محمد حنیف کا کالم: کراچی کا اصلی کچرا

رکشہ

ایک منٹ سے بھی کم کی ویڈیو ہے۔ لوہے کی کرین کا بڑا سا جبڑا ایک رکشے پر گرتا ہے، رکشے کی اوقات ہی کیا کہ ریاستی حکم سے چلنے والی کرین کے جبڑے کا وار برداشت کرسکے۔ پھر دوسرا رکشا، پھر تیسرا، پھر چوتھا اور آخرکار پانچواں۔

کراچی میں ہر رکشے والا ہزار بارہ سو کی دہاڑی بنا لیتا ہے۔ جو کرائے پر لے کر چلاتے ہیں وہ چھ سو آٹھ سو کما لیتے ہیں۔ ایک منٹ کے اندر پانچ گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے جاتے ہیں۔

یہ ویڈیو کلپ یہیں پر ختم ہوگیا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اسکے بعد کرین نے کتنے گھروں پر ریاست کے حکم سے ڈاکہ ڈالا۔

محمد حنفیف کے دیگر کالم پڑھیے

جنازے پر سیاست

کشمیر مانگو گے۔۔۔

ہمارے اور اُن کے ریلو کٹے

کراچی کے محافظین سے گزارش

رکشوں کا جرم۔ غیر قانونی پارکنگ۔ اگر آپ کی کرولا غیر قانونی طور پر پارک ہو تو ایک کرین اسے اٹھا کر لے جائے گی، آپ ڈیڑھ ہزار روپے جرمانہ دیں اور گاڑی لے جائیں۔

لیکن ہماری ریاست نے، خاص طور پر کراچی کے حکمرانوں نے طے کرلیا ہے کہ اس ملک کے سارے مسائل کا حل یہی ہے کہ جہاں جہاں پر کوئی غریب دھندہ کر رہا ہے اسے نشانِ عبرت بنایا جائے۔

اس کی سب سے بھیانک شکل میں نے کراچی کے ساحل سمندر، جسے عرف عام میں سی ویو کہا جاتا، ہے وہاں پر دیکھی۔

یہاں پر چند ہفتوں سے کنٹونمنٹ بورڈ کو صفائی کا جنون چڑھا ہے۔ اس لیے ان سینکڑوں چھابڑی والوں پر پابندی لگا دی جو روز یہاں پر آنے والے اپنے جیسے غریب لوگوں کے ساتھ دھندہ کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس پر تسلی نہیں ہوئی تو ان گھوڑے اور اونٹ والوں پر پابندی لگا دی جو سمندر کی سیر کے لیے آنے والوں کو سواری کروا کر اپنے جانور اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

کراچی کا معاشی مزاج ایسا ہے کہ الطاف حسین اپنے عروج پر بھی شہر کو ڈھائی دن سے زیادہ بند نہیں کروا سکے۔ کیونکہ اس کے بعد گھر میں راشن ختم ہوجاتا تھا۔ ’بھائی جائے بھاڑ میں۔‘

تو سی ویو پر پابندی کے تیسرے دن کچھ گھوڑے والے آن موجود ہوئے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کی گاڑی انھیں پکڑنے کے لیے لپکتی ہی تھی کہ وہ اپنے گھوڑے بھگا کر سمندر کے گہرے پانی میں بھاگ جاتے اور انتظار کرتے کہ کنٹونمنٹ کی گاڑی کسی بھولے بھٹکے چھابڑی والے کے پیچھے بھاگے تو وہ نکلیں۔

اونٹوں والے غالباً اس لیے گھر سے نہیں نکلے کہ اونٹ زیادہ تیز نہیں بھاگ سکتے اور سمندر کے پانی میں جانے سے ہچکچاتے ہیں۔

میں نے ایک پینسٹھ سالہ بزرگ کو اپنے پاپڑوں کے تھیلے کے ساتھ ایک کچرا کنڈی کہ پیچھے چھپے دیکھا۔ اس انتظار میں کہ کنٹومنٹ کی گاڑی جائے اور وہ کچھ پاپڑ بیچ کر روزی کا آسرا کر سکے۔

کراچی میں کچرا صاف نہیں ہورہا، کراچی میں یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ اوئے غریبوں، تم کچرے کے علاوہ کچھ نہیں ہو۔ ہمیں نظر نہ آؤ، اپنی غریب شکلیں اور اپنے غریب دھندوں سمیت غائب ہوجاؤ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جن لوگوں نے کراچی کا سی ویو نہیں دیکھا انھیں بتاتے چلیں کہ یہ ہمارے سمندر کا وہ واحد ساحل ہے جہاں غریب آسکتا ہے۔ باقی ساحلوں پر پہلے ہی شہر کے امرا قبضہ کر کے اپنے بیچ ہٹ بنا چکے ہیں۔

پاکستان سے جو بھی کراچی آتا ہے ایک دفعہ سی ویو ضرور آتا ہے۔ بیس روپے کا بھٹہ لے کر کھاتا ہے، چالیس روپے کی گول گپوں کی پلیٹ میں پورا خاندان عیاشی کرتا ہے۔ بچے اسی روپے دے کر اونٹ کی سواری کرتے ہیں اور ساری عمر یاد رکھتے ہیں۔

چند ہفتے پہلے کیمرے لیے نوجوانوں کو دیکھا جو ایک سو بیس روپے لے کر سیاحوں کی تصویریں کھینچنے کا دھندہ کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آج کل تو ہر ایک کہ پاس کیمرے والا فون ہے پھر تمہارا دھندہ کیسے چلتا ہے۔

جواب ملا بھولے بادشاہو، یہاں روزانہ ہزاروں لوگ ایسے آتے ہیں جن کے پاس کیمرے والا فون نہیں، انھیں بھی تو گھر واپس جا کر دکھانا ہوتا ہے کہ ہم نے سمندر دیکھا اور اونٹ کی سواری کی۔

ملک کے دوسرے حصوں سے آنے والے ہی نہیں کراچی والے بھی کبھی رکشے میں دس بچے بھر کے، کبھی پورا محلہ بس کرائے پر لے کر آتے ہیں اور ساحل سمندر پر یہ عیاشی کرتے ہیں۔

کنٹونمنٹ بورڈ صفائی مہم کے نام پر غریبوں کا دھندہ اور دوسرے غریبوں کا سال میں ایک دفعہ تفریح کرنے کا موقع چھین رہا ہے۔

اسی ساحل سے چند سو گز کے فاصلے پر ایک گلی ہے جس میں کراچی کے مہنگے ترین ریسٹورانٹ، بیوٹی پارلر اور آرٹ گیلیریاں ہیں۔

کئی مہینے پہلے نوٹس جاری ہوا تھا کہ یہ غیر قانونی ہیں لیکن کسی کرین کے جبڑے کی مجال نہیں ہوئی کہ اس گلی میں پارک کی کسی گاڑی پر وار کرسکے۔

کسی کی جرات نہیں کہ یہ پوچھے کہ تم جو دن میں اتنا کچرا پیدا کرتے ہو وہ کہاں جاتا ہے؟ اپنا فضلہ سمندر میں کس قانون کے تحت پھینکتے ہو؟

اگلی دفعہ آپ کو کوئی بتائے کہ کراچی کے کچرے کی صفائی ہو رہی ہے تو سمجھ جائیے گا کہ غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے لیے آپریشن ہونے جارہا ہے۔

اسی بارے میں