ورلڈ بینک کی درجہ بندی میں پاکستان کی بہتر پوزیشن: ’ایز آف بزنس‘ میں پاکستان اتنی بہتری کیسے لایا؟

پاکستانی کرنسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ورلڈ بینک کی سالانہ ’ایز آف بزنس‘ یعنی کاروبار کرنے میں آسانی کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی گذشتہ سال کے مقابلے میں 28 پوزیشنز کی بہتری آئی ہے۔

190 ممالک کے موازنے میں پاکستان اپنی 2018 کی پوزیشن 136 سے اٹھ کر اس سال 108ویں پوزیشن پر آ گیا ہے۔

اس سال سب سے زیادہ بہتری لانے والی معیشتوں میں انڈیا، سعودی عرب، چین، کویت، نائیجیریا، اردن، ٹوگو، بحرین اور تاجکستان بھی شامل ہیں۔ انڈیا کی اس سال 63 ویں پوزیشن آئی ہے۔

حال ہی میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے والے ہارون شریف کے وزیراعظم کو بھیجے گئے استعفے کے بارے میں مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس میں انھوں نے عمران خان کو پیش گوئی کی تھی کہ اس سال پاکستان کم از کم 25 پوزیشنز اوپر آئے گا۔

یہ بھی پڑھیے

’تحریک انصاف نے محدود معاشی کامیابی حاصل کی‘

نئے پاکستان پر قرض، واجبات کے بوجھ کا نیا ریکارڈ

پاکستان کی عوام پر بیمار معیشت کا کتنا بوجھ ہے؟

اس درجہ بندی میں بہتری کا مطلب کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ World Bank

پہلی بات تو یہ کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو گئی ہے۔

ملک میں موجودہ مہنگائی کا رجحان اور شرحِ نمو میں کمی اپنی جگہ قائم ہیں۔ ورلڈ بینک کی ہی ایک اور حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں سرمایہ کاری میں تقریباً نو فیصد کمی آئی اور صنعتی پیداوار کی شرحِ نمو اس سال صرف 1.4 فیصد رہ گئی ہے۔

ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق حقیقی شرحِ نمو مالی سال 2020 میں کم ہو کر 2.4 فیصد ہو جائے گی اور مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

تو اس کی اہمیت کیا ہے؟

ایز آف بزنس کی درجہ بندی کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی ملک میں کاروبار کرنا یا یوں کہیں کہ کسی مارکیٹ میں داخل ہونا کتنا آسان ہے۔

عموماً غیر ملکی سرمایہ کارکسی ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اس انڈیکس کو اپنے فیصلے کا حصہ بناتے ہیں۔

اس انڈیکس میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ ہم توقع کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھنے کا امکان ہے جس سے قومی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور ملکی معیشت بہتر ہو گی۔

غیر ملکی کمپنیاں اب یہاں سرمایہ کاری کرنے کو قدرے زیادہ راضی ہوں گی۔ یعنی اس بہتری سے پاکستانی معیشت کو طویل المدتی فوائد ہوں گے اور یہ ایک اہم کامیابی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ World Bank

اس درجہ بندی کو بنانے میں ورلڈ بینک کسی بھی معیشت کے دس مختلف پہلوؤں کو جانچتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

  • کاروبار شروع کرنا کتنا آسان ہے (مثلاً کمپنی رجسٹر کرنا کتنا آسان ہے)
  • تعمیر کرنا کتنا مہنگا اور اس سلسلے میں اجازت نامے حاصل کرنا کتنا آسان ہے (اگر آپ نے کوئی عمارت بنانی ہے تو ضلعی انتظامیہ سے منظوری لینا کتنا مشکل ہے)
  • بجلی کا کنیکشن لینا کتنا مشکل ہے اور اس کی رسد کتنی مستحکم ہے
  • پراپرٹی رجسٹر کرنا کتنا آسان ہے
  • بینکاری کے نظام سے قرضے اور سرمایہ حاصل کرنا کتنا آسان ہے
  • چھوٹے سرمایہ کار کے تحفظ کا نظام کتنا مضبوط ہے (مثلاً سٹاک مارکیٹ میں کمپنیوں کو اپنی کیا تفصیلات دینی لازمی ہوتی ہیں)
  • ٹیکس کی شرح کیا ہے اور ٹیکس ادا کرنا کتنا آسان ہے
  • وہاں سے دیگر ممالک میں تجارت کرنا کتنا آسان ہے
  • قانونی معاہدوں پر عمل درآمد کتنا مستحکم ہے
  • دیوالیہ کی صورت میں مسائل حل کرنا کتنا آسان ہے

پاکستان نے یہ بہتری کیسے حاصل کی؟

ورلڈ بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان ان دس میں چھ معاملات میں بہتری لایا ہے۔

  1. پاکستان نے کاروبار شروع کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے لاہور اور کراچی دونوں میں آن لائن پلیٹ فارم دے دیا جہاں تمام سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لاہور میں لیبر ڈپارٹمنٹ کی ریجسٹریشن فیس ختم کر دی گئی
  2. کراچی میں تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنے کے نظام میں بہتری آئی ہے جہاں یہ عمل آسان تر اور تیز تر ہوا ہے۔ اور تعمیراتی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے بروقت انسپکشن کے عمل کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ادھر لاہور میں تعمیراتی نظام کو بہتر کرنے کے لیے اس حوالے سے ون ونڈو آپریشنز میں بہتری لائی گئی ہے۔
  3. پاکستان میں بجلی کا کنیشکن حاصل کرنے کا عمل آسان تر ہوا کیونکہ سروس ڈیلیوری کے لیے وقت کا تعین کر دیا گیا اور نئی درخواستوں کے لیے آن لائن پورٹل متعارف کروایا گیا۔ اس سے بجلی کے نرخ میں بھی شفافیت آئی۔
  4. کراچی میں پراپرٹی کے اندراج کے عمل کو تیز کرنے کے سب رجسٹرار کے دفتر کے قوائد میں آسانی پیدا کی گئی۔ لاہور میں لینڈ ایڈمنسٹریشن نظام کی شفافیت کو بڑھایا گیا۔
  5. پاکستان میں ٹیکس کی ادائیگی میں آسانی لائی گئی جس کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور کارپورٹ انکم ٹیکس کو آن لائن ادا کرنے کی سہولت متعارف کروائی گئی
  6. پاکستان نے عالمی تجارتی کرنا آسان بنانے کے لیے اپنے مختلف اداروں کے درمیان انٹیگریشن کو بہتر بنایا اور ویب بیسڈ کسٹمز کو بہتر کیا۔ اس کے علاوہ عملی انسپکشنز مختلف ادارے ان مل کر سکتے ہیں۔

عملی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کو ابھی بھی اس حوالے سے بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ بہتریاں بہت خوش آئند ہیں اور موجودہ حکومت کو اس کی داد دینی چاہیے۔ مگر یہ تبدیلیاں قوانین میں تو لکھ دی گئی ہیں اور کہیں کہیں تو عمل میں بھی لائی گئی ہیں مگر انھیں ہماری کاروباری ثقافت میں پکا ہونے میں وقت لگے گا۔

پاکستان کی پوزیشن میں بہتری اپنی جگہ، لیکن ہم اب بھی 190 میں سے 108ویں پوزیشن پر ہیں۔ یوں سمجھیں کہ ہم کلاس کی پچھلی سیٹوں سے اٹھ کر درمیان میں آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ فرسٹ آنے میں ابھی وقت لگے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں