جمعیت علمائے اسلام: آزادی مارچ کی کامیابی کے لیے کارکنان کو کیا ہدایات دی گئی ہیں؟

  • خدائے نور ناصر
  • بی بی سی، اسلام آباد
مولانا فضل الرحمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ’آزادی مارچ‘ کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور اتوار کو ملک کے دور دراز قصبوں، شہروں سے قافلے اسلام آْباد کی طرف روانہ ہونا شروع ہو جائیں گے۔

اگرچہ اس ’آزادی مارچ‘ میں خواتین کارکن شامل نہیں ہوں گی تاہم بلوچستان میں جمیعت علمائے اسلام کے جنرل سیکریٹری کی جانب سے جاری کیے گئے ہدایات نامے میں خواتین سے کہا گیا ہے کہ وہ مارچ کی کامیابی کے لیے روزے رکھیں۔

اس ہدایات نامے کے مطابق ’ہر جماعت اور انفرادی نمازوں کے بعد خصوصی دعاوں کا اہتمام کریں، نیز خواتین کو روزوں کے اہتمام کی بھی تلقین کریں‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا آغا سید محمود شاہ کا کہنا تھا کہ یہ وہ خواتین ہیں جن کے گھر سے کوئی مرد مارچ میں شامل ہو گا۔

’ظاہر سی بات ہے یہ وہی خواتین ہوں گی جن کے بھائی، والدین یا بچے نکلیں ہوں گے تو انھوں نے گھروں میں یہی کام کرنا ہے یعنی بس دعائیں کرنا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہJUI

،تصویر کا ذریعہJUI

اس ہدایات نامے میں کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ موسم کے مطابق ایک بستر، دو جوڑے کپڑے، خشک میوہ جات، خصوصاً بھنے ہوئے چنے اپنے پاس رکھیں اور گھروں میں خصوصی طور پر بنائے جانے والے ٹکونی یا ٹکی زیادہ مقدار میں پکا کر ساتھ لے جائیں۔ (ٹکونی یا ٹکی وہ روٹی ہوتی ہے جو گھی میں بنائی جاتی ہے اور میہنہ بھر بھی خراب نہیں ہوتی)۔

اگرچہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جمعیت علمائے اسلام ف کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی سربراہی میں ایک قافلہ اتوار کو کوئٹہ سے لورالائی اور ڈیرہ غازی خان کے راستے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گا۔

ان کے مطابق صوبے کے بعض دور دراز علاقوں سے کچھ قافلے آج ہی کوئٹہ کی طرف روانہ ہوئے ہیں جنھیں ان کے مطابق انتظامیہ نے روک لیا ہے۔ ’مکران ڈویژن سے کچھ قافلے آج نکل رہے تھے، لیکن ان کو روکا گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہJUI

اس مارچ کے لیے بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کے لیے ایک خصوصی کنٹینر خریدا گیا ہے جو پارٹی ذرائع کے مطابق اس مارچ کے لیے خصوصی طور پر جاپان سے لے آئے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کوئٹہ کے بعض رہنماوں کے مطابق اس کنٹینر کو ایک کارکن نے صوبائی امیر کے لیے خصوصی طور پر مارچ کے لیے’20 لاکھ روپے‘ میں خریدا ہے۔

اگرچہ حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی اور حکومتی وفد کے درمیان پہلی ملاقات جمعے کو ہوئی تھی جو پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق بے نتیجہ رہی تاہم مولانا فضل الرحمان نے جمعہ کو ہی لاڑکانہ میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ ان کا مارچ شیڈول کے مطابق ہو گا اور وہ ایک انچ بھی آگے پیچھے نہیں ہوں گے۔