ایران نے چوری کے جرم میں شہری کی انگلیاں کاٹ دیں

ایران، جیل، تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں میں ڈر پیدا کرنے کے لیے یہ بہترین طریقہ ہے (فائل فوٹو)

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چوری کے جرم میں ایک شہری کے ہاتھ کی انگلیاں کاٹنے پر ایرانی حکام کی مذمت کی ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق ایران کے شمالی صوبے مازندران کی ایک جیل میں ایک شہری کی انگلیاں کاٹنا ’تشدد کی ایک نہایت قبیح صورت‘ ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص چوری کے 28 مقدمات میں مجرم پایا گیا تھا۔

ایران کی اسلامی تعزیرات کے مطابق ’پہلی بار چوری کرنے‘ کی سزا دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں کاٹ دینا ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں میں جرم کرنے سے ڈر پیدا کرنے کے لیے یہ بہترین طریقہ ہے۔

تاہم اس طرح کی سزاؤں کی خبریں کم ہی سامنے آتی ہیں۔

ایمنسٹی کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر صالح حجازی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ اس طرح سوچے سمجھے منصوبے سے ’کسی کو معذور اور جسمانی طور پر ناکارہ کرنا انصاف نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ انسانی تکریم پر ایک خوفناک حملہ ہے۔ ’اس ظالمانہ عمل کو ختم کرنے کے لیے ایران کی تعزیرات میں اب اصلاحات ناگزیر ہوچکی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اس کا قانونی نظام اسلامی شریعت کی ایک قدامت پسند تشریح پر مبنی ہے

یہ بھی پڑھیے

انوکھے ملزموں کی عجیب و غریب سزائیں

’ایران میں تین مجرم بچوں کو پھانسی کی سزا‘

بچپن کے جرم پر جوانی میں 80 کوڑوں کی سزا

ایران: نسرین کو 38 سال قید اور 148 کوڑوں کی سزا

ایرانی عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان کے مطابق سزا پر عملدرآمد بدھ کو ایران کے صوبے مازندران کے دارالخلافہ ساری میں کیا گیا۔ مجرم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ ایران ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کا قانونی نظام اسلامی شریعت کی ایک قدرے قدامت پسند تشریح پر مبنی ہے۔

جنوری 2018 میں بھیڑ چوری کرنے کی پاداش میں ایرانی حکام نے شمال مشرقی ایران میں ایک 34 برس کے شخص کا ہاتھ کاٹ دیا تھا۔

سعودی عرب، نائیجیریا اور صومالیہ میں بھی اس قسم کی سزائیں دی جاتی ہیں۔

گذشتہ سال انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران پر ایک ایسے شخص کو کوڑے مارنے کی سزا دینے پر تنقید کی تھی جس نے دس سال قبل اپنی ٹین ایج میں شراب پی تھی۔

اس سال فروری میں ایران کی طرف سے زنا بالجبر کے جرم میں دو ٹین ایج لڑکوں کو پھانسی کی سزا دینے پر امریکہ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ایران پر شدید تنقید کی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشل کے مطابق ایران نے 1990 سے اب تک 100 کم عمر مجرموں کو سزائے موت دی ہے جو کہ کسی بھی ملک کے اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں