آزادی مارچ: جمعیت علمائے اسلام کی تحریک کا آغاز صوبہ سندھ سے کیوں ہو رہا ہے؟

فضل تصویر کے کاپی رائٹ JUI

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جمعیت علمائے اسلام 27 اکتوبر کو اپنے آزادی مارچ کا آغاز صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے کر رہی ہے جو بذریعہ سڑک سفر کرتا ہوا پنجاب اور اسلام آباد میں داخل ہو گا۔

کراچی سے اتوار کو پشتون آبادی کے اکثریتی علاقے سہراب گوٹھ سے یہ کاررواں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں روانہ ہو گا جو سپر ہائی وے سے ہوتا ہوا حیدر آباد پہنچے گا جہاں سے مزید قافلے اس میں شامل ہوں گے۔

بعد میں یہ قافلہ نیشنل ہائی وے پر مٹیاری، نوابشاہ، نوشہروفیروز اور خیرپور سے ہوتا ہوا سکھر پہنچے گا جہاں رات کو قیام ہو گا اور اگلے دن یعنی پیر 28 اکتوبر کو پنو عاقل اور گھوٹکی سے ہوتا ہوا کموں شہید سے پنجاب کی حدود میں داخل ہو گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن آزادی مارچ کی حمایت کر چکے ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی شرکت کس حد تک ہو گی۔

جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سیکریٹری جنرل راشد سومرو کا کہنا ہے کہ ان کا 100 فیصد انحصار اپنے کارکنوں پر ہے، سندھ میں ان کی رکنیت ساڑے چار لاکھ سے زائد ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مذہبی رہنما یا سیاسی جادوگر، مولانا آخر ہیں کون؟

آزادی مارچ: حکومت اور اپوزیشن میں معاہدہ طے پا گیا

’وزیر اعظم عمران خان کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے‘

جے یو آئی نے مارچ کا آغاز سندھ سے کیوں کیا؟

تجزیہ نگار فیاض نائچ کا کہنا ہے اس مارچ میں حکومت سندھ کافی معاون ثابت ہو گی، پی ٹی آئی حکومت اگر مارچ کو روکنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کو پنجاب یا خیبر پختونخوا میں روکا جائے گا تاہم سندھ میں ایسی صورت حال نہیں بنے گی۔

’شمالی سندھ میں جے یو آئی کا سپورٹ بینک ہے یہاں اور بلوچستان سے بھی سپورٹر با آسانی آ سکتے ہیں۔ انھیں اگر پنجاب میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے تو وہ قومی شاہراہ اور ٹرین لائن دونوں کو معطل کر سکتے ہیں اور یوں پنجاب کا لاک ڈاؤن ہو جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری مولانا فضل الرحمان سے ذاتی دوستی کے دعویدار ہیں۔ مولانا فضل الرحمان مارچ کے آغاز سے قبل سندھ پہنچ چکے ہیں جہاں سکھر میں انھوں نے مرکزی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کی تھی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
جمعیت کی پاسنگ آؤٹ پریڈ بمقابلہ پولیس کی تربیتی مشقیں

مذہبی جماعتوں پر نظر رکھنے والے صحافی عبدالجبار ناصر کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کی یہ کوشش نظر آتی ہے کہ مرکزی قیادت بالخصوص مولانا فضل الرحمان 29 اکتوبر سے قبل گرفتار نہ ہوں شاید یہی وجہ ہے کہ مارچ کے آغاز سے قبل ہی مولانا فضل الرحمان نے سندھ کا رخ کر کے اپنی سرگرمیوں کا مرکز سندھ کو بنایا۔

عبدالجبار ناصر بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سندھ سے مارچ کے آغاز کا بنیادی مقصد سندھ میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کی موجودگی کا فائدہ اٹھانا ہے۔ ’ایک مقصد یہ بھی نظر آتا ہے کہ 27 اور 28 اکتوبر سندھ میں پرامن رہیں اور آگے بڑھیں تو اس کے سیاسی اثرات گہرے ہوں گے۔‘

جمعیت علمائے اسلام اور سندھ کا رشتہ

مشترکہ انڈیا میں 1919 میں جمعیت علمائے ہند کی بنیاد رکھی گئی۔ جمعیت علمائے اسلام اسی کا نظریاتی تسلسل ہے۔ مولانا سید میاں اپنی کتاب جمیعت علما کیا ہے؟ میں لکھتے ہیں کہ جمعیت علمائے ہند کی تشکیل میں اس وقت کے 25 علما شریک تھے جن میں سے پانچ کا تعلق صوبہ سندھ سے تھا۔

ان میں مولانا تاج محمود امروٹی، مولانا سید محمد امام راشدی، مولانا محمد صادق میمن کراچی والے، مولانا اسد اللہ شاہ ٹکھڑائی اور مولانا محمد عبداللہ شامل تھے۔

جمعیت علمائے الہند میں سندھ کی شرکت اس قدر تھی کہ مرکزی کمیٹی میں بھی سندھ کے تین علما کو شامل کیا گیا اور مٹیاری کے پیر سید غلام مجددد سرہندی مرکزی سیکٹریٹری جنرل کے منصب پر فائز ہوئے۔

جمعیت علمائے ہند، ریشمی رومال اور تحریک ہجرت کے روح رواں مولانا عبید اللہ سندھی اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں جس کو مولانا محمد رمضان پھلپوٹو نے اپنی کتاب ’خدمات علمائے سندھ اور جمعیت علما‘ میں نقل کیا ہے کہ جمیعت علمائے ہند کا بنیاد مہیا کرنے والی جماعت ’جمعیت الانصار‘ تھی اور جس محفل میں جمعیت الانصار کی بنیاد رکھی گئی اس میں چار علما موجود تھے، مولانا عبیداللہ سندھی سمیت تین کا تعلق سندھ سے تھا۔

مولانا عبید اللہ سندھی واضح کرتے ہیں کہ جمعیت الانصار کا پروگرام برطانوی سامراج کے خلاف پرتشدد تحریک اور مسلح جدوجہد تھا جبکہ جمعیت علمائے الہند کا پروگرام ملکی قوانین و آئین میں رہ کر پر امن جدوجہد کرنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی تشکیل اور صوبہ سندھ

جمعیت علمائے اسلام الہند متحدہ انڈیا کی حمایتی جماعت تھی تاہم 1945 میں دیو بند کے عالم علامہ شبیر احمد عثمانی نے اختلاف رائے رکھتے ہوئے تحریک پاکستان کی حمایت کی لیکن سندھ میں جمعیت علمائے الہند اور اس کا نظریہ ہی مقبول رہا۔

قیام پاکستان کے بعد 1952 میں جب جمعیت علماء اسلام پاکستان کی تشکیل ہوئی اور علامہ شبیر احمد عثمانی اس کے سربراہ منتخب کیے گئے تو خلیفہ احمد الدین خانقاہ جرار شریف شکار پور تنظیم سندھ کے امیر اور حافظ محمد اسماعیل میمن سیکریٹری منتخب کیے گئے۔

جمعیت علمائے اسلام کئی بار اختلافات اور تقسیم کا شکار رہی قیام پاکستان سے قبل سندھ کی قیادت جمعیت علمائے الہند اور بعد میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ رہی۔

مولانا محمد رمضان پھلپوٹو ’خدمات علمائے سندھ اور جمعیت علما‘ میں خانپور میں مرکزی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مولانا عبدالکریم قریشی اور علامہ سید محمد شاہ امروٹی نے سازش کو ناکام کیا اور مولانا فضل الرحمان کے لیے اتفاق رائے پیداکرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔

جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو جمعیت علمائے اسلام کی سربراہی تک لانے میں صوبہ سندھ کا کلیدی کردار رہا۔

سندھ میں جمعیت علمائے اسلام کی مقبولیت

سندھ میں جمعیت علمائے اسلام صرف ایک بار صوبائی اسمبلی میں پہنچی ہے۔ سنہ 2002 کے عام انتخابات جے یو آئی نے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا تھا جس میں دو کراچی اور ایک جیکب آباد سے صوبائی اسمبلی نشست پر کامیابی کی۔

اس کے بعد کے انتخابات میں کشمور اور جیکب آباد میں اس کے امیدوار چند سو ووٹوں سے شکست کھاتے رہے ہیں۔

گذشتہ بلدیاتی انتخابات میں جے یو آئی تیسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی جس کے تحصیل سطح تک پینل اور امیدوار کامیاب ہوئے اس نے بعض علاقوں میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا تھا جبکہ شمالی سندھ میں حالیہ انتخابات اور ضمنی انتخابات میں اپنے ووٹ بینک کی موجودگی کا احساس دلا چکی ہے۔

یہ وہ علاقے ہیں جہاں بلوچ آبادی کا اثر و رسوخ ہے اس کے علاوہ مہر اور چاچڑ برادریوں میں بھی جے یو آئی اپنے مکتبہ فکر کے افراد رکھتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے لیے چیلینج

حال ہی میں لاڑکانہ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کو شکست ہوئی جبکہ جے یو آئی کی حمایت سے جی ڈی اے کے امیدوار کامیاب ہو گئے۔ اس سے قبل گھوٹکی میں قومی اسمبلی کے انتخابات میں اس نے پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد بخش مہر کی حمایت کی تھی جو کامیاب ہوئے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے پاس بھی دوسری چوائس جے یو آئی بن چکی ہے جس کی مثال گھوٹکی سے چار مرتبہ صوبائی اور ایک مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہونے والے جام سیف اللہ دہاریجو تھے جو گذشتہ انتخابات میں جے یو آئی میں شامل ہو گئے۔

جمیعت علمائے اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل راشد محمود سومرو کے مطابق موجودہ وقت سندھ میں جتوانے اور ہرانے والا ووٹ بینک جے یو آئی کے پاس ہے۔

وہ بڑھتے ہوئے ووٹ کو اپنے والد خالد محمود سومرو کی ہلاکت سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ کے عوام نے ان پر اعتماد کیا ہے اس کے باوجود کہ ان کے سر پر پگڑی ہے اور چہرے پر داڑھی ہے۔

’جب آپ سندھ کے ایشوز کو اٹھائیں گے، غریب و کسان کی بات کریں گے تو ظاہر سی بات ہے کہ لوگوں کی توجہ آپ کی طرف آئے گی۔ آپ قوم پرست جماعتوں کے ساتھ بھی چل رہے ہیں مذہبی اور مسلکی جماعتوں کے ساتھ بھی ہیں۔

اس کا فائدہ تو ہوتا ہے لہٰذا ہمیں یہ یقین ہے کہ مستقبل میں سندھ میں اگر کوئی جماعت متبادل ہوسکتی ہے تو وہ جے یو آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مذہبی جماعتوں اور شدت پسندی پر نظر رکھنے والی مصنفہ اور تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں ہی سندھ میں جے یو آئی کا ووٹ بینک بڑھنا شروع ہوگیا تھا۔

’ہماری سیاسی نظر ہمیشہ مسلم لیگ بمقابلہ پی پی پر رہی ہے، یہ نوٹ نہیں کیا کہ یہ (جے یو آئی کے ووٹرز) کتنے بڑھ رہے ہیں۔‘ سنہ 2008 میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کا جو اتحاد تھا اس دور میں انھیں زیادہ فروغ ملا ہے۔ سندھ میں مڈل کلاس بڑھ رہی ہے لیکن ساتھ میں قدامت پسندی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اب یہ نیا سندھ ہے جس میں متبادل کی بھی تلاش ہے اور مذہبی رنگ بھی بدلا ہے۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ سمجھتی ہیں کہ جے یو آئی مستقبل میں سندھ میں پیپلز پارٹی کے لیے چیلنج بنے گی کیونکہ پیپلز پارٹی کا عوام سے ربطہ نہیں رہا، یہ رابطہ محض بلاول کے جلسوں کی حد تک ہے۔ اس کے علاوہ مدارس بھی اس (جے یو آئی) کی مقبولیت کا ایک عنصر ہیں۔

سندھ میں شمالی سندھ کی خانقاہیں بالخصوص ہالیجوی، امروٹ شریف، بیر شریف، جرار شریف جے یو آئی اے سے وابستہ رہی ہیں جبکہ تیزی کے ساتھ ابھرتے مدارس کے منتظمین اور معاون بھی اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ شمالی سندھ میں بھی اپنی تحقیق کے سلسلے میں کئی بار جا چکی ہیں۔ انھوں نے ایوان صدر میں آصف علی زرداری سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے انھیں صرف ایک بات کہی تھی کہ سندھ میں مدارس بڑھ رہے ہیں تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ کوئی مسئلہ نہیں، وہ صرف تعلیم کے لیے ہیں۔

اسی بارے میں