چوہدری شوگر ملز کیس: لاہور ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر نواز شریف کی ضمانت قبول کر لی

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں طبی بنیادوں پر رہائی کی درخواست منظور کر لی ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایک ایک کروڑ روپے کے دو مچلکوں کے عوض نواز شریف کی رہائی کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اس وقت لاہور میں سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹروں کی دس رکنی ٹیم ان کا طبی معائنہ کر رہی ہے۔

تاہم سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کے مطابق جب تک نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل نہیں ہوتی ہے، ان کی رہائی ممکن نہیں۔

ماہرین قانون کہتے ہیں نواز شریف کی چودھری شوگر ملز کیس میں ضمانت ہوئی اور العزیزیہ ریفرنس میں ہونے والی قید کی سزا قائم ہے اور رہائی کیلئے ضروری ہے کہ اس سزا پر بھی عمل درآمد معطل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

’مریم نواز کو والد کے پاس سروسز ہسپتال میں رکھا جائے‘

پاکستان میں بیمار قیدی کو علاج کی اجازت کیسے ملتی ہے؟

پلیٹلیٹس ہوتے کیا ہیں، ان کی کمی سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی رہائی کے لیے درخواست پر سماعت سوموار 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے نیب کو حکم دیا کہ وہ آئندہ سماعت پر مریم نواز کی درخواست کا جواب داخل کریں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے مریم نواز کے وکلا کو باور کرایا کہ نیب کے جواب کے بغیر وکلا کے دلائل قابل پذیرائی نہیں ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے بنچ نے جب وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے۔

دو رکنی بینچ کے استفسار پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکهیرا نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز نے اپنے والد نواز شریف کے ساتھ رہنے کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو کوئی درخواست نہیں دی۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے مطابق اگر مریم نواز کی جانب سے کوئی درخواست دی گئی تو اس پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ نواز شریف جسمانی ریمانڈ پر ہیں اور جسمانی ریمانڈ پر ضمانت منظور نہیں کی جا سکتی ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے بارے میں وفاقی حکومت سے جواب بھی طلب کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکهیرا کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں کہ کیا مریم نواز کے اپنے والد کی دیکھ بھال کے لیے ان کے ساتھ رہنے کے کوئی احکامات جاری ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PML-N

لاہور ہائی کورٹ نے ایک وفقے کے بعد دوبارہ سماعت شروع کی تو اس وقت عدالت میں شہباز شریف اور خواجہ آصف بھی موجود تھے۔

نواز شریف کے معالج ڈاکٹر محمود ایاز نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم کی حالت تشویش ناک ہے۔ ڈاکٹر محمود ایاز کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہوا کہ کس وجہ سے پیلیٹلٹس کم ہو رہی ہیں۔

ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق گذشتہ روز نواز شریف کو سینے میں درد محسوس ہوئی جس کے باعث انھیں علاج کے لیے مخصوص ادویات نہیں دے پائیں گے۔ نواز شریف کے معالج نے بتایا اگر پلیٹلیٹس 30 ہزار پر پہنچ جائیں تو پھر ان کا علاج شروع کیا جا سکتا ہے۔

دو رکنی بنچ کے استفسار پر نیب پراسکیوٹر نے بیان دیا کہ اگر جیل میں علاج ممکن نہ ہو تو پھر کوئی دوسرا آپشن نہیں. نیب کے وکیل کے مطابق انسانی جان قیمتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کی متفرق درخواست منظور کرلی اور انھیں فریق بنا لیا۔

اس سے پہلے پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی وزیرِ صحت یاسمین راشد نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے انھیں پیغام دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کے حوالے سے عدالت نے جو بھی فیصلہ کیا حکومت اسے من و عن قبول کرے گی۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ پریس کانفرنس صرف اس مقصد کے لیے بلائی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا پیغام میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچا دیا جائے۔ ’عدالت نواز شریف کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گی نہ صرف اسے قبول کیا جائے بلکہ سپورٹ بھی کیا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سے قبل جمعے کی صبح لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی ضمانت کے لیے درخواست کی سماعت کے دوران ان کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے ساتھ کل ہونے والی ملاقات میں انھوں نے مسلم لیگ کے قائد کو کہا تھا کہ اگر وہ بیرون ملک سے کسی بھی ڈاکٹر کو پاکستان بلانا چاہتے ہیں تو بلا لیں۔

صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ انھوں نے میڈیکل بورڈ کے تمام ڈاکٹرز کو انتہائی واضح الفاظ میں پیغام دیا تھا کہ وہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے اپنی رپوٹس بغیر کسی دباؤ کے لکھیں اور عدالت کو وہ بتائیں جو ان کے خیال میں درست ہے۔

یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے ڈاکٹر شمسی کو کہا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے علاج کے حوالے سے بالکل مطمئن ہیں۔

عدالتی کارروائی

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر رہائی کے لیے درخواست پر سماعت کی۔ بنچ کے دوسرے رکن جسٹس سردار احمد نعیم ہیں۔ وکلا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نواز شریف کا وکالت نامہ بھی داخل کرا دیا گیا ہے۔

دو رکنی بنچ نے ٹھیک نو بجے درخواست پر سماعت شروع کی تو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکھیرا پیش ہوئے۔

احمد جمال سکھیرا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نواز شریف کا علاج ہو رہا ہے اور دو سے تین دنوں میں معلوم ہو گا کہ دوائی اثر کر رہی ہے یا نہیں۔

دو رکنی بنچ کے استفسار پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ اُن کے موقف کا انحصار بھی میڈیکل رپورٹ پر ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم کے معالج ڈاکٹر محمود ایاز کے پیش نہ ہونے پر کچھ دیر کارروائی ملتوی کر دی۔

ایک مختصر وقفے کے بعد ہائی کورٹ نے سماعت دوبارہ شروع کی اور سابق وزیر اعظم کے معالج ڈاکٹر محمود ایاز نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نواز شریف کی بیماری کی ابھی تک تشخیص نہیں ہو سکی ہے۔

ڈاکٹر ایاز محمود نے بتایا کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، ایک طرف لگائے جاتے ہیں تو دوسری طرف 24 گھنٹوں میں پلیٹلیٹس کی تعداد پھر کم ہو جاتی ہے۔

دو رکنی بینچ کے استفسار پر ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ دن میں تین مرتبہ میڈیکل چیک اپ کیا جاتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ شوگر، بلڈ پریشر، یورک ایسڈ، دل کے عارضہ سمیت دیگر طبی پیچیدگیاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے علاج میں بھی احتیاط برتی جا رہی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے نئے دس رکنی میڈیکل بورڈ کو تازہ ترین رپورٹ ساڑھے بارہ بجے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں