گورنر پنجاب: وزیر اعظم عمران خان نے مریم نواز کو والد نواز شریف کے پاس سروسز ہسپتال میں رکھنے کی ہدایات دے دی

مریم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی تصویر کے کاپی رائٹ PML N

وزیر اعظم عمران خان نے مریم نواز کے علاج کے لیے انھیں سروسز ہسپتال منقتل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے والد نواز شریف کے پاس رکھنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

جمعرات کو گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مریم نواز کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سکے انھیں اپنے والد نواز شریف کے ساتھ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

گورنر پنجاب کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے ان سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے نواز شریف کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے بھی سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے بارے میں نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ مریم نواز کو جمعرات کو علی الصبح سروسز ہسپتال سے واپس کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نواز شریف کے مرض کی تشخیص

مسلم لیگ نواز کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف بدستور لاہور کے سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں ڈاکٹرز نے انھیں لاحق مرض کی تشخیص مکمل کرلی ہے۔

نواز شریف کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ نے نمائندہ بی بی سی ترہب اصغر کو بتایا ہے کہ ٹیسٹس کے رزلٹ اور ڈاکٹروں کی مشاورت کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ سابق وزیراعظم کو آئی ٹی پی کا مرض لاحق ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں نواز شریف کا علاج شروع کر دیا گیا ہے اور فی الحال انھیں بیرون ملک منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پلیٹلیٹس ہوتے کیا ہیں، ان کی کمی سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

’بدھ کو تحقیق کریں گے کہ پلیٹلیٹس میں کمی کیوں ہوئی‘

کیپٹن صفدر کو پیر کی رات کس الزام میں گرفتار کیا گیا؟

آئی ٹی پی کیا ہے؟

میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود نے بتایا ہے کہ آئی ٹی پی ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے مدافعتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں ضرورت سے زیادہ خون بہتا ہے اور پلیٹلیٹس کی کمی ہوجاتی ہے۔

ڈاکٹر محمود کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں خلیے خاص طور پر اس کی وجہ سے خون میں موجود پلیٹلیٹس خود بخود ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا ہے کہ نواز شریف کا علاج شروع کر دیا گیا ہے اور انھیں اس مرض کا دفاع کرنے اور مدافعتی نظام مضبوط بنانے کے لیے انجکشن دیے جا رہے ہیں ’جس کا مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ آئندہ دو تین روز نواز شریف کا یہ علاج جاری رکھا جائے گا۔

ڈاکٹر کے مطابق اس مرض کے علاج کے لیے نواز شریف کو فی الحال بیرون ملک منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ڈاکٹرز نے انھیں اس دوران دانت برش کرنے یا شیو کرنے سے منع کر دیا ہے کیونکہ اس صورت میں اخراج خون ہو سکتا ہے جسے پلیٹیس کی کم تعداد کی وجہ سے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

عمران خان کا بیان

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی دعائیں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔

ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی اختلافات اپنی جگہ، میں صدق دل سے نواز شریف کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔ انھیں علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایات دے چکا ہوں۔‘

اس سے قبل قائد حزبِ اختلاف اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف بھی اس وقت سروسز ہسپتال میں موجود ہیں اور ذرائع کے مطابق انھوں نے نواز شریف کی تیمارداری بھی کی ہے۔

سروسز ہسپتال کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ انھوں نے پی کے ایل آئی کی انتظامیہ کو تیار رہنے کا کہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کو وہاں شفٹ کرنے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرے گا۔

نواز شریف کے جسم میں بدھ کو پلیٹلیٹس کی تعداد 29 ہزار سے گر کر سات ہزار تک آ گئی تھی تاہم انھیں پلیٹلیٹس لگائے جارہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PML N
Image caption مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ کے مطابق مریم نواز نے 'بلڈ پریشر میں کمی' اور 'سر چکرانے' کی شکایت کی تھی

مریم نواز کی کوٹ لکھپت واپسی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ مریم نواز شریف کو جمعرات کی علی الصبح جیل واپس منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کی شب کو مریم نواز شریف کو اپنے والد سے ملنے کے لیے جیل سے سروسز ہسپتال جانے کی اجازت دی گئی تھی اور ہسپتال پہنچنے کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی کہ انھیں طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مریم نواز کو ڈاکٹروں کی ہدایت کے برخلاف کوٹ لکھپت جیل واپس لے جانے کی شدید مذمت کی گئ ہے۔

ان کا جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق طبیعت کی ناسازی کے باوجود مریم نواز کو صبح پانچ بجے جیل واپس بھیجنا تشویش ناک ہے۔

مریم اورنگزیب کے جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے دعویٰ کیا کہ جیل واپسی کے وقت بھی مریم نواز کی طبیعت خراب تھی اور انھیں بلند فشار خون اور دل کی دھڑکن نارمل نہ ہونے کی شکایت تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMLN

مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرز نے ٹیسٹس کے بعد مریم نواز کو ہسپتال داخل کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ گذشتہ چند روز سے ان کی طبیعت ناساز ہے۔

انھوں نے حکام پر الزام عائد کیا کہ مریم نواز کے طبی تجزیے کی رپورٹس ان کے بچوں اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو فراہم نہیں کی جارہی تھیں۔ مریم نواز شریف کی اس انداز میں جیل واپسی پہلے سے بیمار نواز شریف کو مزید ذہنی اذیت پہنچانے کی ایک اور کوشش ہے۔

اس سے قبل بدھ کی شب کو مریم نواز اپنے والد کی عیادت کے لیے جب سروسز ہسپتال پہنچی تھی تو مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ کے مطابق نواز شریف سے ملاقات کے بعد وہ ’بیہوش ہونے والی تھیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے ’بلڈ پریشر میں کمی‘ اور ’سر چکرانے‘ کی شکایت کی تھی۔

والد کی صحت کے تذکرے پر مریم نواز غمگین

مریم نواز شریف کی ترجمان عظمیٰ بخاری کے مطابق مریم نواز شریف کی طبیعت ایک ہفتے سے ناساز تھی اور انھوں نے ’انفیکشن‘ کی شکایت کی تھی اور اب ان کے ٹیسٹ کیے گیے ہیں۔

عظمیٰ بخاری کے مطابق جناح ہسپتال کے ڈاکٹرز ان کا علاج کر رہے تھے۔

اس سے قبل بدھ کو ہی احتساب عدالت میں پیشی کے موقعے پر مریم نواز نے استدعا کی تھی کہ جیل واپسی پر انھیں ہسپتال میں اپنے والد سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاہم عدالت نے مریم نواز کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

مریم نواز کے بقول انھیں ہسپتال میں والد سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

احتساب عدالت میں پیشی کے موقعے پر مریم نواز سے ان کے بیٹے جنید صفدر نے بھی ملاقات کی تھی۔ مریم نواز نے اُن سے اپنے والد نواز اور شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی خیریت معلوم کی۔ والد کی صحت کے تذکرے پر مریم نواز غمگین نظر آئیں۔

نواز شریف کی صحت خراب ہونے پر پیر کی رات انھیں نیب تحویل میں سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں