وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: مولانا فضل الرحمان سے ڈیل کرنا کتنا مشکل کتنا آسان ؟

تصویر کے کاپی رائٹ JUI-F

جیسے ہی مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کراچی سے شروع ہوا ویسے ہی مولانا کے اغراض و مقاصد اور ان کی ذات پر رکیک سوشل میڈیائی حملے شروع ہو گئے۔ کوئی گمراہ کہہ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی شکرانے کے نوافل ادا کرے گی جب کل مولانا کموں شہید پار کر کے سندھ سے پنجاب میں داخل ہوں گے۔

کوئی مجہول کہہ رہا ہے کہ بلاول تو دور تک مولانا کے ساتھ چلنا چاہتا تھا مگر کسی نے بلاول کو یہ کہہ کر ڈرا دیا کہ ہرگز مت جائیو۔ مولانا ایک زیرک سیاسی تاجر ہیں۔ اسلام آباد کے راستے میں کہیں بھی اچھا ریٹ ملا تو بیچ کے گمچھا جھٹکتے ہوئے آگے بڑھ جائیں گے۔

کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ مولانا نے آزادی مارچ کے قالین کو ڈی چوک میں بچھانے کے لیے بولی وزیر اعظم کے استعفیٰ سے شروع کی اور پھر ان کے نمائندے اکرم درانی نے ڈی سی اسلام آباد کے لائے ہوئے 15 روپے کے سٹامپ پیپر پر دستخط کر دیے۔

یہ لوگ طعنے دے رہے ہیں کہ مولانا سے اچھے تو طاہر القادری رہے جنھوں نے جنوری سنہ 2013 میں اپنا لانگ مارچ اسلام آباد کے بلو ایریا تک لانے کا مطالبہ منوا لیا اور پھر اپنے زورِ بازو پر پارلیمان کے سامنے ریڈ زون میں پہنچ گئے جبکہ طاہر القادری سے اچھے تو عمران خان رہے جنھوں نے اگست سنہ 2014 میں اپنا مارچ کنونشن سینٹر تک روکنے کا وعدہ کیا اور پھر یہ وعدہ کنٹینر سے نیچے پھینک کر ڈی چوک تک آ گئے۔

وسعت اللہ خان کے دیگر کالم پڑھیے

اصل کون ہے اور روبوٹ کون، بوجھو تو جانیں

مولانا جیسا کوئی نہیں!

’کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے‘

اکیلا باصلاحیت کپتان کیا کر سکتا ہے؟

’اب اسرافیل کو صور پھونکنے کی ضرورت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ JUI-F

تو کیا مولانا کا آزادی مارچ بھی معاہدے کے مطابق صرف ایچ نائن اتوار بازار تک رہے گا یا آگے بڑھے گا؟

ایسے سوال اٹھانے والوں کو معلوم نہیں کہ مولانا جب کوئی ڈیل کرتے ہیں یا ایک پیج پر آتے ہیں تو اس پر قائم رہتے ہیں۔ جعلی یا اصلی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت اپنی جگہ اور ڈیل اپنی جگہ۔ بس یہی فرق ہے مولانا اور دوسروں میں۔

کچھ گستاخ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ان کے بنیادی مطالبات کا کیا ہوا جن کے مطابق عمران خان استعفیٰ دیں، فوج کی دخل اندازی کے بغیر نئے انتخابات کروائے جائیں، آئین کی اسلامی دفعات کا تحفظ کیا جائے اور نیب سیاسی اسیروں کو رہا کرے؟

تصویر کے کاپی رائٹ JUI-F

کچھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پارٹی کے اہم رہنما حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخ ہونے، مولانا کفایت اللہ کی اچانک گرفتاری اور جمعیت علمائے اسلام کی ذیلی شاخ انصار السلام پر پابندی کے باوجود حکومتی ٹیم سے مولانا کی ٹیم کے مذاکرات بلا چون و چرا کامیاب کیسے ہو گئے؟ وہ کیا مجبوری تھی کہ مولانا کی ٹیم علامتی احتجاجی واک آؤٹ تک نہ کر سکی۔؟

اور کچھ ان پڑھ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ نواز شریف کی ضمانت کے بعد مسلم لیگ ن مولانا کے مارچ میں آخر کیوں دلچسپی اور جوش کے ساتھ شرکت کرے گی۔؟

حاسدوں کی رکیکیت اپنی جگہ مگر بادی النظر میں لگ رہا ہے کہ مولانا کا احتجاج جو شروع شروع میں ایلو پیتھک نظر آ رہا تھا اب ہومیوپیتھک نوعیت کا ٹپائی دے رہا ہے۔ حکومت کو غالباً جتنا جلاب دینا مقصود تھا دیا جا چکا۔

جس طرح چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی جادوئی ناکامی کے بعد سب ہنسی خوشی رہنے لگے اسی طرح 31 اکتوبر کی علامتی فتح کے بعد بھی سب ہنسی خوشی رہیں گے اور ویسے بھی جہاں موافقت بھی اجازت کے تحت ہو اور مخالفت بھی اجازت نامے کی مرہونِ منت اور منافقت بھی پرمٹ پر وہاں بے ساختگی کا کوئی مستقبل نہیں۔

مگر میں پھر دہراؤں گا کہ بالکل اچھا نہیں لگتا جب ڈرائنگ روم کے تبصرے باز سڑک پر خود نکلنے کی بجائے مولانا جیسے مثالی عملیت پسند سیاست دان میں میم میخ نکالتے ہیں۔

بد بخت ہیں وہ لوگ جو مولانا سے دین، سیاست، تجارت، متانت اور سفارت کے گر سیکھنے کی بجائے ان پر تیر زنی کر کے اپنی جہالت مزید آشکار کرتے ہیں۔

اسی بارے میں