کراچی بینالے: فریئر ہال میں نقیب اللہ محسود کے قتل کی عکاسی کرتے فن پارے پھر گرا دیے گئے

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
فن پارے

،تصویر کا ذریعہAdeela Suleman

،تصویر کا کیپشن

فریئر ہال میں جاری آرٹ نمائش میں عدیلہ سلیمان کے بنائے ہوئے فن پاروں کی توڑ پھوڑ کے بعد کا منظر

پاکستان میں ماورائے عدالت قتل کے موضوع پر فن پاروں کی ایک نمائش انھیں بنانے والی آرٹسٹ اور چند نامعلوم افراد کے درمیان سخت تنازعے میں تبدیل ہوگئی ہے۔

اتوار کو ’کلنگ فیلڈز آف کراچی‘ یعنی ’کراچی کے میدانِ قتل‘ کے نام سے ان فن پاروں کی نمائش کراچی کے فریئر ہال میں ’کراچی بینالے‘ کے تحت منعقد ہونی تھی۔

آرٹسٹ عدیلہ سیلمان کی جانب سے نقیب اللہ محسود کے والد کے جذبات پر مبنی ایک ویڈیو انسٹالیشن اور 444 قبروں کے ستون بنائے گئے تھے جن پر لوہے کے مرجھائے ہوئے پھول رکھے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

مگر اس فن پاروں کو ’سادہ کپڑوں میں ملبوس‘ کچھ افراد نے اتوار کو بند کروانے کی کوشش کی اور پیر کو انھیں گرا دیا گیا جس کے بعد پوری نمائش پر ہو کا عالم طاری ہے۔

نمائش انتظامیہ پہلے اس معاملے پر موقف دینے سے گریز کرتے رہے اور پیر کے روز عدیلہ سلیمان کے فن پاروں کو ’غیر متعلقہ‘ قرار دے دیا۔

فن پاروں کا موضوع کیا تھا؟

عدیلہ کے مطابق اس ’کلنگ فیلڈ‘ یا علامتی قبروں کے ذریعے انھوں نے کراچی میں 444 افراد کے مبینہ مقابلوں میں ہلاک ہونے کے دعوے کو دکھایا تھا۔

ہال کے اندر ایک فلم کے علاوہ باہر علامتی قبریں بنائی گئی تھیں جن میں ایک پر محمد علی جناح کی تصویر بھی موجود تھی۔

عدیلہ کے مطابق جس فارم میں نقیب کو ہلاک کیا گیا، اس میں یہ تصویر موجود تھی اور انھوں نے اس کی عکاسی کی ہے۔

مگر اتوار کو نامعلوم افراد نے یہ کہہ کر عدیلہ کے آرٹ کی نمائش بند کروا دی تھی کہ انھیں ’یہ کام پسند نہیں آیا۔‘ مگر پیر کو یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ ان علامتی قبروں کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد کی جانب سے گرا دیا گیا ہے۔

آرٹسٹ عدیلہ سلیمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صبح جب ان کے شاگرد فریئر ہال پہنچے تو تمام ستون گرے ہوئے تھے، جسے ان کے شاگروں نے دوبارہ نصب کیا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

گرائے جانے سے قبل علامتی ستونوں کی ایک تصویر

صحافی مبشر زیدی کی جانب سے ایک ویڈیو بھی ٹویٹ کی گئی جس میں چند نوجوانوں کو یہ آرٹ واپس درست کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

مگر پیر کی دوپہر کو معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ان ستونوں کو سیدھا کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر نامعلوم افراد کی جانب سے گرا دیا گیا۔

موقع پر موجود ایک صحافی کے مطابق فریئر ہال میں، جو کہ شہر کے مصروف ترین پارکس میں سے ہے، نمائش کا وقت جاری ہونے کے باوجود خاموشی طاری تھی۔

کب کیا ہوا؟

  • اتوار، 27 اکتوبر کو نمائش کا افتتاح ہوا
  • کچھ دیر بعد مبینہ طور پر عدیلہ سلیمان کی ویڈیو کی نمائش کو زبردستی بند کروا دیا گیا
  • پیر کی صبح آٹھ بجے تک عدیلہ کے مطابق ان کی بنائی گئی علامتی قبریں سلامت تھیں
  • ان کے مطابق نو سے دس بجے کے درمیان نامعلوم افراد نے ان ستونوں کو گرا دیا
  • اس کے بعد عدیلہ کے شاگردوں نے ان علامتی قبروں کو دوبارہ ٹھیک کیا
  • دوپہر کے وقت علامتی قبریں دوبارہ منہدم کر دی گئیں
  • دوپہر چار بجے کے قریب کراچی بینالے نے اپنے ایک بیان میں عدیلہ کے آرٹ کو نمائش کی تھیم سے ’غیر متعلقہ‘ اور نمائش کے اقدار سے متصادم قرار دے دیا

’کس کو شکایت کریں؟‘

عدیلہ سلیمان کے مطابق ویڈیو انسٹالیشن میں انھوں نے ایسے جذبات کو اجاگر کیا تھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ نقیب اللہ محسود کے والد سمندر کی طرف دیکھ رہے ہیں اور خاموش ہیں۔

’میں نے وہ فارم ہاؤس دکھایا ہے جس میں نقیب اللہ کو ہلاک کیا گیا تھا اور دوسری جانب شہر کی عام زندگی دکھائی ہے۔‘

آرٹسٹ عدیلہ کے مطابق اس فن پارے سے متعلق ان کی ساری تحقیق صحافیوں کی رپورٹس پر مبنی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

فریئر ہال میں جاری نمائش میں لوگ شریک ہیں

عدیلہ سلیمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح 10 بجے جیسے ہی نمائش کا آغاز ہوا تو سادہ لباس میں ملبوس کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے کہ ’ہم انٹیلیجنس ادارے سے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ان لوگوں نے ادارے کا نام نہیں بتایا اور کہا کہ یہ نمائش بند کریں۔‘

عدیلہ کے مطابق جب انھوں نے ان سے پوچھا کہ نمائش کو ’کیوں بند کریں؟‘ تو جواب میں ’انھوں نے فون پر ایک نمبر ملایا اور کہا کہ ہمارے صاحب سے بات کریں۔ لیکن ان ’صاحب‘ نے بات نہیں کی، جس کے بعد ہال انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر ہال بند کروا دیا گیا۔‘

عدیلہ کے مطابق قبروں کے فن پاروں کو بند کرنے کا کہا گیا تھا۔ اتوار کو ہال کے اندر اس کمرے کو بند کر دیا گیا تھا جہاں ویڈیو کی نمائش ہو رہی تھی تاہم باہر کا حصہ اپنی اصل حالت میں موجود تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عدیلہ نے کہا کہ ’کس کو شکایت کریں؟ سب کچھ سب کے سامنے ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

آرٹسٹ عدیلہ سلیمان اتوار کو فن پاروں کے ساتھ کھڑی ہیں

،تصویر کا کیپشن

علامتی قبروں پر لوہے کے مرجھائے ہوئے پھول لگائے گئے تھے

عدیلہ کے مطابق فریئر ہال میں دیگر آرٹسٹس کی انسٹالیشن کی نمائش بھی بند کروا دی گئی ہیں جن میں گندگی پر راشد رانا کی انسٹالیشن بھی شامل ہے جو ہال کی دوسری منزل پر جاری تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے اب تک اس حوالے سے قانونی ایکشن لینے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی انھوں نے اس کے ردعمل میں پولیس سے رابطہ کیا ہے۔

فن پاروں کی خالق نے بتایا کہ ان کا موضوع معاشرے میں موجود ’پرتشدد رجحان ہے۔ جب تک معاشرہ اس سے نجات حاصل نہیں کرے گا ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ آرٹ نقیب اللہ کی زندگی پر مبنی تھا اور اس میں ایسا کچھ نہیں تھا جو عام لوگوں کو نہ معلوم ہو۔

یاد رہے کہ اتوار کو جب بی بی سی نے ڈی آئی جی پولیس شرجیل کھرل سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس واقعے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

فن پاروں کی اس نمائش کا عنوان کلنگ فیلڈز آف کراچی یعنی کراچی کے میدانِ قتل رکھا گیا تھا

،تصویر کا کیپشن

ایک علامتی قبر پر محمد علی جناح کی تصویر بھی لگائی گئی تھی جو عدیلہ کے مطابق نقیب اللہ محسود کی جائے قتل پر موجود تصویر سے متاثر ہو کر لگائی گئی تھی

نمائش انتظامیہ کا مؤقف

تقریب کے ایڈمنسٹریٹر محمد سلیم نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا کہ وہ تاخیر سے آئے اور ان کے ماتحت نے انھیں بتایا کہ ’کچھ لوگ آئے تھے۔ انھیں یہ کام پسند نہیں آیا تھا۔ انھوں نے بند کروا دیا جبکہ باقی نمائش جاری ہے۔‘

کراچی بینالے ٹرسٹ کی مینیجنگ ٹرسٹی نیلوفر فرخ سے اتوار اور پیر کو ٹیلیفون پر رابطے کی کوشش کی گئی اور ٹیکسٹ پیغام بھی کیا گیا تاہم ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

تاہم انتظامیہ کی جانب پیر کی دوپہر چار بجے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر ایک باضابطہ بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ’مذکورہ‘ آرٹ نہ صرف نمائش کے ماحولیات سے متعلق تھیم سے متصادم ہے بلکہ یہ کہ اس پلیٹ فارم کو ’سیاسی‘ مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے نمائش کا آرٹ کو عوام تک اور گمنام آرٹسٹس کو مرکزی دھارے تک لانے کے مقصد کو نقصان پہنچے گا۔

انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ نمائش کا تھیم ایسا تھا جس کے تحت ایک ’غیر متعلقہ معاملے‘ پر سیاسی اظہار نہیں کرنا چاہیے تھا۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/Karachi Biennale

کراچی بینالے کی تاریخ

کراچی میں سب سے پہلے 2017 سے بینالے کے نام سے اس تقریب کا آغاز کیا گیا تھا۔ رواں سال یہ دوسرا بینالے ہے، جس میں منتظمین کے مطابق 16 ممالک کے آرٹسٹ اپنے فن پاروں کی نمائش کر رہے ہیں۔

کراچی زولاجیکل گارڈن اور فریئر ہال سمیت سات مقامات پر ان آرٹسٹوں کے فن پاروں کی نمائش کی جاری ہے۔

یاد رہے کہ جنوری 2018 میں نقیب اللہ محسود کو سابق ایس ایس پی راؤ انوار نے ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ان کا تعلق شدت پسند تنظیم سے ظاہر کیا تھا۔

لواحقین نے ان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ایک ماڈل اور عام نوجوان تھے۔ اس موقف نے فروغ حاصل کیا اور کراچی میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد پولیس کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے تحقیقات میں راؤ انوار کے موقف کو مسترد کیا تھا اور ان کی گرفتاری کی سفارش کی تھی۔

پشتون تحفظ موومنٹ سمیت متعدد جماعتوں نے اس ہلاکت کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔