مولانا فضل الرحمان کا ’آزادی مارچ‘: ’اسلام آباد کو بند کیا جاتا ہے، تو ہماری زندگیاں رک جائیں گی‘

ریڈزون

وفاقی حکومت نے حزبِ اختلاف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کو آزادی مارچ کی مشروط اجازت دے دی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام نے اس ماہ کی 27 تاریخ کو حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ جسے آزادی مارچ کا نام دیا گیا ہے، شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ مارچ 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گا۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 'اگر یہ مارچ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی تشریح کے مطابق آئین اور قانون کے دائرے میں ہوا تو اس کی اجازت ہو گی۔'

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت جمہوری نظریات کی سربلندی پر پختہ یقین رکھتی ہے۔ اعلامیے میں جمعیت علمائے اسلام کے مجوزہ احتجاج کے لیے ’آزادی مارچ‘ کا لفظ ہی استعمال کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا فضل الرحمان کے حکومت مخالف مارچ کا خصوصی ضمیمہ

انصار الاسلام کیا ہے، حکومت اس پر پابندی کیوں چاہتی ہے؟

’اداروں سے جنگ نہیں چاہتے، احتجاج حکومت کے خلاف ہے‘

Image caption وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے مختلف مقامات پر منگل کی رات سے کنٹینرز رکھے جانے کا سلسلہ جاری ہے

تاہم دوسری جانب حکومت اس مارچ کے حوالے سے خصوصی اقدامات کرتی بھی نظر آ رہی ہے۔

اسلام آباد میں ڈی چوک اور سرینا چوک کے آس پاس بدھ کی سہ پہر تک لگ بھگ پچاس کنٹینرز سڑک کنارے نظر آئے، جو ضلعی انتظامیہ کے مطابق مارچ کے شرکا ریڈ زون کی جانب جانے کی صورت میں سڑکوں پر رکھے جائیں گے۔

شہری کیا کہتے ہیں؟

اسلام آباد کے شہری مارچ اور کنٹینرز دونوں سے پریشان نظر آرہے ہیں۔

محمد بشیر نامی ایک شہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں کی جانب سے کنٹینرز کے استعمال سے ’پاکستانی سیاست کنٹینرز کی سیاست بن چکی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا ’ہم ابھی سے پریشان ہیں کہ کیا ہوگا؟ روزگار کی بھی فکر ہے اور ملک کی بھی۔ اگر اسلام آباد کو بند کیا جاتا ہے، تو ہماری زندگیاں رک جائیں گی‘۔

بدھ کی دوپہر کو بھی بلیو ایریا کے ساتھ اے کے فضل الحق روڈ پر دو ٹرالروں میں کنٹینرز ڈی چوک کی طرف لے جائے جارہے تھے، جن میں سے ایک ٹرالر ڈرائیور مستجاد نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کو صرف ڈیزل فراہم کیا گیا ہے، تاہم اُن کو یہ معلومات نہیں دی گئیں کہ اُنھیں کرایہ ملے گا بھی یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا ’پیسے کون دیتا ہے یہاں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ’ہر دھرنے میں ہمارے کنٹیرز استعمال ہوئے ہیں، لیکن کبھی بھی اُن کا کرایہ نہیں دیا گیا۔ اب بھی صرف ڈیزل دیا ہے، کرائے کا پتہ نہیں‘۔

تاہم وہاں موجود دوسرے ٹرالر کے ڈرائیور راشد محمود نے بتایا کہ اُن کے ساتھ انتظامیہ نے کرایہ طے کر لیا ہے اور اُنھیں ’ایک کنٹینر پر فی دن کے حساب سے سات ہزار روپے‘ دیے جائیں گے۔

کتنے کنٹینرز کا بندوبست کیا جا رہا ہے؟

اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کے بعض ذرائع کے مطابق پولیس نے جڑواں شہروں کے لیے تین سے چار سو کے درمیان کنٹینرز کا مطالبہ کیا ہے اور ان کنٹینرز کو دو دنوں سے مختلف علاقوں تک پہنچانے کا کام شروع کیا جاچکا ہے۔

اگرچہ ابھی تک ڈی چوک کے علاوہ کسی شاہراہ کو کنٹینرز کے ذریعے بند نہیں کیا گیا ہے، تاہم مختلف جگہوں پر یہ کنٹینرز سڑک کنارے پہنچا دیے گئے ہیں۔

پنجاب حکومت نے کیا ہدایات دی ہیں؟

پنجاب حکومت کی جانب سے 22 اکتوبر کو جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن میں صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔

ان اختیارات کے تحت ڈپٹی کمشنرز مخصوص جرائم بشمول بغاوت پر اکسانے جیسے کسی بھی کیس میں صوبائی حکومت کی طرف سے شکایت کنندہ ہوں گے۔

اسی بارے میں