کراچی میں ڈاکٹروں نے بچے کے دل کے قریب پیوست پیچ کس کیسے نکالا

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹروں کے مطابق اس آپریشن میں معمولی سی بھی غلطی انتہائی خطرناک ہوسکتی تھی اور اگر اس سے جان نہ بھی جاتی تو کئی مسائل پیدا ہوسکتے تھے (فائل فوٹو)

کراچی کے علاقے ناظم آباد میں 10 سالہ محمد ارسلان اتوار کے روز اپنے گھر میں پیچ کس کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ اچانک پیچ کس ان کے سینے میں دل کے قریب پیوست ہوگیا۔

جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، محمد ارسلان کے والدین صوبہ پنجاب میں اپنے آبائی علاقے گئے ہوئے تھے۔ موقع پر موجود ان کے ماموں محمد یعقوب نے پہلے پیچ کس خود نکالنے کی کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہوسکے۔

اس کے بعد ان کو قریبی ہسپتالوں میں لے جایا گیا مگر آپریشن انتہائی پیچیدہ ہونے کی وجہ سے تین ہسپتالوں نے علاج سے معذرت کرلی تھی۔

محمد یعقوب نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ دن 12 بجے کا تھا جس کے بعد وہ رات نو بجے تک ہسپتالوں میں گھومتے رہے جہاں ڈاکٹر ارسلان کا معائنہ کرتے تو آپریشن کرنے سے انکار کردیتے اور کہتے کہ یہ انتہائی نازک آپریشن ہے اور اس کے لیے ماہرانہ صلاحیت اور مشینری دستیاب نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صفا اور مروہ کی علیحدگی کا کامیاب سفر

ایک ماہ کے بچے کے سات دانتوں کا کامیاب آپریشن

’کہا گیا کہ ڈاکٹر چھوڑیں، بچی کو سکون سے مرنے دیں‘

چنانچہ وہ ارسلان کو لے کر رات نو بجے قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے شعبہءِ اطفال میں پہنچے جہاں پر موجود ڈاکٹروں نے معائنہ کرنے کے بعد اپنے سینیئر ڈاکٹروں کو بلایا جنھوں نے تھوڑی ہی دیر میں فیصلہ کیا کہ ایک نازک اور پیچیدہ آپریشن کرنا ہوگا۔

محمد یعقوب نے بتایا کہ ’اس موقع پر انھوں نے ہمیں آگاہ کیا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ جب ڈاکٹر آپریشن شروع کررہے تھے تو انتہائی فکرمند تھے مگر دو گھنٹے بعد وہ نہایت خوش اور مطمئن نظر آئے۔‘

محمد ارسلان کا آپریشن کرنے والے سرجن پروفیسر سہیل خان بنگش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اتوار کی رات مجھے ہسپتال سے کال آئی کہ ایمرجنسی ہے اور مریض کی صورتحال نازک ہے۔ اس موقع پر مجھے کچھ رپورٹیں وغیرہ بھی واٹس ایپ پر بھجوائی گئیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’ان رپورٹس کو دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ یہ آپریشن مجھے خود ہی کرنا ہے۔ فون پر ہی تیاری کی ضروری ہدایات دیں اور تھوڑی دیر میں ہسپتال پہنچ گیا۔ اس سے قبل شعبے کی ایڈمنسٹریٹر پروفیسر ڈاکٹر انجم پٹیل بھی پہنچ چکی تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Yaqoob
Image caption کراچی کے قومی ادارہ برائے امراضِ قلب کے پروفیسر ڈاکٹر انجم پٹیل اور سرجن پروفیسر سہیل خان بنگش

ڈاکٹر بنگش کہتے ہیں کہ جب انھوں نے بچے کا معائنہ کیا تو وہ مسکرا رہا تھا اور اس کو کوئی خاص تکلیف بھی نہیں تھی کیونکہ درد کش انجیکشن لگائے گئے تھے، جبکہ پیچ کس جس طریقے سے پیوست تھا اس سے خون بھی نہیں رس رہا تھا۔ اس نے خون کو روکا ہوا تھا۔

’مگر بچے اور اس کے لواحقین کو اندازہ نہیں تھا کہ صورتحال کتنی زیادہ سنگین ہے۔ پیچ کس ارسلان کے دل کے بالکل قریب اس مقام پر موجود تھا جہاں سے دماغ، دل اور دیگر شریانیں گزرتی تھیں اور پھیپھڑیوں کی جھلی اس کے ساتھ تھی۔‘

ڈاکٹر بنگش کا کہنا تھا کہ ضروری ٹیسٹ وغیرہ کر لینے کے باوجود بھی طبی عملہ مکمل طور پر اندھیرے میں تھا کہ پیچ کس نے کتنا نقصان کردیا ہے۔ ’سب اس حوالے سے پریشان تھے کہ پیچ کس نے کسی شریان کو تو نہیں چھوا ہوا، اور جب اس کو نکالا جائے گا تو کیا ہوگا۔‘

’پیچ کس دل کے پاس تھوڑا اوپر کی طرف تھا۔ اب یہ بھی مسئلہ تھا کہ سینہ کس طریقے سے کھولا جائے کہ جب تک ہم اس پیچ کس کے پاس نہیں پہنچ جاتے یہ حرکت نہ کرے، ورنہ یہ ارد گرد کی شریانوں کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔ یہاں تک کے مریض کو بھی حرکت نہیں دے سکتے تھے۔‘

ڈاکٹر بنگش کہتے ہیں کہ معمولی سی بھی غلطی انتہائی خطرناک ہوسکتی تھی۔ اگر اس سے جان نہ بھی جاتی تو کئی مسائل پیدا ہوسکتے تھے۔ اس صورتحال میں انھوں نے اپنی ٹیم جس میں ڈاکٹر جے پرکاش، پروفیسر امین خواجہ، ڈاکٹر عدیل، ڈاکٹر شاد، ڈاکٹر عبدالستار اور دیگر تکنیکی عملہ موجود تھا، ان سے مشاورت کی، ان کو ہدایات دیں اور پھر آپریشن کا آغاز کردیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Yaqoob
Image caption محمد ارسلان کے ماموں محمد یعقوب کے مطابق آپریشن انتہائی پیچیدہ ہونے کی وجہ سے تین ہسپتالوں نے علاج سے معذرت کرلی تھی

آپریشن کیسے کیا گیا؟

ڈاکٹر بنگش کا کہنا تھا کہ سب سے پہلا کام تو بچے کو انتہائی احتیاط سے بے ہوش کرنا تھا، جس کے لیے خصوصی انتظامات ہوئے۔

ماہر ڈاکٹر نے ارسلان کے ایک پھیپھڑے کو مکمل سلا دیا اور صرف ایک پھیپھڑے کو ہی سانس کے لیے چھوڑا گیا۔

ڈاکٹر بنگش کے مطابق ’اس کے بعد ہم لوگوں نے براہ راست اس مقام کو نہیں چھیڑا جہاں پر پیچ کس پیوست تھا بلکہ اس کے ساتھ والے مقام پر سینے کو کھولا گیا۔ جس کے بعد انتہائی آہستہ آہستہ پیچ کس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھتے گئے۔

’پیچ کس کی معمولی سی حرکت بھی انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتی تھی کیونکہ یہاں پر شریانیں بھی موجود تھیں۔‘

ڈاکٹر بنگش کہتے ہیں کہ اسی احتیاط کو سامنے رکھتے ہوئے تقریبا دو گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد وہ اس قابل ہوئے کہ پیچ کس پر کنٹرول حاصل کر کے اس کو انسانی جسم سے باہر نکال سکتے۔

’جب تک ہم لوگوں نے پیچ کس کو باہر نہیں نکلا، تب تک آپریشن چیونٹی کی رفتار سے بڑھ رہا تھا۔ پیچ کس باہر نکالنے کے بعد اس بات کی تسلی کی گئی کہ کسی اور شریان وغیرہ کو تو نقصان نہیں پہنچا۔‘

پروفیسر ڈاکٹر انجم پٹیل کے مطابق یہ نازک آپریشن اس وجہ سے بھی ممکن ہوا کہ ہمارے پاس قومی ادارہ برائے امراضِ قلب کے شعبہ اطفال میں تمام ضروری مشینری اور ماہرانہ صلاحیت موجود تھی۔

’مریض کے آتے ہی تمام تیاری مکمل کرلی گئی تھی اور ہسپتال کا تمام عملہ الرٹ کر دیا گیا تھا۔‘

ڈاکٹر انجم کا کہنا تھا اس آپریشن میں کئی خطرات تھے جن میں سے سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ اگر دماغ والی شریان کو کوئی معمولی سا بھی نقصان پہنچ جاتا، تو مریض کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔

’مریض کو آپریشن کے دوران بھی ہلا جلا نہیں سکتے تھے۔ مریض کو بالکل سیدھا رکھ کر آپریشن کرنا تھا یہاں تک کہ اس کا سانس لینا بھی مشکلات پیدا کرسکتا تھا۔‘

ڈاکٹر انجم کا کہنا تھا کہ قومی ادارہ برائے امراضِ قلب کے شعبہ اطفال میں تمام خدمات مفت فراہم کی جاتی ہیں اور اگر محمد ارسلان کا آپریشن کسی نجی ہسپتال میں ہوتا تو اس پر تقریباً پانچ لاکھ روپے اخراجات آتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ارسلان کا آپریشن کرنے والے ڈاکٹر بنگش کا کہنا تھا کہ ضروری ٹیسٹ وغیرہ کر لینے کے باوجود بھی طبی عملہ مکمل طور پر اندھیرے میں تھا کہ پیچ کس نے کتنا نقصان کردیا ہے (فائل فوٹو)

’12 ماہ میں ایک ہزار آپریشن‘

ڈاکٹر انجم بتاتی ہیں کہ پاکستان میں ہر سال 60 ہزار بچے پیدائشی طور پر دل کے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں ہر سال 30 سے 40 ہزار بچے مختلف وجوہات کی بنا پر دل کے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عموماً جب بچے دل کے امراض کا شکار ہوتے ہیں تو اس کی جلد تشخیص نہیں ہوتی اور یہ مرض بڑھتا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’قومی ادارہ برائے امراضِ قلب کے شعبہ اطفال میں پورے ملک سے بچے علاج کے لیے آتے ہیں، مگر ہمارے پاس ماہر طبی عملے اور کچھ دیگر سہولتوں کی کمی ہے۔ ایمرجنسی آپریشن تو فورا کر دیے جاتے ہیں مگر اس وقت آپریشن کے لیے متظر افراد کی فہرست 8000 سے تجاوز کرچکی ہے۔ ہمارے ماہر سرجن ایک ایک دن میں تین سے چار آپریشن تک کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر انجم کے مطابق سی سی یو، جہاں پر سرجری کے بعد سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اس میں 40 مریضوں کی گنجائش ہے اور اس یونٹ کے انچارج بیرونی ممالک سے پوسٹ سرجری کے ماہر ڈاکٹر ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر انجم پٹیل کے مطابق اس شعبہ میں صرف دو ماہر سرجن، دو فزیشن اور جونیئر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل ہیں۔ کم ماہرین کی خدمات حاصل ہونے کے باوجود گذشتہ 12 مہینوں کے دوران ہسپتال میں بچوں کے دل کے ایک ہزار آپریشن ہوئے ہیں جن میں کامیابی کا تناسب 96 فیصد رہا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر انجم پٹیل کا کہنا تھا کہ اگر انھیں ماہر طبی عملہ سمیت مزید سہولتیں فراہم کی جائیں تو وہ زیادہ بہتر طریقے سے خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں