اسلام آباد ہائی کورٹ نے جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ کی شہریت منسوخی کے نادرا کے فیصلے کو معطل کر دیا

حافظ حمد اللہ تصویر کے کاپی رائٹ JUI-F

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نادرا کی طرف سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمداللہ کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

منگل کو جب حافظ حمداللہ کی شہریت معطلی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی تو نادرا نے موقف اپنایا کہ حافظ حمداللہ نے جو دستاویزات پیش کیں، وہ بوگس ہیں۔

واضح رہے کہ حافظ حمداللہ نے نادرا کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

دوران عدالت نے نادرا سے استفسار کیا کہ ہمیں اپنے معیار سے متعلق آگاہ کریں کہ یہ دستاویزات کیسے بوگس ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ حافظ حمداللہ سینیٹر اور صوبائی وزیر بھی رہے ہیں، ان کے ووٹ کا اندارج تو یقیناً الیکشن کمیشن کے پاس بھی ہوگا۔

دورانِ سماعت عدالت نے پوچھا کہ حافظ حمداللہ کے کتنے بچے ہیں؟ اس پر حافظ حمداللہ کے وکیل نے کہا کہ ان کا ایک بیٹا پاکستان کی فوج میں بھی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو بیٹے دھرتی پر قربان ہونے کے لیے تیار ہوں ایسے بچوں کے والد کی شہریت پر کیسے شک کیا جا سکتا ہے؟

عدالت نے تاحکمِ ثانی وزارتِ داخلہ اور نادرا کو ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے جبکہ نادرا کو دو ہفتوں میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے پیمرا کا حافظ حمداللہ کے میڈیا پر آنے سے متعلق پابندی کا نوٹیفکیشن بھی معطل کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پیمرا نے فضل الرحمان کی پریس کانفرنس بند کروائی؟

ٹی وی پر کون آئے گا، کیا پیمرا یہ فیصلہ کر سکتا ہے؟

مذہبی چینلز: تفریق یا آزادیِ اظہار کا ذریعہ؟

اس سے قبل اتوار27 اکتوبر کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جمیعت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ کے الیکٹرانک میڈیا پر انٹرویوز پر پابندی عائد کر دی تھی۔

پیمرا کی جانب سے تمام نجی ٹی وی چینلز کو جاری مراسلے میں کہا گیا تھا کہ نادرا نے 11 اکتوبر 2019 کو پیمرا کو ایک خط ارسال کیا جس میں کہا گیا ہے کہ حافظ حمد اللہ پاکستانی شہری نہیں ہیں۔

پیمرا کے مراسلے کے مطابق اب جبکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حافظ حمد اللہ غیر ملکی ہیں اس لیے تمام ٹی وی چینلز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ انھیں ٹاک شوز میں دعوت دینے سے اجتناب کریں۔

حافظ حمد اللہ نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں یہ بات مختلف ٹی وی چینلز سے فون کر کے بتائی گئی ہے۔

حافظ حمد اللہ کون ہیں؟

حافظ حمد اللہ کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلعہ عبد اللہ کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے ہے۔ وہ سنہ 1968 میں چمن شہر میں پیدا ہوئے۔

انھوں نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ پرائمری سے میٹرک تک تعلیم چمن سے حاصل کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ JUI-F
Image caption حافظ حمد اللہ سنہ 2012 میں جے یو آئی کی ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے

وہ زمانہ طالب علمی میں جے یو آئی کے طلبا ونگ جمیعت طلبہ اسلام سے وابستہ رہے اور میٹرک کرنے کے بعد 14 جولائی 1986 کو بلوچستان کے محکمہ تعلیم میں جے وی ٹیچر بھرتی ہوئے۔ تاہم سنہ 2002 کے عام انتخابات سے قبل انھوں نے ملازمت سے استعفیٰ دیا۔

حافظ حمد اللہ نے پرائیویٹ حیثیت سے اپنی تعلیم کو جاری رکھا اور سنہ 2011 میں یونیورسٹی آف بلوچستان سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ باقاعدہ طور پر جے یو آئی میں شامل ہو گئے۔ قلعہ عبد اللہ سمیت بلوچستان کی سطح پر ان کا شمار پارٹی کے سرگرم رہنماﺅں میں ہوتا تھا تاہم انھیں پاکستان کی سطح پر اس وقت شہرت ملی جب وہ سنہ 2002 کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی ٹکٹ پر چمن سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

متحدہ مجلس عمل بلوچستان میں مخلوط حکومت کا حصہ بن گئی جس کے باعث حافظ حمد اللہ محکمہ صحت کے وزیر بنے۔

سنہ 2008 کے عام انتخابات میں حافظ حمد اللہ نے کوئٹہ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخابات میں حصہ لیا لیکن انھیں کامیابی نہیں ملی تاہم وہ سنہ 2012 میں جے یو آئی کی ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے۔

انھوں نے 2018 میں بھی کوئٹہ شہر سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 265 سے انتخابات میں حصہ لیا مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ JUI-F
Image caption حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ شاید بعض حلقے زبان بندی چاہتے ہیں جس کے باعث ان کا شناختی کارڈ منسوخ کیا گیا ہے

حافظ حمد اللہ کا مؤقف کیا ہے؟

نادرا حکام سے رابطہ کرنے میں کامیابی نہ ہونے کے باعث یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے شناختی کارڈ کو کسی نے انفرادی طور پر چیلنج کیا تھا یا کسی حکومتی ادارے کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا۔

تاہم حافظ حمد اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں فروری یا مارچ کے مہینے میں یہ معلوم ہوا کہ کسی حکومتی ادارے کی جانب سے ان کے شناختی کارڈ پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان چمن شہر میں محلہ حاجی حسن میں مکان نمبر 1310 میں رہائش پذیر تھا جس کی اراضی ان کے والدین نے سنہ 1967میں خریدی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مکان کو انھوں نے سنہ 1977 میں فروخت کیا تھا جس کا ریکارڈ اب بھی ان کے پاس موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے والد قاری ولی محمد نے چمن میں مدرسہ کھولا تھا جسے سرکار نے سنہ 1968 میں باقاعدہ رجسٹر کیا تھا جبکہ ان کے والد سنہ 1974 میں بلوچستان کے محکمہ تعلیم میں معلم القرآن بھی بھرتی ہوئے تھے ۔

انپوں نے بتایا کہ ان کے والد اور والدہ کے شناختی کارڈ سنہ 1974 میں بنے تھے ۔ والد کا پاسپورٹ سنہ 1975 میں بنا جبکہ نیشنل بینک چمن میں سنہ 1968 میں انھوں نے اپنا اکاﺅنٹ کھولا تھا۔

حافظ حمد اللہ نے کہا کہ اتنے دستاویزی ثبوت کے باوجود ان کا شناختی کارڈ منسوخ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سنہ 2002 کے انتخابات میں حصہ لینے کے بعد ان کے خلاف متعدد انتخابی عذرداریاں دائر کی گئیں لیکن ان میں سے کسی میں بھی ان کے شناختی کارڈ پر اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شاید بعض حلقے زبان بندی چاہتے ہیں جس کے باعث ان کا شناختی کارڈ منسوخ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب ان کے خلاف بدعنوانی اور اثاثوں سے متعلق کوئی کیس نہیں ملا تو ان کی زبان بند کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ نادرا کے غیر قانونی فیصلے کے خلاف عدالت اور دیگر تمام دستیاب فورمز سے رجوع کریں گے۔

بلوچستان سے حافظ حمد اللہ کے شناختی کارڈ کی منسوخی اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں ہے۔

اس سے قبل ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکریٹری جنرل احمد کہزاد کے شناختی کارڈ کو سنہ 2018 میں منسوخ کیا گیا تھا۔

وہ 2018 کے عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے تاہم نادرا کی جانب سے انھیں غیر ملکی قرار دے کر ان کی شہریت کو منسوخ کیا گیا تھا۔

نادرا کے فیصلے کے خلاف وفاقی وزارت داخلہ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نومبر 2018 میں ان کی صوبائی اسمبلی کی رکنیت کو ختم کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں