العزیزیہ ریفرنس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی عبوری ضمانت منظور کر لی

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔

سنیچر کو نواز شریف کی سزا کی معطلی کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے حکم جاری کیا کہ یہ مشروط ضمانت ہے اور عدالت منگل کو مقدمے کی تفصیلی سماعت کرے گی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو 20 لاکھ زر ضمانت ادا کرنا ہوگا۔

عدالتی کارروائی اس وقت طویل سے طویل تر ہوتی گئی جب عدالت نے بار بار یہ استفسار کیا کہ جب حکومت نے خود ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنایا اور پھر اس بورڈ کی رپورٹ پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا؟ متعلقہ قوانین اور عدالتی فیصلوں کی روشنی میں بیمار قیدی کو خود کیوں رہا نہ کیا؟

نواز شریف کی ضمانت کا معاملہ اس عدالت تک کیوں پہنچا؟

یہ سوالات اٹھا کر عدالت نے نیب، وفاق اور پنجاب حکومت کے نمائندوں سے کہا کہ کیا اب وہ نواز شریف کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہیں یا حمایت۔ عدالت نے اس دوران کسی کو دلائل دینے کی اجازت نہیں دی اور کہا جواب صرف ہاں یا نہیں میں چاہیے۔

نیب کی پراسیکیوشن ٹیم خاموش کھڑی رہی اور عدالت کو صرف یہ بتایا کہ چئیرمین نیب کے ساتھ رابطہ ہی نہیں ہورہا۔ عدالت نے تمام حکومتی وکلا اور اہلکاروں کو دو بار مہلت دی کہ وہ چیئرمین نیب، پنجاب اور وفاقی حکومت سے پوچھ کر بتائیں کہ ان کا موقف کیا ہے۔

تقریباً تین گھنٹے بعد ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت میں بیان دیا کہ انسانی بنیادوں پر ان کے ادارے کو نواز شریف کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جب کسی طرف سے اس درخواست کی مخالفت نہیں کی گئی تو عدالت نے عبوری ضمانت کا فیصلہ سنا دیا۔

جمعے کو لاہور ہائی کورٹ نے بھی چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر رہائی کی درخواست منظور کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں بیمار قیدی کو علاج کی اجازت کیسے ملتی ہے؟

پلیٹلیٹس ہوتے کیا ہیں، ان کی کمی سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

’مریم نواز کو والد کے پاس سروسز ہسپتال میں رکھا جائے‘

وزیر اعلیٰ پنجاب طلب

اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژنل بینچ اب نواز شریف کی درخواست پر سماعت منگل کو کرے گا۔ عدالت نے اس سماعت پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھی طلب کر لیا ہے۔

سنیچر کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت پر اس معاملے کی ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی اور اگرنواز شرف کو کچھ ہوتا ہے تو ذمہ دار حکومت ہو گی۔

انھوں نے ’ڈیل‘ سے متعلق خبروں پر بھی صحافیوں کی سرزنش کی اور کہا کہ عدالتیں عوامی اعتماد پر چلتی ہیں اس کو ختم نہ کیا جائے۔

’معمولی سا ہارٹ اٹیک‘

اس سے قبل سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ ان کے موکل کو جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب معمولی ہارٹ اٹیک ہوا ہے، اس لیے ان کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطلی کی سماعت جلد کی جائے۔

عدالت کا یہ بینچ چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ یہ کیس اُن تک کیسے آیا ’جب ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا کہ صحت اچھی نہیں تو حکومت نے کوئی ایکشن کیوں نہ لیا۔‘

عدالت کے ریمارکس تھے کہ ’ہم نے نوٹس اس وجہ سے دیا کہ اگر (نواز شریف کو) کچھ ہوا تو آپ ذمہ دار ہوں گے۔‘

اس پر نیب کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ابھی کوئی ہدایات نہیں ہیں۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’اگر ضمانت کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر ذمہ دار آپ ہوں گے۔‘

’آپ ریاست ہیں اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔‘

جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا کہ ’کل سے آج کے درمیان کیا ہوا ہے کہ جلد سماعت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔‘

اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ ’کل کے بعد نواز شریف کی طبعیت مزید خراب ہوئی ہے۔‘

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’سزا یافتہ قیدی کے معاملے میں صوبائی حکومت کو اختیار ہے کہ وہ سزا معطل کر سکتی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایسی صورت میں یہ معاملے عدالت میں نہیں آنے چاہیے۔‘

عدالت نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بھی تحریر ہے کہ نواز شریف کی طبعیت تشویشناک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹاک شوز میں ڈیل کی باتیں

سماعت میں صحافی محمد مالک، حامد میر، سمیع ابراہیم اور کاشف عباسی سمیت متعدد اینکر پرسنز کو بلایا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ’ڈیل‘ کے معاملے پر پروگرام کرنے پر چند اینکرز کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا ’آپ کا کیا مطلب ہے، ڈیل کس نے کی اور کس سے کی؟ کیا عدالت بھی اس کا حصہ ہے؟‘

اس پر حامد میر اور محمد مالک نے عدالت سے سوال کیا ’ہم نے کہاں پر توہینِ عدالت کی؟‘

چیئرمین پیمرا کی جانب سے ان کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے اور ان سے جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا ’آپ روز پروگرام دیکھتے ہیں؟ انجوائے کرتے ہوں گے کہ عدلیہ پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔‘

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ’آپ عسکری اداروں اور منتخب وزیراعظم کو بھی بدنام ہونے دے رہے ہیں۔‘

عدالت نے سماعت کے اختتام پر اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو توہین عدالت کا شو کاز نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

’پلیٹلیٹس کی تعداد بڑھ گئی ہے‘

پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد 45000 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

سنیچر کو لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس میں کم سے کم 35 فیصد جو پلیٹلیٹس ہیں وہ ینگ ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ان کا بون میرو اس وقت بہت اچھا کام کر رہا ہے جو کہ ایک اچھا اشارہ ہے۔

صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ کل رات نواز شریف کو دل میں تکلیف ہوئی تھی جسے ہم انجائنا کہتے ہیں اور اس انجائنا کی تکلیف کی وجہ سے کچھ دیر ان کی سانس میں بھی تکلیف ہوئی تھی۔

یاسمین راشد کے بقول اس وقت ہسپتال میں تمام کارڈیالوجسٹ موجود تھے، نواز شریف کے ٹیسٹ کرائے گئے اور ان ٹیسٹوں کا جو رزلٹ آیا ہے اس کے مطابق انھیں معمولی ہارٹ اٹیک ہوا۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ شام نواز شریف کی ایکو گرافی کی گئی اس میں نواز شریف کے اس ہارٹ اٹیک میں مزید کوئی خرابی نہیں ہوئی۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ سنیچر کی صبح سے ہی نواز شریف کا بلڈ پریشر کنٹرولڈ ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ گذشتہ دو تین روز سے نواز شریف کا بلڈ پریشر اتار چڑھاؤ کر رہا تھا۔

یاسمین راشد کے مطابق آج جب ڈاکٹر نواز شریف کو ملنے گئے تھے انھوں نے ڈاکٹرو ں کو بتایا کہ ان کی رات اچھی گزری اور وہ رات کو اچھی نیند سوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور

گذشتہ جمعے کو لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کی شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں طبی بنیادوں پر رہائی کی درخواست منظور کی تھی۔

سماعت کے دوران میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر ایاز محمود نے بتایا تھا کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، ایک طرف پلیٹلیٹس لگائے جاتے ہیں تو دوسری طرف 24 گھنٹوں میں پلیٹلیٹس کی تعداد پھر کم ہو جاتی ہے۔

ماہرینِ قانون کہتے ہیں کہ نواز شریف کی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت ہوئی ہے لیکن العزیزیہ ریفرنس میں ہونے والی قید کی سزا قائم ہے، اور اس میں رہائی کے لیے ضروری ہے کہ اس سزا پر بھی عمل درآمد معطل کیا جائے۔

سابق وزیرِ اعظم فی الحال لاہور میں سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹروں کی 10 رکنی ٹیم ان کا طبی معائنہ کر رہی ہے۔

نواز شریف کے معالج طاہر شمسی کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کی بیماری کی تشخیص ہو چکی ہے۔ ’اس بیماری کا نام ایکیوٹ آئی ٹی پی ہے۔ یہ کینسر نہیں ہے اور اس کا علاج بھی ممکن ہے۔‘

گذشتہ ہفتے بدھ کو نواز شریف کے جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد 29 ہزار سے گر کر سات ہزار تک آ گئی تھی۔

جمعے کو وزیرِ اعظم عمران خان نے نواز شریف کے علاج کے لیے انھیں سروسز ہسپتال منقتل کرنے کے ساتھ ساتھ مریم نواز کو ان کے والد نواز شریف کے پاس رکھنے کی ہدایات جاری کی تھی۔

اسی بارے میں