مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ پنجاب میں: ’ہم اب ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں‘

جے یو آئی

جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ بغیر کسی رکاوٹ کے ٹولیوں کی شکل میں صوبہ سندھ سے ہوتا ہوا صوبہ پنجاب کے شہر ملتان پہنچ چکا ہے۔

سکھر میں روہڑی کے مقام پر نیشنل ہائی وے پر کھڑے کنٹینر سے مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ان لوگوں سے سیاسی جنگ لڑنی ہے اور سیاسی جنگ کا طبل بج چکا ہے کیونکہ وہ میدان میں نکل آئے ہیں، میدان میں نکلنے کے بعد ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہوتا ہے اور ہم اب ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔‘

حالیہ سیاسی تناؤ میں مولانا فضل الرحمان اہمیت حاصل کر چکے ہیں اور کراچی سے ان کے آزادی مارچ کا آغاز بھی بھرپور انداز میں ہوا اور سکھر سے ان کے قافلے میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آزادی مارچ کا آغاز سندھ سے کیوں؟

مذہبی رہنما یا سیاسی جادوگر، مولانا آخر ہیں کون؟

آزادی مارچ: ’کامیابی کے لیے خواتین روزے رکھیں‘

’پاکستانی سیاست کنٹینرز کی سیاست بن چکی ہے‘

سکھر سے دوپہر کے بعد آزادی مارچ ملتان کے لیے روانہ ہوا تو بیشتر افراد نے ٹرکوں پر اپنے قیام کو مکمل انتظام کر رکھا تھا جس میں بستر اور دیگر ضروریات کا سامان رکھا گیا ہے۔

سکھر سے ملتان تک راستے میں جگہ جگہ آزادی مارچ کی گاڑیاں اور ٹرک نظر آئے، بعض لوگ موٹر سائیکلوں پر اپنا زادِ راہ لیے روانہ تھے جبکہ بعض لوگ کھلی گاڑیوں میں سردی سے ٹھٹھرتے رہے۔

فضل الرحمان

سکھر میں مولانا فضل الرحمان کے خطاب کے دوران کنٹینر پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو اور ناصر علی شاہ، جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما انس نورانی اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما موجود تھے۔

مولانا فضل الرحمان نے بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس پلان بی اور پلان سی موجود ہیں اور اگر انھیں پلان اے میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو اس کے بعد دیگر پلانز پر عمل درآمد ہو گا۔

انھوں نے پلان بی اور پلان سی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا لیکن یہ ضرور کہا ہے کہ مارچ کے حوالے سے اہم اعلان 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ اداروں کے قطعاً خلاف نہیں ہیں لیکن بہرحال ان کا پیغام ان لوگوں تک ضرور پہنچ جاتا ہے جن کی حمایت سے آج حالات اس ڈگر تک پہنچ چکے ہیں۔

سکھر میں پیپلز پارٹی کے صوبائی اور مسلم لیگ کے مقامی قائدین موجود تھے لیکن عوامی سطح پر ان کی جانب سے کارکنوں کی تعداد انتہائی کم تھی۔

مارچ سے خطاب کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ مولانا کے اس مارچ سے ایم آر ڈی کی تحریک کی یاد تازہ ہو گئی ہے اور اس نے تمام سیاسی قوتوں کو ایک مرتبہ پھر یکجا کر دیا ہے۔

آزادی مارچ

انھوں نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے اس مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

مارچ میں جمعیت کے کارکن اور انصار الاسلام کے رضا کار بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

مولانا فضل الرحمان گذشتہ روز کراچی سے لاڑکانہ پہنچے تھے جہاں انھوں نے رات قیام کیا اور پھر سوموار کو دوپہر کے وقت وہ سکھر پہنچے تھے۔ آن کی آمد سے پہلے انصار الاسلام کے رضا کاروں کو ان کے قائدین نے ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں مکمل آگاہ کیا۔

نیشنل ہائی وے کے ایک جانب بڑا پنڈال سجایا گیا تھا جہاں کراچی اور دیگر علاقوں سے آئے مطاہرین نے رات قیام کیا تھا۔ انھیں صبح ناشتے میں چاول اور چنے دیے گئے۔

مولانا نے اپنی تقریر میں سینیئر صحافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب بیشتر ایسے صحافی ہیں جن پر پیمرا کی جانب سے پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور ان کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔

انھوں نے سینیئر صحافیوں سے کہا کہ ان کے لیے آزادی مارچ کا پلیٹ فارم حاضر ہے اور ان صحافیوں کو چاہیے کے دیگر طبقہ فکر کے افراد کی طرح سینیئر صحافی بھی ان کی صفوں میں شامل ہو جائیں تاکہ موجودہ حکومت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔

سکھر میں جلسے سے خطاب اور اس سے پہلے تقاریر اور جتھوں میں آنے والے مظاہرین کی جانب سے جو نعرے لگائے گئے ان پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

ایک نعرے میں نیازی قبیلے کا ذکر تھا تو وہاں موجود کئی لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ مارچ وزیر اعظم کے خلاف ہے تو نعرے بھی اُس ایک شخص کے خلاف ہونے چاہییں نہ کہ پورے نیازی قبیلے کے خلاف۔

نعرہ کچھ یوں تھا کہ ’دو ٹکے کے سو نیازی گو نیازی گو نیازی‘۔ یہ نعرہ نہ صرف کارکنوں بلکہ جماعت کے ایک اہم رہنما راشد سومر کی جانب سے بھی لگایا گیا۔

لائن
انصار الاسلام

'سنے بغیر انصار الاسلام کو کیسے کالعدم کر سکتے ہیں؟'

پیر کو وفاقی حکومت کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوالات اٹھائے ہیں۔

دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’وزارت داخلہ کیسے کسی کو سنے بغیر کالعدم قرار دے سکتی ہے۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب تنظیم کا علیحدہ سے کوئی وجود ہی نہیں تو اس پر کیسے پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔

عدالت نے وزارت داخلہ کے حکام کو وضاحت کے لیے 29 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے 24 اکتوبر کو انصار الاسلام کو ایک کالعدم تنظیم قرار دیا تھا اور چاروں صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد انتظامیہ کو اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

لائن
آزادی مارچ

مارچ میں زیادہ تر شرکا جے یو آئی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ہمارے نامہ نگار عزیر اللہ خان نے بتایا ہے کہ کراچی، لاڑکانہ اور سکھر میں مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کو بھی دیکھا گیا۔

آزادی مارچ

سکھر میں آزادی مارچ کے استقبال کے لیے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نثار کھوڑو اور ناصر شاہ سمیت دیگر رہنما جلسہ گاہ میں موجود تھے۔

آزادی مارچ

موٹروے پولیس کے مطابق آزادی مارچ کے گزرنے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جس میں پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری شامل ہے۔

آزادی مارچ کے پوسٹرز پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ نواز شریف، آصف علی زرداری، حاصل بزنجو اور اسفندیار ولی خان کی تصاویر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔

آزادی مارچ

’ان کو ہماری حکومت سے ڈر ہے‘

پیر کو وزیراعظم عمران خان نے ننکانہ صاحب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آزادی مارچ سے متعلق کہا کہ ’میں نے پیش گوئی کی تھی کہ سارے کرپٹ اکھٹے ہوجائیں گے۔‘

’ان لوگوں نے پہلے مل کر ملک کو لوٹا اور مقروض کیا۔ آج سب کہہ رہے ہیں کہ ہم نے معیشت کو مستحکم کردیا ہے۔‘

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ’ان کو ڈر ہے کہ ہماری حکومت کامیاب ہورہی ہے۔‘

انصار الاسلام کے کارکن

جے یو آئی کے رہنما اور انصار الاسلام کے کارکن اپنی مکمل تیاری کے ساتھ مارچ میں شریک ہیں۔

27 اکتوبر کی رات سکھر میں آزادی مارچ کے قافلے کے شرکا کے لئے پنڈال میں قیام کا بندوبست کیا گیا جبکہ بلوچستان میں ان کے پاس کھانا بنانے کا سامان بھی دیکھا گیا ہے جس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ موقع پر اپنے کھانے پینے کا خود انتظام کریں گے۔

آزادی مارچ

مارچ میں ایک اہم کردار خاکی وردی میں ملبوس انصار الاسلام کے کارکنوں کا ہے جو تقریباً ہر تصویر میں نظر آرہے ہیں۔ سکھر میں ان کارکنوں کو پولیس کے آمنے سامنے دیکھا گیا جبکہ یہ کارکن رہنماؤں اور شرکا کی ڈھال بنے ہوئے تھے۔

آزادی مارچ

انصار الاسلام کے کارکنوں نے اپنا روایتی خاکی لباس پہنا ہوا ہے اور ان کے ہاتھوں میں جے یو آئی کے پرچم کے رنگ کے ڈنڈے ہیں۔

دوسری طرف شرکا اور جماعت کے حامیوں نے اسی سفید اور کالے رنگ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔

آزادی مارچ

پنجاب میں آزادی مارچ کے سلسلے میں مسلم لیگ نواز کے کارکن بھی متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ انھوں نے کچھ مقامات پر سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کی تصویریں پکڑی ہوئی ہیں اور ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

۔

اسی بارے میں