آزادی مارچ: مولانا فضل الرحمان فوری فائدہ چاہتے ہیں یا دور رس نتائج؟

مولانا فضل الرحمان، جے یو آئی، آزادی مارچ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف سے بدل دیے جانے پر غصہ ہے مگر درحقیقت یہ غصہ کس پر ہے اور انھیں کس کی حمایت حاصل ہے؟

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سیاسی و مذہبی جماعت جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) کے کارکنان موجودہ حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ کا آغاز کر چکے ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے پہلے جے یو آئی ایف کے قائد مولانا فضل الرحمان کی طرف سے اس مارچ کے اعلان کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا اور ان کی قیادت کی طرف سے ’مولانا مدرسوں کے چند ہزار طلبا لائیں گے، آنے دو‘ طرز کے بیانات سامنے آئے۔

مگر جوں جوں مولانا کی دی گئی تاریخ قریب آتی گئی، ان کے مارچ کرنے کے مقاصد کے حوالے سے غیر یقینی بڑھتی گئی اور ساتھ ہی حکومت کی پریشانی میں اضافہ ہونے لگا۔

جے یو آئی ایف کے قائد مولانا فضل الرحمان اپنے ’آزادی مارچ‘ کے لیے چاروں صوبوں سے حزبِ اختلاف کی تمام بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل چکے ہیں۔ وہ ایسا ماحول بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ حکومت کو مارچ کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے پڑے۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کا خصوصی ضمیمہ

مولانا سے ڈیل کرنا کتنا مشکل کتنا آسان ؟

مذہبی رہنما یا سیاسی جادوگر، مولانا آخر ہیں کون؟

مولانا جیسا کوئی نہیں!

اسلام آباد اور مارچ کے راستوں میں کنٹینر پہنچائے جا چکے ہیں۔ جے یو آئی ایف کے چند رہنماؤں کی گرفتاریاں بھی ہوئیں اور بات مذاکرات تک آن پہنچی۔ حزبِ اختلاف کی رہبر کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں طے پایا ہے کہ ’مارچ کے شرکا اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے۔‘

تاہم حکومت نے ’وزیرِ اعظم کے مستعفی ہونے اور نئے انتخابات کے حزبِ اختلاف کے مطالبے‘ کو مسترد کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ عام انتخابات میں مولانا فضل الرحمان کوئی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے جبکہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں نمائندگی حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔

ان کا قائم کردہ مذہبی اتحاد خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی میں بھی زیادہ نشستیں حاصل نہیں کر پایا تھا۔ اس پس منظر میں مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ’آزادی مارچ‘ پر حکومت خود یہ سوال کرتی نظر آ رہی ہے کہ ’مولانا فضل الرحمان آخر چاہتے کیا ہیں؟‘

ایسے سوالات کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کی طرف بڑھتے جے یو آئی ایف کے مارچ کے حوالے سے غیر یقینی کی فضا معاہدہ ہونے کے باوجود اب بھی قائم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مولانا فضل الرحمان 27 اکتوبر 2019 کو کراچی میں آزادی مارچ کے آغاز پر کارکنان سے خطاب کر رہے ہیں

'مولانا کو غصہ ہے'

صحافی اور تجزیہ نگار سبوخ سید مذہبی جماعتوں کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمان کو غصہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں ان کے متبادل کے طور پر پاکستان تحریکِ انصاف کو لایا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ سے خیبر پختونخواہ میں حکومتی اور مقتدر اداروں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرتے رہے ہیں۔

صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان وزیرِ اعظم عمران خان کو اپنا سیاسی حریف سمجھتے ہیں، خاص طور پر خیبرپختونخواہ کی سیاست میں۔

'وہ اپنی نشست بھی پی ٹی آئی کے امیدوار سے ہارے ہیں اور انتخابات بھی پی ٹی آئی کے ہاتھوں ہارے ہیں۔ انھیں ہمیشہ امید ہوتی تھی کہ ان کا کوئی ساتھی صوبائی حکومت میں کوئی اعلیٰ عہدہ وغیرہ حاصل کر لے گا، تو اس مرتبہ پی ٹی آئی نے ایسا نہیں ہونے دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان کو محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو ہر حال میں ہٹانا ہے۔

’وہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کتنی بڑی قوت ہیں‘

سبوخ سید کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ایک طرح سے اس وقت ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی رہبر کمیٹی جس کی وہ قیادت کر رہے ہیں اس میں حزبِ اختلاف کی نو جماعتیں شامل ہیں جن میں پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) جیسی بڑی جماعتیں نمایاں ہیں۔

’یہ تو مان لینا چاہیے کہ مولانا فضل الرحمان کی جس جماعت کو تانگہ پارٹی کہا جا رہا تھا، اس وقت پورے پاکستان کی حزبِ اختلاف کی سیاست اس تانگے کے پیچھے کھڑی ہوئی ہے۔‘

’اپوزیشن لیڈر تو اسمبلی کے اندر موجود ہیں لیکن اس وقت جو اصل قائدِ حزبِ اختلاف ہیں، وہ مولانا فضل الرحمان ہیں جو اسمبلی کے اندر نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان اپنا مارچ شروع ہونے سے قبل ہی آدھے مقاصد حاصل کر چکے ہیں

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ ’انتخابات میں شکست اور اسمبلی میں نمائندگی حاصل نہ کر پانے کی وجہ سے اگر کسی کی نظر میں ان کا سیاسی قد ماند پڑ گیا تھا تو وہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کتنی بڑی قوت ہیں۔‘

’اپنے ووٹروں کو اور اپنی جماعت کو متحرک کر کے وہ یہ بتاناچاہتے ہیں کہ ان کی سیاسی قوت کا غلط اندازہ نہ لگایا جائے۔ وہ اس ملک میں ایک سیاسی قوت ہیں۔‘

پاکستانی سیاست میں فضل الرحمان فیکٹر کو زندہ کرنا

سبوخ سید کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد یہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستان میں اب ان کی سیاست کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ ’مولانا فضل الرحمان پاکستانی سیاست میں فضل الرحمان فیکٹر کو زندہ کر رہے ہیں۔‘

اس کے لیے انھوں نے اس صورتحال کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا ہے جب پی ایم ایل این اور پی پی پی کی قیادت جیل میں تھی۔ وہ ان دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو اپنے بیانیے پر قائل کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

’وہ اسلام آباد میں آ کر لوگوں کو اپنی طاقت بھی دکھانا چاہتے ہیں۔ ہر طرف آزادی مارچ کا چرچا ہے۔ اخباروں میں کالم لکھے جا رہے ہیں، ذرائع ابلاغ پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں۔‘

تجزیہ کار و صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق حزبِ اختلاف کی باقی ماندہ جماعتیں فی الوقت اس پوزیشن میں نہیں تھیں کہ وہ ایسی کوئی تحریک چلا سکیں۔ ’مولانا فضل الرحمان کے خلاف کرپشن وغیرہ کا کوئی اسکینڈل بھی نہیں ہے اور اس کا انھوں نے فائدہ اٹھایا۔‘

تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اپنی جماعت کو متحرک کر کے ہزاروں لوگوں کو دارالحکومت میں لانا زیادہ مشکل کام نہیں ہوتا۔ ماضی میں بھی سیاسی اور مذہبی جماعتیں ایسا کرتی رہی ہیں۔

تاہم اس سے قدرتی طور پر انھیں ایک فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ حکومت کسی نہ کسی مصلحت سے کام لینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تجزیہ نگار سبوخ سید کہتے ہیں کہ اس مرتبہ مولانا فضل الرحمان کو فوری فوائد کی توقع نہیں ہوگی۔ تاہم وہ اس قسم کے صورتحال کا سامنا پہلے بھی کر چکے ہیں

’ان کی مٹھی میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ رہتا ہے‘

سبوخ سید کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ ان کی مٹھی میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ رہتا ہے۔ وہ کبھی بھی اپنی مٹھی کھولتے نہیں ہیں اور ان کی مٹھی میں کوئی نہ کوئی چپکے سے کچھ نہ کچھ دبا کر بھی چلا جاتا ہے۔

’انھیں اگر کچھ خاص طبقوں کی حمایت حاصل نہ ہو تو وہ کبھی بھی اتنا بڑا قدم نہیں اٹھاتے۔ یہ دیکھ لیں کہ ایک جماعت جو انتخابات میں محض خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے اپنے امیدوار کھڑے کرتی ہے، وہ پورے پاکستان میں از سرِ نو انتخابات کا مطالبہ کرتی ہے۔‘

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیکیورٹی ادارے دھرنے وغیرہ رکوانے میں کبھی بھی منتخب حکومت کا ساتھ نہیں دیتے۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کوئی نہ کوئی سیاسی مصالحت ہو جائے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے کہ وہ گولی چلا کر چیزوں کو روک سکیں۔

سبوخ سید کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ مولانا فضل الرحمان کو فوری فوائد کی توقع نہیں ہوگی۔ تاہم وہ اس قسم کے صورتحال کا سامنا پہلے بھی کر چکے ہیں۔ سنہ 1997 کے انتخابات میں بھی پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار کے ہاتھوں مولانا کو ہروا دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی مولانا نے مسلم لیگ اور مقتدر حلقوں کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلائی تھی۔

’مگر اس کا فائدہ مولانا فضل الرحمان کو 1997 میں نہیں بلکہ 2002 میں جا کر ملا تھا۔ تو مولانا فضل الرحمان صاحب لازمی نہیں کہ ہمیشہ فوری فائدہ لیتے ہوں، وہ فائدے کا انتظار بھی کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ اتحاد کی سیاست کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تجزیہ کار و صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اپنے خلاف کوئی کرپشن اسکینڈل نہ ہونے کا فائدہ اٹھایا

’وہ کہیں گے مولانا ہی لیڈر ہیں‘

تجزیہ کار و صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو اس مارچ کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ان کی جماعت کے اندر اگر کوئی مخالف آوازیں اٹھ رہی تھیں تو وہ دب جائیں گی۔

’ان کی جماعت کے اندر بلوچستان کی طرف دھڑے بھی بن رہے تھے اور اگر جماعت کے اندر سے ان کی قیادت کے بارے میں اگر کوئی آوازیں بلند ہو رہیں تھیں تو وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ وہ کہیں گے نہیں! مولانا ہی لیڈر ہیں۔‘

تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان آدھے مقاصد تو حاصل کر چکے ہیں۔ ’انھوں نے جلسے جلوس نکال لیے، حکومت گھبرا گئی اور معاہدے طے پا گئے۔ تو یہ ان کی جیت ہی تو ہے۔‘

تاہم سہیل وڑائچ کے مطابق اس کے باوجود مولانا فضل الرحمان کے لیے ضروری تھا کہ وہ مارچ کے منصوبے پر عمل کرتے۔

’حکومت کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے ان کو یہ فائدہ ہو گا کہ اب وہ اپنے تمام تر ’لشکر‘ کو لے کر آئیں گے۔‘

اسی بارے میں