سانحہ ساہیوال: وزیراعظم عمران خان کا پنجاب حکومت کو ملزمان کی بریت کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حکم

ساہیوال تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption رواں برس 19 جنوری کو ساہیوال کے ٹول پلازہ کے قریب سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے ایک خاتون اور بچی سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے

وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال میں ملوث 6 پولیس اہلکاروں کی بریت کے عدالتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پنجاب کو اس عدالتی فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے اور استغاثہ کی پیروی میں ممکنہ خامیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی ہیں۔

سی ٹی ڈی پنجاب کے جن چھ اہلکاروں کے خلاف قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت سانحہ ساہیوال کا مقدمہ درج کیا گیا تھا انھیں حال ہی میں لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ’ناکافی ثبوت‘ کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔‘ مقتول محمد خلیل کے بھائی محمد جلیل نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں ’عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔‘

اس پر عوامی ردِ عمل سامنے آیا ہے اور یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ویڈیوز موجود ہونے کے باوجود استغاثہ عدالت میں جرم کیوں نہیں ثابت کر پایا؟

یہ بھی پڑھیے

ساہیوال واقعہ: عدالت نے تمام ملزمان کو بری کر دیا

ساہیوال ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا حکم، ایک ماہ میں رپورٹ طلب

ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلہ: پانچ بڑے سوالات

’بار بار مت پوچھیں کہ بیٹا بتاؤ کیا ہوا تھا!‘

’ریاست مدعی بنے گی‘

وزیرِاعظم کی مشیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر مقتولین کے ورثا اپیل نہ بھی کریں تو وزیرِاعظم نے حکومتِ پنجاب کو ریاست کی طرف سے ہائی کورٹ میں اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بچوں کے سامنے ان کے والدین پر گولیاں برسانے کی ویڈیوز ساری قوم نے دیکھی ہیں۔‘

یاد رہے اس واقعے کی چند ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں تھیں جن سے مبینہ طور یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ پولیس نے مقتولین کی گاڑی پر گولیاں برسائیں۔

سانحہ ساہیوال میں زندہ بچ جانے والے کمسن بچوں کی بھی ویڈیوز سامنے آئی تھیں جن میں واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پنجاب کے اہلکاروں کے خلاف اپنے والدین پر گولیاں چلانے کے الزامات عائد کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CM OFFICE

پنجاب کے وزیرِ قانون کے مطابق صوبائی حکومت نے اس بابت اعلامیہ بھی جاری کر دیا ہے۔ سرکاری وکلا کا کہنا ہے کہ وہ پی ایف ایس اے کی اس رپورٹ کی بنیاد پر بھی اپیل دائر کر سکتے ہیں جس میں دو ملزمان کے اسلحے اور جائے وقوعہ سے ملنے والی گولیوں میں مطابقت ثابت ہوتی ہے۔

واضح رہے رواں برس کے آغاز میں پاکستان کے شہر ساہیوال میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں چار افراد مارے گئے تھے۔ ان میں لاہور کے رہائشی محمد خلیل، ان کی اہلیہ اور جواں سالہ بیٹی بھی شامل تھے۔ جبکہ ان کے تین کمسن بچے زندہ بچ گئے تھے۔

’تمام کے تمام گواہ ہی بدل گئے‘

پنجاب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل یعنی استغاثہ کے سرکاری وکیل عبدالرؤف وٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں استغاثہ کی طرف سے 26 گواہ پیش کیے گئے تھے اور پیروی کے دوران ’وہ تمام کے تمام گواہ ہی بدل گئے۔‘

ان کا کہنا ہے ’گواہان ہی عدالت کے کان اور آنکھیں ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہی بدل جائیں تو استغاثہ کیا کر سکتا ہے۔‘

پیروی کے دوران انھیں ہوسٹائل یعنی مخالف گواہ قرار دے کر استغاثہ کی طرف سے ان پر طویل جرح کی گئی۔ تاہم زیادہ تر گواہان نے تو یہ بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ وقوعہ کے وقت موقع پر موجود تھے۔ باقی گواہان نے واقعے کے حوالے سے مکمل لاعلمی کا اظہار کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ تمام کے تمام گواہان نے عدالت میں کہا کہ اگر ملزمان کو بری کر دیا جائے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

عینی نوعیت کے ثبوت ہی بنیادی شہادت؟

استغاثہ نے عدالت میں دو قسم کے ثبوت پیش کیے تھے، ایک عینی یا واقعاتی اور دوسرے فرانزک یعنی سائنسی طریقے سے تصدیق شدہ۔ عینی نوعیت کی شہادت کی طور پر گواہان پیش کیے گئے۔ تاہم وہ مخالف ثابت ہوئے۔

واقعے میں زخمی ہو جانے والے مقتول کا کمسن بیٹا بھی اپنی گواہی میں ’ملزمان کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کر پایا‘۔

دوسری جانب استغاثہ کے گواہان میں سے ’کوئی بھی پولیس اہلکاروں کی شناخت پریڈ کے لیے نہیں آیا۔‘

عدالت میں عینی نوعیت کی شہادت کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے۔ باقی تمام شہادتوں کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا زیادہ دارومدار بھی اسی بنیادی شہادت کے گرد ہوتا ہے۔ تاہم ماضی میں کئی مقدمات میں عدالتیں فرانزک شہادت کی بنیاد پر بھی ملزمان کو سزا سنا چکی ہیں۔

ویڈیوز کا کیا بنا؟

اس مقدمے میں استغاثہ کے پاس مضبوط ترین فرانزک شہادت وہ ویڈیوز سمجھی جا رہیں تھیں جن میں مبینہ طور پر پولیس اہلکار فائرنگ کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم فرانزک تجزیے کے بعد یہ شہادت عدالت کے لیے قابلِ قبول ثبوت نہیں رہی تھیں۔

استغاثہ کی طرف سے واقعے کی تمام تر ویڈیوز جو سوشل میڈیا یا نشریاتی ذرائع ابلاغ پر سامنے آئی تھیں ان کی اصل کاپیاں حاصل کر کے انھیں تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھجوایا گیا تھا۔

تاہم ’ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں لکھ دیا تھا کہ وہ ویڈیوز کی ذریعے ملزمان کی شناخت نہیں کر پائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/PID_GOV

’دو ملزمان کا اسلحہ اور گولیاں ایک ہی تھیں‘

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے اسلحے اور جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول کا تجزیہ بھی کیا تھا۔ اس کی بنیاد پر انھوں نے رپورٹ دی تھی کہ ’جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول ان بندوقوں سے چلائے گئے تھے جو کم از کم دو ملزمان یعنی سی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں کو جاری کی گئی تھیں‘۔

استغاثہ نے عدالت میں ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے یہ مؤقف بھی اپنایا تھا۔ تاہم عدالت نے اسلحے کی مطابقت کے اس نکتے پر لکھا کہ اس کی وقعت اس لیے نہیں رہتی کہ بنیادی شہادت میں استغاثہ صحتِ جرم ثابت نہیں کر پایا تھا۔

پولیس اور استغاثہ میں ربط کا فقدان

استغاثہ کی ٹیم کے ایک رکن نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’شہادت اکٹھا کرنے کی ذمہ داری پولیس کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں پولیس اور استغاثہ انفرادی حیثیت میں مقدمہ پر کام کرتے ہیں‘۔

یعنی استغاثہ کو اسی شہادت پر انحصار کرنا ہوتا ہے جو پولیس تحقیقات کے دوران جمع کرتی ہے۔ استغاثہ کا براہِ راست شہادت اکٹھا کرنے میں کردار نہیں ہوتا۔

سرکاری وکیل کے مطابق ’کچھ مقدمات میں پولیس ہماری بات سن لیتی ہے، کچھ میں وہ ہماری رائے کو نہیں بھی مانتے‘۔

یاد رہے کہ اس مقدمے میں تمام ملزمان کا تعلق پنجاب کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی یعنی پولیس ہی سے تھا۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید قانون سازی کی ضرورت ہے کہ استغاثہ کو تحقیقات میں زیادہ کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔

’اگر دونوں میں زیادہ مؤثر رابطہ ہو تو جدید طریقوں سے بھی شہادت اکٹھا کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ہم گواہوں کی اس چنگل سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں