صدف اور اسد بیگ: معاشرے میں مرد اور عورت کے کرداروں کو چیلنج کرنے والے میاں بیوی

اسد بیگ اور صدف بیگ

پہلا منظر ہے۔ بیوی بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہے جبکہ شوہر دفتر میں اپنا کام کر رہا ہے۔

ذہن کا کیمرا گھمائیں، دوسرے منظر میں شوہر بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے اور بیوی اپنے کولیگز کے ساتھ کسی پراجکیٹ کے بارے میں بات کر رہی ہے۔

تیسرے منظر میں بیوی اور شوہر اپنے اپنے آفس کے کام میں مصروف ہیں اور پھر گھریلو کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔

یہ مناظر ایک ایسے جوڑے کے ہیں جو پاکستان میں کسی روایتی میاں بیوی کی روزمرہ کی زندگی سے کافی مختلف ہیں۔ میاں بیوی کے روایتی کرداروں سے وابستہ معاشرتی توقعات کے دباؤ کو نظر انداز کر کے ہی وہ دونوں یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

یہ وہی کچھ ہے جو ان دونوں کو ٹھیک لگتا ہے۔ انھوں نے شوہر اور بیوی کے رشتوں کے لیے معاشرے کے بنائے ہوئے اصولوں کے برعکس اپنے اصول خود بنائے ہیں اور ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ شوہر اور بیوی اسد بیگ اور صدف بیگ ہیں۔ جو اپنی زندگی گاڑی کے دو پہیوں کی طرح چلا رہے ہیں۔ اسد اور صدف ایک طویل عرصے تک میڈیا سیکٹر سے منسلک رہے اور اب یہ اپنا کام کر رہے ہیں۔

دونوں کام بھی ایک ہی آفس میں کرتے ہیں۔ ہم جب ان سے ملنے ان کے آفس پہنچے تو وہ دونوں اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ ہم نے ان سے کچھ وقت دینے کی درخواست کی اور ان مسائل پر بات کی جو ہمارے معاشرے میں روایتی شادی شدہ جوڑے کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔ ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کیسے مل جل کر اپنی زندگی کو آگے بڑھا رہے ہیں؟

اسد اور صدف کے دو بچے ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا رومی چار سال کا اور بیٹی ڈیڑھ سال کی ہے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ کون سے سوالات ہیں جو ان سے اکثر پوچھے جاتے ہیں۔

غیر روایتی جوڑوں کی مزید کہانیاں پڑھیے

ایک مثالی باپ کیسا ہوتا ہے

ماں یا باپ کی دوسری شادی اور بچے

'کیسی ماں ہو جو بچوں کو ڈے کیئر چھوڑ کر آتی ہو؟‘

بچوں کے ڈائپرز کون بدلتا ہے؟

روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال کرنا بیوی کی ہی ذمے داری ہے لیکن اسد اور صدف کی سوچ کچھ مختلف ہے۔ جب ہم نے ان سے یہ پوچھا کہ جب وہ دونوں ایک ساتھ بیٹھے ہوں تو بچوں کے ڈائپر کون بدلتا ہے۔

اسد نے بھرپور قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ بچے جس کی طرف اشارہ کر دیں اس کو بدلنا ہوتا ہے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بچوں کی چوائس ہے۔ اسد کہتے ہیں کہ جب ان کا بڑا بیٹا رومی پیدا ہوا تو ان کو شروع شروع میں تھوڑا سا مشکل لگتا تھا لیکن پھر سمجھ آئی کہ یہ کام اتنا بھی مشکل نہیں۔

صدف نے اسد کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شروع میں وہ بھی ہچکچاتی تھیں کیونکہ بہت چھوٹے بچے کو ہینڈل کرنا ان کے لیے بھی کوئی آسان کام نہیں تھا۔ بعد میں ایسا نہیں رہا، ’اب ہم دونوں کے لیے آسان ہے‘۔

اسد بیگ کہتے ہیں ’دونوں میں سے ایک بچہ رات کو سوتا بھی ان کے پاس ہے۔‘ اور وہ اس بات کی مخالفت کرتے ہیں کہ صرف بیوی کو ہی یہ ساری ذمے داری دے دی جائے۔

صدف کہتی ہیں کہ کوئی وجہ تو ہے جو بچوں کے لیے ماں اور باپ دونوں کو رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ اتنا بڑا کام ہے کہ کسی ایک کے کرنے سے نہیں ہو سکتا۔

اسد نے ہمیں کچھ سماجی واقعات بھی بتائے کہ کس طرح لوگ جب انھیں بچوں کے کام کرتے دیکھتے ہیں تو کیا سوچتے ہیں۔ انھوں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ایک دفعہ ان کے دفتر میں سے کوئی صاحب ان سے کسی مسئلے پر بات کر رہے تھے۔ اس مسئلے کے بارے میں انھیں نہیں پتہ تھا۔ ان کے جواب دینے سے قاصر رہنے پر ان کو کہا گیا، ’لگتا ہے آپ آج کل صرف بچے ہی پال رہے ہیں‘۔

ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک بار وہ کسی آفس میں ٹریننگ کروا رہے تھے، اور انھوں نے اپنے چھ ماہ کے بچے کو بھی اٹھا رکھا تھا تو کچھ لوگ ان کے پاس آ کر ’بیوی کے انتقال‘ پر افسوس کا اظہار کرنے لگے وہ اس لیے کہ انھوں نے بچہ اٹھا رکھا تھا۔

خوشحال شادی شدہ زندگی گرم روٹی کے گرد چکر کاٹتی ہے؟

جب ہم نے مسز خان کی ایک وائرل ویڈیو کا، جس میں وہ گرم روٹی کو خوشحال شادی شدہ زندگی گزارنے کا نسخہ قرار دیتی ہیں، ان سے ذکر کیا تو صدف سے زیادہ اسد اس سوال پر جواب دینا چاہتے تھے۔ اسد کا کہنا تھا کہ ’شوہر ہوتے ہوئے مجھے یہ بات اس لیے بری لگی کہ آپ نے ایک مرد کو صرف گرم روٹی تک ہی محدود کر دیا ہے۔ یہ منطق میری سمجھ میں نہیں آتی، یعنی مرد صرف ایک گرم روٹی کے پیچھے ہی پھر رہا ہے اور آپ تب ہی خوش رہ سکتے ہیں اگر آپ کو روٹی گرم ملے گی‘۔

صدف نے کہا کہ ’روایتی طور پر کھانا بنانا بیوی کی ذمے داری سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے عورت کے ذمے یہ کام ڈال دیا ہوا ہے اس لیے ایسی باتیں ہمیں سننے کو ملتی ہیں‘۔

صدف اور اسد اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جس کے پاس وقت ہے وہ کچن میں چلا جائے۔ اسد کہتے ہیں کہ ہم ایک ٹیم کے طور پر رہتے ہیں اور اگر ہم نے آدھی ٹیم کو کچن میں لگا دیا تو پھر نقصان آپ کا اپنا ہی ہو گا‘۔

یہ بھی پڑھیے

’لڑکے کو ماں سے بہت پیار ہے، شادی نہیں ہو سکتی‘

’مجھے میرے باپ کا نام نہیں چاہیے‘

جب باپ کو اپنی بچی کو دودھ پلانا پڑ گیا

تم کرو تو احسان، ہم کریں تو ذمہ داری

’بیوی ملازمت کرتی ہے تو ضرور شوہر سے کام کرواتی ہو گی‘

روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شوہر کا کام ہے ملازمت کرنا اور اگر بیوی بھی ملازمت کر رہی ہے تو ضرور شوہر ’رن مرید‘ ہو گا۔ اس سوال پر صدف اور اسد نے بھرپور قہقہ لگایا اور دونوں نے ایک ایک واقعہ سنایا کہ ان لوگوں کو کیا کیا باتیں سننی پڑتی ہیں۔

صدف کہتی ہیں کہ جب ان کی شادی اسد سے ہوئی تو مذاق میں لوگ کہتے تھے کہ شوہر سے کھانا بنواتی ہوگی۔ وہ کہتی ہیں کہ جو بیویاں ملازمت کرتی ہیں ان کے بارے میں یہ تاثر بنا لیا جاتا ہے کہ یہ شوہر سے کام کرواتی ہوں گی۔

اسد نے بھی اس پر ہمیں ایک واقعہ سنایا۔ جب ان کے آفس میں پتہ چلا کہ وہ ایک ملازمت پیشہ خاتون سے شادی کر رہے ہیں تو کہا گیا، ’شادی تو کر رہے ہو لیکن اگر بیوی کام کرتی ہو تو بڑے مسائل ہوتے ہیں اور اگر بیوی شوہر سے پیسے زیادہ کماتی ہو تو اور زیادہ مسئلہ ہو جاتا ہے‘۔

’ہائے بیوی کے بغیر شوہر کیا کرے گا۔۔۔‘

اگر بیوی گھر پر نہیں ہو گی تو شوہر کیسے رہے گا؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو عام طور پر بہت زیادہ سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

صدف نے بتایا کہ شادی کے چند برسوں بعد ان کو سکالر شپ پر ملک سے باہر جانا تھا تو ان کو ایسی باتیں سننی پڑیں کہ ’تم جا رہی ہو تو اسد کا خیال کون رکھے گا، کھانا کون بنائے گا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Media Matters For Democracy

اسی دوران اسد کو بھی وہ وقت یاد آ گیا جب ان کو کہا گیا ’صدف جا رہی ہیں، آپ بیمار ہو گئے تو کیا ہو گا‘۔ صدف نے اسد کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بتایا کہ یہ بھی کہا گیا کہ ’اسد استری چلتی چھوڑ گیا، گیس کا چولہا کھلا چھوڑ گیا تو کیا ہو گا‘۔

صدف کہتی ہیں کہ ’یہ وہ ساری باتیں تھیں جو میرے بارے میں نہیں کہی گئیں حالانکہ میں اکیلی کسی اور ملک جا رہی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد کو کوئی ذمے داری دی ہی نہیں جاتی اور نہ وہ لیتا ہے‘۔

صدف کہتی ہیں کہ ’ہم نے معاشرے میں شوہر اور بیوی کے کرداروں کو الگ الگ کر دیا ہے۔ گھریلو کام بیوی کے ذمے لگا دیے ہیں اور شوہر کے ذمے پیسے کمانے کا۔ دونوں کے لیے یہ درست نہیں ہے۔ مل جل کر کام کرنے سے ہی بات بنتی ہے‘۔

اسد سامنے بیٹھے صدف کی طرف دیکھتے ہوئے اس بار اپنے ارد گرد کے معاشرتی اور روایتوں کے دباؤ کو قہقہے اور مسکراہٹ سے ایک طرف نہیں جھٹکتے۔ وہ اس بار اپنے خاندان کے لیے کامیابی اور خوشحالی کی وجہ بتانا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم دونوں لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ آج ہم جو کچھ بھی ہیں اور وہ یقیناً شروعات سے تو بہت بہتر پوزیشن ہے۔ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ ہم نے اپنے کرداروں سے وابستہ توقعات کا خود تعین کیا ہے۔ ہم نے اپنی کہانی خود لکھی، کسی کو نہیں لکھنے دی اور ہم نے اس کا صلہ کامیابی اور خوشحالی کی صورت میں پایا ہے‘۔

اسی بارے میں