اسلام آباد ہائی کورٹ کا پیمرا پر اظہارِ برہمی، توہینِ عدالت کیس میں تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت

پیمرا
Image caption چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ کیا اتھارٹی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کس کا کردار اچھا ہے اور وہ ٹی وی پر آ سکتا ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے ٹی وی اینکر پرسنز کے دوسرے پروگرامز میں بطور تجزیہ کار شرکت پر پابندی کے نوٹیفیکیشن پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پیمرا کو تحریری موقف جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس بات کا اختیار کس نے دیا کہ آپ کہیں کہ ایک اینکر کسی دوسرے پروگرام میں نہیں جائے گا؟

یاد رہے کہ عدالت نے سنیچر کو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر ٹی وی چینلز پر ہونے والے تبصروں پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ٹی وی اینکرز کو طلب کیا تھا۔

منگل کو ہونے والی عدالتی کارروائی اسی سلسلے کا تسلسل تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ٹی وی پر کون آئے گا، کیا پیمرا یہ فیصلہ کر سکتا ہے؟

کیا پیمرا نے فضل الرحمان کی پریس کانفرنس بند کروائی؟

پیمرا: ’حمد اللہ پاکستانی نہیں، ٹی وی پر مدعو نہ کیا جائے‘

ٹی وی چینل اور ریٹائرڈ فوجی

پیمرا کا متنازع ہدایت نامہ: کب کیا ہوا؟

  • سنیچر، 26 اکتوبر کو نواز شریف کی رہائی کی درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافیوں اور چیئرمین پیمرا کو طلب کیا۔
  • اسی دن عدالت نے ٹی وی اینکر پرسن و صحافی سمیع ابراہیم کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا۔
  • اتوار، 27 اکتوبر کو پیمرا نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا جس میں نیوز چینلز کو عدالت میں زیر سماعت مقدمات پر تبصروں سے اجتناب کی ہدایت کی گئی۔
  • پیر، 28 اکتوبر کو پیمرا نے ایک وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے بچھلے ہدایات نامہ کا مقصد اظہار رائے پر قدغن لگانا نہیں۔
  • پیمرا نے وضاحتی ہدایات نامے میں موقف اپنایا ہے کہ 27 اکتوبر کو جاری کردہ ہدایات نامے کو غلط انداز میں دیکھا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’کیا اتھارٹی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کس کا کردار اچھا ہے اور وہ ٹی وی پر آ سکتا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ 'عدالت میں زیر سماعت کیس پر کوئی یہ تاثر دے کہ پیسے چل گئے ہیں اور ڈیل ہو گئی ہے تو یہ [کوڈ آف کنڈکٹ کی] خلاف ورزی ہے اور آپ اس بات پر شوکاز نوٹس جاری کر سکتے ہیں۔'

Image caption چیف جسٹس نے چیئرمین پیمرا سے کہا کہ ’آپ نے کہا کہ پڑھے لکھے لوگوں کو لائیں، ہو سکتا ہے کہ ایک ان پڑھ مزدور بہت زیادہ وزڈم (دانائی) رکھتا ہو۔‘

چیف جسٹس نے چیئرمین پیمرا سے کہا کہ ’آپ نے کہا کہ پڑھے لکھے لوگوں کو لائیں، ہو سکتا ہے کہ ایک ان پڑھ مزدور بہت زیادہ وزڈم (دانائی) رکھتا ہو۔‘

اس پر چیئرمین پیمرا نے کہ انھوں نے صرف عدالت میں زیرِ سماعت معاملے کے حوالے سے ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’ایسی بات پر آپ متعلقہ چینل کا لائسنس منسوخ کریں۔‘

چیف جسٹس نے چیئرمین پیمرا سے کہا کہ ’آپ نے بظاہر توہین عدالت کی ہے۔ اگر آپ کو کوئی ابہام تھا تو آپ درخواست دائر کر کے عدالت سے پوچھ سکتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’قانون میں بتا دیں کہ پیمرا کوئی ہدایت نامہ جاری کر سکتا ہے؟ آپ کے پاس بہت اختیارات ہیں مگر اس طرح کی ہدایات دینے کا اختیار نہیں۔‘

چیف جسٹس نے چیئرمین پیمرا کو حکم دیا کہ تحریری جواب دیں کہ عدالت کو اس معاملے میں کیوں گھسیٹا گیا۔

پہلے ہدایت نامے میں کیا کہا گیا تھا؟

  • ٹی وی چینلز عدالت میں زیر التوا معاملات پر کوئی بھی بحث، تجزیہ یا قیاس آرائی نشر نہیں کریں گے اور اپنے چینل کو عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
  • ایسے اینکرز جو ٹی وی پر اپنا شو بھی کرتے ہیں انھیں اپنے یا کسی اور چینل پر بطور تجزیہ کار آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
  • جن چینلز کے پاس ٹائم ڈیلے کی سہولت موجود نہیں ہے انھیں براہ راست پروگرام نشر کرنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔
  • ہر چینل کو ایک مانیٹرنگ کمیٹی یا ادارتی بورڈ تشکیل دینا ہوگا جس میں کم از کم پانچ سال تجربے والا ایک وکیل بھی موجود ہوگا۔ اس کمیٹی کا کام چینل کے پروگراموں میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کو یقینی بنانا ہوگا۔

پیمرا کے مراسلے میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ ہدایات اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سنیچر کو جاری کیے جانے والے احکامات کی روشنی میں جاری کی گئی ہیں۔

نئے ہدایت نامے میں پیمرا کا موقف

مگر اس ہدایت نامے پر صحافتی حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد پیر کے روز پیمرا نے ٹی وی چینلز پر ہونے والے تبصروں اور تجزیوں کے حوالے سے ایک وضاحت جاری کی۔

  • 27 اکتوبر کو جاری کیے گئے ہدایات نامہ کا مقصد اظہار رائے پر قدغن لگانا نہیں جیسا کہ تصور پیش کیا جا رہا ہے۔
  • پچھلا ہدایت نامہ پیمرا کے موجودہ قوانین، الیکٹرانک میڈیا (پروگرام و اشتہارات) کوڈ آف کنڈکٹ 2015 ، اور عدالت میں زیرِ سماعت مقدمات پر بحث کے حوالے سے موجودہ ضابطوں کی خلاف ورزی سے متعلق ہدایت ناموں کی روشنی میں جاری کیا گیا تھا۔
  • پروگرام اینکرز پر اپنے چینلز میں کسی بھی اہم ایشو کے حوالے سے میراتھون ٹرانسمیشن میں شرکت کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اور اگر ضرورت ہوں وہ اپنی ٹرانسمیشن میں موضوع کے اعتبار سے دیگر مناسب مہمانوں کو بھی اس میں مدعو کر سکتے ہیں۔
  • پیمرا پاکستان کے آئین کے تحت آزادی اظہار کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس کا کردار پیمرا قوانین اور کوڈ آف کنڈکٹ کی روشنی میں ریگولیٹ کرنا ہے۔ مذکورہ ہدایت نامے کو بھی اسی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

’واٹس ایپ پر ہدایت آتی ہے کس کو دکھانا ہے کس کو نہیں‘

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹی وی اینکر پرسن اور صحافی محمد مالک کو اپنے پروگرام کا ٹرانسکرپٹ اور سی ڈی جمع کروانے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں کہیں یہ نہیں ہوتا کہ عدالت ایک فیصلہ کرتی ہے تو اس جج کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے کہا کہ ملک میں ’غیر اعلانیہ سینسر شپ لگی ہوئی ہے، ایک فون کال یا وٹس ایپ کے ذریعے میسج آتا ہے کہ کس کو دکھانا ہے اور کس کو نہیں۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے سامنے پروگرام چلائے جائیں گے اور وہ بتائیں گے کہ یہ توہین عدالت ہے یا نہیں۔

توہینِ عدالت کا معاملہ شروع کہاں سے ہوا؟

واضح رہے کہ سنیچر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک غیر معمولی عدالتی کارروائی دیکھنے میں آئی جب سابق وزیر اعظم نواز شریف کی رہائی کی درخواست کی سماعت میں بنچ نے فریقین سے پہلے کچھ صحافیوں کو روسٹرم پر بلایا۔

عدالت میں موجود صحافیوں میں حامد میر، محمد مالک، عامر متین، کاشف عباسی، ارشد شریف اور سمیع ابراہیم شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ IHC
Image caption جسٹس من اللہ نے پیمرا کے نمائندے سے کہا 'آپ عسکری اداروں اور منتخب وزیراعظم کو بھی بدنام ہونے دے رہے ہیں'

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’جناب یہ مقدمہ ابھی ہم سن رہے ہیں اور آپ اس پر تبصرے اور ڈیل کی باتیں کر رہے ہیں۔ یہ بتائیں کہ یہ ڈیل کون کر رہا ہے اور کیا ہم بھی اس ڈیل کا حصہ ہیں؟ کیا اشارہ وزیر اعظم یا عسکری اداروں کی طرف ہے؟‘

جسٹس من اللہ نے اینکر پرسن سمیع ابراہیم کے کچھ تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ وہ کس ڈیل کی بات کرتے ہیں تاہم صحافی نے جواب میں خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔

چیئرمین پیمرا کی جانب سے ان کا ایک نمائندہ عدالت میں پیش ہوا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ان سے پوچھا ’آپ روز پروگرام دیکھتے ہیں؟ انجوائے کرتے ہوں گے کہ عدلیہ پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے؟‘ جسٹس من اللہ نے کہا ’آپ عسکری اداروں اور منتخب وزیراعظم کو بھی بدنام ہونے دے رہے ہیں۔‘

سماعت کے اختتام پر عدالت نے سمیع ابراہیم کو توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میڈیا کے ان تبصروں سے متعلق پوچھ گچھ آئندہ سماعت میں بھی جاری رکھے گی تاہم ایک صحافی کے علاوہ کسی اور کے خلاف ابھی توہین عدالت کی کارروائی شروع نہیں کی گئی۔

’ججز اور صحافیوں کی حدیں متعین ہیں‘

یہ بحث ایک عرصے سے چلی آ رہی ہے کہ آخر میڈیا کو کس حد تک اس طرح کے زیر التوا مقدمات پر تبصرے اور تجزیے کرنے کا حق حاصل ہے۔ تو اس بارے میں سینئیر صحافی اور سابق ججز کیا رائے رکھتے ہیں؟

عبدالشکور پراچہ وفاقی سیکرٹری قانون اور جج رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار اعظم خان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جس طرح ججز کی ایک حد ہوتی ہے اسی طرح صحافیوں کی بھی ایک خاص حد متعین ہے۔ ان کے خیال میں اس طرح کی صورتحال میں ججز کی حد پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی تک ہے۔

ان کے خیال میں اگر کسی صحافی نے توہین عدالت کی ہے تو پھر اسے بلایا جاسکتا ہے اور اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

سینیئر صحافی محمد ضیا الدین رات آٹھ سے 11 بجے والے شوز کو اس طرح کی صورتحال کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

ان کے خیال میں ٹی وی شوز سے پہلے اس قانون پر سختی سے عمل ہوتا تھا جس کے تحت زیر التوا مقدمات کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا ہے۔

سابق جسٹس ناصرہ جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے دور میں یہ بتایا جاتا تھا کہ بطور جج آپ کو اخبار تک نہیں پڑھنا چائیے۔ لیکن اب دور تبدیل ہوگیا ہے۔ وہ اس کا ذمہ دار عدلیہ کو نہیں سمجھتیں۔ ان کے خیال میں ججز بھی انسان ہی ہوتے ہیں وہ کون سا مریخ سے اترے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سینئیر صحافی محمد ضیا الدین رات آٹھ سے 11 بجے والے شوز کو اس طرح کی صورتحال کا ذمہ دار سمجھتے ہیں

تاہم ضیاالدین اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ وہ اس صورتحال کا ذمہ دار بھی ججز کو ہی قرار دیتے ہیں۔

ان کے خیال میں عدلیہ ہمیشہ میڈیا کے ساتھ ہی کھڑی رہی کیونکہ ان ٹاک شوز کے ذریعے انھیں بھی پروموشن مل جاتی تھی۔

وہ کہتے ہیں ’اب مسئلہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ زیر التوا مقدمات تک پر تبصرے اور تجزیے اس انداز میں ہورہے ہوتے ہیں کہ جج کے ریمارکس کو نیا ہی زاویہ دے دیا جاتا ہے۔‘

ضیا الدین کا خیال ہے کہ زیر التوا مقدمات پر بحث نہ کرنے والے قوانین پر سختی سے عمل ہونا چائیے۔

عبدالشکور پراچہ کے خیال میں اس وقت صورتحال کچھ ایسی بنی ہوئی ہے کہ ملکی ادارے ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت کرتے نظر آتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’آئین میں اختیارات کا ایک توازن رکھا گیا ہے۔‘

خیال رہے کہ عام طور پر سنیچر کو عدالت مقدمات پر سماعت نہیں کرتی البتہ اگر کسی نے کوئی درخواست یا مقدمہ عدالت تک پہنچانا ہو تو دفاتر کھلے ہوتے ہیں۔

لیکن سنیچر کو تو چیف جسٹس اطہر من اللہ خود اس غیر معمولی مقدمے کی سماعت کررہے تھے۔ وہ پہلی سماعتوں پر بھی اس مقدمے کے ساتھ جڑے ’خصوصی حالات‘ کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔

یعنی عدالت کی طرف سے ہی اسے خاص مقدمہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کیس کی اگلی سماعت اب منگل کو دن ساڑھے گیارہ بجے ہو گی اور اس سماعت پر بھی میڈیا کردار زیر بحث رہے گا۔

اسی بارے میں