مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ: حکومت اور اپوزیشن میں معاہدہ طے پا گیا

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور رہبر کمیٹی کے درمیان آزادی مارچ کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے سنیچر کی رات اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت اپوزیشن اسلام آباد کے ایچ نائن گراؤنڈ میں جلسہ کرے گی اور ڈی چوک یا بلیو ایئریا کی طرف نہیں آئے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر اور وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ جمعیت علما اسلام اور دیگر اپوزیشن آئین کے دائرے میں رہ کر اپنا پروگرام کرے گی، حکومت آزادی مارچ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی اور تمام راستے کھلے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کا خصوصی ضمیمہ

آزادی مارچ: دھرنے کا معاملہ اسلام آباد انتظامیہ کے سپرد

’مولانا فضل الرحمان کا ایجنڈا، سیاسی ایجنڈا نہیں ہے‘

آزادی مارچ: اپوزیشن اور حکومت کہاں کھڑی ہیں؟

انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اور ان کے ساتھی آئین اور قانوں کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ JUI-F

پرویز خٹک نے مزید بتایا کہ اپوزیشن کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے یقین دہائی کرائی ہے کہ وہ ریڈ زون میں نہیں جائیں گے اور احتجاج پر امن ہو گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ حکومت نے عدالتی فیصلوں کے مطابق پریڈ گراؤنڈ کے علاوہ کسی بھی جگہ پر آزادی مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اپوزیشن نے ڈی چوک کی بجائے چائنا چوک کا مطالبہ کیا جو مسترد کر دیا گیا تھا۔ رہبر کمیٹی نے تجویز دی تھی کہ وہ ڈی چوک کی بجائے چائنا چوک میں آزادی مارچ کرنے کو تیار ہیں جس کے لیے حکومتی کمیٹی وزیراعظم سے منظوری لینے گئی، واپسی پر پرویز خٹک اور اکرم درانی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ جلسے کی جگہ پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا تھا کہ وہ 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں گے جہاں پر حکومت کے خلاف دھرنا دیا جائے گا۔

ان کا موٴقف ہے کہ ’وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت ناکام ہو چکی ہے، اسے مستعفی ہو جانا چاہیے‘ اور اسی لیے وہ ’آزادی مارچ‘ کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ وہ لانگ مارچ کے دوران اداروں سے کوئی جنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان کا احتجاج حکومت کے خلاف ہوگا۔

منگل کو غیر ملکی میڈیا کے ساتھ بات چیت میں فضل الرحمان نے کہا تھا کہ ان کا احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک حکومت مستعفیٰ نہیں ہو جاتی۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق عوامی احتجاج ان کا آئینی اور قانونی حق ہے اور اس احتجاج میں اداروں کو غیر جانبدار رہنا چاہیے۔

اسی بارے میں