہشتگردی کے مخصوص قوانین کی ضرورت اب کیوں؟

انسدادِ دہشتگردی کے مخصوص قوانین کی ضرورت اب کیوں؟

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ امریکہ نے گوانتاناموبے جیل اپنے ملک کی حدود سے باہر بنائی مگر ہم اپنی ہی حدود میں لوگوں کو نظر بند کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے موقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 245 سیکشن تین کے تحت پشاور ہائیکورٹ کو یہ کیس سننے کا اختیار ہی نہیں تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے اپنے ابتدائی مگر مختصر فیصلے میں حکومتی اداروں کو ہدایت کی تھی کہ تمام حراستی مراکز میں قید ملزمان کے خلاف ثبوت موجود ہونے کی صورت میں ان کے مقدمات ماتحت عدالتوں میں منتقل کیے جائیں یا جن کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں انھیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حراستی مراکز کب وجود میں آئے؟

پاکستان کے سابق قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں سنہ 2007 اور سنہ 2008 میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا اور اس دوران ہزاروں مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا۔

حکومت نے اس بڑے پیمانے ہر ہونے والی گرفتاریوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے سنہ 2011 میں ایکشنز اِن ایڈ آف سول پاور کے نام سے دو قوانین نافذ کیے جس میں ایک فاٹا جبکہ دوسرا ملاکنڈ ڈویژن کے زیرِ انتظام پاٹا کے اضلاع کے لیے تھا۔

ان قوانین کے تحت صوبے بھر میں متعدد حراستی مراکز قائم کیے گئے جس میں ہزاروں مبینہ شدت پسندوں کو قید رکھا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ حراستی مراکز صوبے کے مختلف علاقوں میں بدستور فعال ہیں اور ان کی تعداد تقریباً 30 کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ سرکاری اہلکاروں کے مطابق ان مراکز میں اب بھی مبینہ طور پر ہزاروں کی تعداد میں افراد شدت پسندی کے الزام میں کئی برسوں سے زیرِ حراست ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے حال ہی میں ایک آرڈیننس کے ذریعے ان مخصوص قوانین کا دائرہ پورے صوبے تک بڑھا دیا ہے۔ اس سے پہلے یہ قوانین صرف سابق فاٹا اور پاٹا میں نافذ العمل رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا حراستی مراکز ختم کرنا ممکن ہے؟

ایکشنز اِن ایڈ آف سول پاور قوانین کے خلاف درخواست دائر کرنے والے سینیئر وکیل شبیر گیلانی ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ عدالت عالیہ کی طرف سے جو مختصر فیصلہ جاری کیا گیا ہے اس کے تحت ان حراستی مراکز کو سب جیل قرار دیا گیا ہے اور اس کا سارا انتظام پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کو اختیار دینے کا مطلب اب وہاں کسی کو قید میں رکھنا جیل قوانین کے تحت ہو گا اور قیدیوں کو وہ تمام سہولیات میسر ہوں گی جو ملک کے دیگر مرکزی جیلوں میں قیدیوں کو حاصل ہیں۔

سینیئر وکلا کے مطابق مخصوص قوانین کے تحت حراستی مراکز میں قید افراد کو کوئی حقوق حاصل نہیں تھے یہاں تک کہ ان سے کوئی ملاقات بھی نہیں کر سکتا تھا۔

ملزمان کا کیا ہو گا؟

پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایک کمیٹی بنائی جائے گی جس کے مطابق حراستی مراکز میں قید تمام مشتبہ افراد کے مقدمات کا فرداً فرداً جائزہ لیا جائے گا۔

عدالت عالیہ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ جس مشتبہ شخص کے خلاف کوئی ثبوت ہو ان کے مقدمات عدالتوں میں منتقل کیے جائیں جبکہ ثبوت کی عدم دستیابی کی صورت میں مقدمہ خارج کر کے حراست میں لیے جانے والے افراد کو باعزت طور پر رہا کیا جائے۔

پشاور کے سینیئر کورٹس رپورٹر وسیم احمد شاہ کا کہنا ہے کہ ان حراستی مراکز میں سینکڑوں ایسے افراد قید ہیں جن کے خلاف ٹھوس ثبوت دستیاب نہیں لہذا امکان یہی ہے کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی صورت میں ایسے تمام افراد بری ہو جائیں گے۔

قانونی ماہرین کے مطابق حراستی مراکز میں قید افراد کے کیسسز میں گواہی کے لیے موجود قانون شہادت ایکٹ پر زیادہ عمل درآمد نہیں کیا جاتا اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ ریگولر عدالتوں میں بیشتر افراد عدم ثبوت کے تحت بری ہوجائیں گے۔

حراستی مراکز میں بعض اطلاعات کے مطابق ہزاروں مشتبہ افراد کو رکھا گیا ہے تاہم اب تک سرکاری طور پر ان افراد کی مصدقہ تعداد سامنے نہیں آ سکی ہے۔

سابق قبائلی علاقوں اور پختونخوا میں سنہ 2007 سے لے کر 2011 تک مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے ہونے والی کارروائیوں کے دوران ہزاروں مشتبہ افراد کو مبینہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے الزمات کے تحت حراست میں لیا گیا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں جب لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمشین بنایا گیا تو اس وقت کئی افراد بازیاب بھی ہوئے اور اس تعداد میں کسی حد تک کمی بھی دیکھنے میں آئی۔

ایک اہم سرکاری اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ حراستی مراکز میں قید ہزاروں افراد کو وہاں کئی برسوں سے رکھنا خود حکومت اور سکیورٹی فورسز کےلیے ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بذات خود ایک بڑا مسئلہ ہے کہ اتنے سارے 'دہشت گردوں' کو ایک ساتھ کئی برسوں تک حراستی مراکز میں رکھا جائے اور اس دوران ان کے کھانے پینے، رہن سہن اور سکیورٹی کا انتظام بھی آپ کے ذمے ہو۔

سرکاری اہلکار کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف کیسوں میں اکثر اوقات ججوں کی طرف سے خوف کا اظہار کیا جاتا تھا بلکہ بعض اوقات تو ججوں کی طرف سے صاف طور پر مقدمات سننے سے انکار کیا گیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت سخت قوانین کے نفاذ پر مجبور ہوئی۔

اسی بارے میں