پاکستان میں بیمار قیدی کو علاج کی اجازت کیسے ملتی ہے؟

نواز شریف کا پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption پاکستان میں اس وقت نواز شریف کی بیماری پر حکومت اور حسب اختلاف میں الفاظ کی جنگ جاری ہے

پاکستانی جیلوں میں قید مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے آئے روز حکومت پر جیل میں مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کرنے اور قید رہنماؤں کو علاج معالجے کی غرض سے جیل سے باہر مناسب ہسپتالوں میں منتقل نہ کرنے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔

بی بی سی نے اس رپورٹ میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ رائج قوانین کے تحت اگر کوئی قیدی دورانِ قید بیمار ہو جاتا ہے تو اس حوالے سے جیل کے ضوابط کیا ہیں اور کسی قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال میں منتقل کرنے کے لیے جیل حکام کو صوبائی حکومت سے کس نوعیت کا اجازت نامہ درکار ہوتا ہے، اور یہ اجازت نامہ کن بنیادوں پر جاری کیا جاتا ہے۔

بیمار قیدی کی شکایت اور حکام کی ذمہ داری

صوبہ پنجاب کی ایک جیل کے سپرٹنڈنٹ نے بتایا کہ پاکستان پریزنز رولز 1978 (پاکستانی جیلوں کے قواعد) اس حوالے سے بہت واضح ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ رول 788 کے تحت جب بھی کوئی قیدی کسی بیماری یا طبعیت خراب ہونے کی شکایت کرتا ہے تو جیل میں موجود میڈیکل آفیسر یا جونیئر میڈیکل آفیسر کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کا معائنہ کرے اور ضرورت محسوس ہونے پر اسے جیل میں موجود ہسپتال میں مزید علاج کی غرض سے داخل کرے۔

یہ بھی پڑھیے

کوٹ لکھپت کا قیدی نمبر 4470

’سب جیل‘ اور عام جیل میں کیا فرق ہے؟

نواز اور مریم کو جیل میں کیا سہولیات دستیاب ہوں گی؟

اس کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم اس حوالے سے جیل سپرٹنڈنٹ کو آگاہ کرنا اور قیدیوں کے رجسٹر میں اندراج کروانا میڈیکل آفیسر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

جیل سپرٹنڈنٹ کے محدود صوابدیدی اختیارات

تاہم اگر کسی قیدی کو جیل سے باہر کسی ہسپتال لے جانے کی ضرورت ہو تو اس کے قواعد یکسر مختلف ہیں اور اس کے لیے حکومتی اجازت نامے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس اجازت نامے کا اجرا صوبائی ہوم سیکرٹری کے دستخط سے ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سروسز ہسپتال میں داخلے سے پہلے نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے تھے

انھوں نے بتایا کہ رول 197 کے مطابق کسی شدید علیل قیدی کو ایمرجنسی کی بنیاد پر جیل سے باہر کسی ہسپتال لے جانے اور معائنے یا ضروری ٹیسٹ یا علاج کے بعد اسی روز واپس جیل لانے کے حوالے سے جیل سپرٹنڈنٹ کے پاس صوابدیدی اختیارات ہوتے ہیں۔

تاہم بیمار قیدی کو اسیِ ضلعے کی حدود کے اندر (جہاں جیل ہے) واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال تک ہنگامی بنیادوں پر لے جایا جا سکتا ہے اور اسی روز واپس جیل لانا ضروری ہوتا ہے۔ اور اس کا باقاعدہ اندارج جیل رجسٹر میں ہونا ضروری ہے۔

صوبائی ہوم سیکرٹری کے اختیارات

جیل سپرٹنڈنٹ کے مطابق اگر کسی بیمار قیدی کو آؤٹ سٹیشن لے کر جانا ہے اور ہسپتال داخل کروانا مطلوب ہو تو اس کے لیے صوبائی ہوم سیکرٹری کا پیشگی اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔

جیل سپرٹنڈنٹ جیل کے میڈیکل افسر اور متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے سپیشلسٹ ڈاکٹر کی سفارش پر خط ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کو بھیجتے ہیں جو ضروری کارروائی کے بعد اسے آئی جی جیل خانہ جات کو ارسال کر دیتے ہیں اور اس کے بعد یہ صوبائی ہوم سیکرٹری تک پہنچتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف کو پیر اور منگل کے درمیانی شب سروسز ہسپتال میں داخل کیا گیا

ہوم سیکرٹری سے تحریری اجازت نامہ منظور ہونے کے بعد قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال داخل کروا دیا جاتا ہے اور جیل قواعد کے تحت پولیس کے باوردی اہلکار ایسے قیدی کی حفاظت کے لیے ہسپتال کے وارڈ یا کمرے کے باہر تعینات کر دیے جاتے ہیں۔

ہوم سیکرٹری کس بنیاد پر اجازت نامہ جاری کرتا ہے؟

پاکستان کی جیلوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹر نہیں ہوتے بلکہ ایک جنرل فزیشین تعینات ہوتا ہے۔

جیل سپرٹنڈنٹ کے مطابق کسی بھی جیل کا سپرٹنڈنٹ کسی قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے سپیشلسٹ ڈاکٹر کی تجویز پر کرتا ہے۔

’جب درخواست ہوم سیکرٹری تک پہنچتی ہے تو وہ فیصلے سے قبل ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیتے ہیں جس میں قیدی کی بیماری کو مدِنظر رکھتے ہوئے دو، تین یا بعض اوقات چار ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ اس بورڈ میں قیدی کو لاحق بیماری کا سپیشلسٹ بھی ہوتا ہے۔ اگر بورڈ یہ فیصلہ کرے کہ قیدی کو جیل سے باہر کسی ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت ہے تو ہوم سیکرٹری اجازت نامہ جاری کر دیتے ہیں۔‘

سیاستدان قیدی

جیل سپرٹنڈنٹ نے بتایا کہ عموماً جب بات سیاست سے وابستہ قیدیوں کی آتی ہے تو سپرٹنڈنٹ اپنے محدود صوابدیدی اختیارات بھی استعمال کرنے سے گھبراتے ہیں اور صوبائی حکومت کے احکامات کا انتظار کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'سیاسی قیدیوں کے معاملات عموماً سیاسی حکومتیں دیکھ رہی ہوتی ہیں اور سیاسی قیدی کو دی جانے والی رعایت بھی بعض اوقات حکام کی ناراضگی کا باعث بن سکتی ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تاہم ان کا کہنا تھا کہ جیل قوانین تمام قیدیوں کے لیے یکساں ہیں اور اس میں سیاسی یا عام قیدی کی کوئی تفریق نہیں ہے۔

بیرونِ ملک جانے کی اجازت

جیل سپرٹنڈنٹ کے مطابق علاج کے لیے کسی قیدی کو بیرونِ ملک لے جانے کی کوئی نظیر ان کے علم میں نہیں ہے۔

'مجھے مختلف جیلوں میں ڈیوٹی کرتے 16 برس ہو چکے ہیں مگر میں نے آج تک صوبائی محکمہ داخلہ سے کوئی ایسا اجازت نامہ آتے نہیں دیکھا جس میں قیدی کو بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت دی گئی ہو۔'

ان کا کہنا تھا یہ صرف ایک ہی طرح ممکن ہے کہ وفاقی حکومت کوئی مخصوص اجازت نامہ جاری کرے یا عدالت بیمار قیدی کی ضمانت منظور کرے اور اپنے آرڈر میں لکھے کہ فلاں فلاں شخص کو ضمانت کے عرصے میں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں کوئی ایسا کورٹ آرڈر بھی نہیں ہے۔

اسی بارے میں