Sahiwal#: عدالت نے تمام اہلکاروں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا

ساہیوال تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption رواں برس 19 جنوری کو ساہیوال کے ٹول پلازہ کے قریب سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے ایک خاتون اور بچی سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی مبینہ فائرنگ سے شہریوں کی ہلاکت کے مقدمے میں تمام چھ اہلکاروں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ارشد حسین بھٹہ نے جمعرات کو اس مقدمے میں فیصلہ سنایا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کہا کہ قانون کے تقاضے پورے کرنے کے لیے واقعے کی سفاکی اور سنگینی کے بجائے شہادت کو مدنظر رکھنا ہے۔

عدالتی فیصلے میں یہ باور کرایا گیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ چاہے کچھ بھی ہو انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہییں۔

عدالت نے سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں صفدر حسین، احسن خان، رمضان، سیف اللہ حسین اکبر اور ناصر نواز کو شک کی بنیاد پر مقدمے سے بری کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ساہیوال ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا حکم، ایک ماہ میں رپورٹ طلب

ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلہ: پانچ بڑے سوالات

’بار بار مت پوچھیں کہ بیٹا بتاؤ کیا ہوا تھا!‘

بزدار صاحب، بچہ سو رہا ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ CM OFFICE

عدالت نے اپنا فیصلہ کن بنیادوں پر دیا؟

38 صفحات پر مشتمل فیصلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عدالت نے فیصلہ واقعے کی نوعیت پر نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر کرنا ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے چاہے ’آسمان گر جائے لیکن عدالت نے انصاف کیساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے‘۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت نے نشاندہی کی کہ استغاثہ نے ساہیوال کے واقعے کا ٹرائل عینی شاہدین، میڈیکل، ڈیجیٹل، شناخت پریڈ کی بنیاد پر کرایا۔ اس طرح وقوعہ میں استعمال ہونے والے اسلحے اور دیگر شواہد کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا تھا۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت نے یہ باور کرایا کہ ’گواہوں نے جائے وقوعہ پر گولیاں چلتی ہوئی نہیں دیکھیں‘۔

فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ استغاثہ کے کچھ گواہوں نے بیانات دیے ہیں کہ وہ واقعہ ہونے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’واقعے کے گواہوں‘ نے ملزمان کے بری ہو جانے پر کوئی اعتراض نہ ہونے کا بھی بیان دیا ہے۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ مقتول خلیل کے بیٹے عمیر نے بھی ملزمان کو پہچاننے سے انکار کیا اور ان کے بری ہونے پر اعتراض نہ ہونے کا بیان دیا ہے اور گواہوں کے بیانات کے بعد عدالت واقعے کے عینی شاہد نہ ہونے کے نتیجہ پر پہنچی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ عینی شاہدوں کے بیانات کی روشنی میں اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی اور ان کی عدم دستیابی کے باعث میڈیکل شواہد الزام ثابت کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوئے۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ملزمان کے ’فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ‘ میں بھی ملزمان کی شناخت نہیں ہوئی اور جائے وقوعہ سے ملنے والی گولیوں کے خول بھی تاخیر سے فرانزک کے لیے بھیجے گئے۔

فیصلے میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اس جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ دیگر گواہوں کی طرح اس وقوعہ میں زخمی ہونے والے گواہ بھی ملزموں کی شناخت نہیں کرسکے۔

وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری بھی ہوئی تھی۔

ابتدائی طور پر اس مقدمے پر کارروائی ساہیوال کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ہوئی لیکن لواحقین کی درخواست پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اس مقدمے کو ساہیوال سے لاہور منتقل کر دیا تھا۔

رواں برس 19 جنوری کو ساہیوال کے ٹول پلازہ کے قریب سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے ایک خاتون اور بچی سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بارے میں سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں ان افراد پر شدت پسند ہونے کا شبہ تھا۔

تاہم سی ٹی ڈی کے بدلتے بیانات، واقعے میں زخمی بچوں اور عینی شاہدین کے بیانات سے واقعہ مشکوک ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں