بابا گرو نانک یونیورسٹی ’دوسری یونیورسٹیوں سے تھوڑی مختلف‘ کیسے ہوگی؟

ننکانہ صاحب، پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption اسی سال اگست میں بابا گرو نانک دیو جی کے 550ویں جنم دن کے موقع پر نگر کیرتن کا بھی انعقاد کیا گیا تھا

حکومت پاکستان کی جانب سے سکھ برادری کے لیے ایک یونیورسٹی کے قیام کے اعلان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے بابا گرو نانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ حکومت سے تعلق رکھنے والے سابق چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق نے سنہ 2016 میں سکھ مذہب کے بانی اور روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے 547 ویں یوم پیدائش کے موقع پر بتایا تھا کہ بابا گرو نانک یونورسیٹی 400 ایکڑ پر تعمیر کی جائے گی جس میں پنجابی کے علاوہ دیگر مضامین بھی پڑھائے جائیں گے۔

یونیورسٹی کی اہمیت

ننکانہ صاحب میں ہونے والی تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ بابا گرو نانک یونیورسٹی کا قیام اہمیت کا حامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی تعمیر پر چھ ارب روپے لاگت آئے گی جبکہ یونیورسٹی تین مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2008: بابا گورونانک یونیورسٹی کے قیام کا اعلان

ننکانہ صاحب میں 70 سال سے بند گرودوارہ کھولنے کا فیصلہ

’تمام مذاہب کے انڈین کرتار پور کے راستے سفر کر سکتے ہیں‘

’اس یونیورسٹی کے قیام سے علاقے کے لوگوں کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ دنیا بھر کے لوگ، خصوصاً سکھ برادری، اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے ننکانہ صاحب آئیں گے۔‘

پنجاب کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم راجہ یاسر ہمایوں کے مطابق بابا گرو نانک یونیورسٹی کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے جس کے لیے انھیں پنجاب حکومت کی جانب سے دو ارب روپے کی پہلی قسط مل چکی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے یونیورسٹی کی باہر کی دیوار تعمیرکر لی ہے جبکہ اس یونیورسٹی کی تعمیر و تکمیل مکمل ہونے میں تین سال کا عرصہ درکار ہے۔‘

’یونیورسٹی کا نقشہ سکھوں کے طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تعمیر کے بعد ہی پڑھنے کی خواہش رکھنے والے طالب علم یہاں داخلہ لے سکیں گے۔

بابا گرو نانک یونیورسٹی میں کیا پڑھایا جائے گا؟

وفاقی وزیر داخلہ برگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ یہ یونیورسٹی دوسری یونیورسٹیوں سے تھوڑی مختلف ہو گی۔

’اس یونیورسٹی میں طالب علموں کو دیگر مضامین کے ساتھ ساتھ خالصہ اور پنجابی بھی پڑھائی جائے گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ حکومت اسے انٹرنیشنل یونیورسٹی بنانے کو کوشش کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook: Prime Minister's Office

انھوں نے مزید بتایا کہ سکھوں کے علاوہ کوئی بھی باہر سے آکر یہاں اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر سکے گا اور یہاں باہر سے آنے والوں کے لیے ہاسٹل بھی تعمیر کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے شہر سے باہر آنے والے طالب علموں کے ہاسٹل بھی تعمیر کیا جائے گا تاکہ وہ یہاں آ کر رہ سکیں۔

صوبائی وزیر تعلیم یاسر ہمایوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں پانچ شعبہ جات قائم کیے جائیں گے۔ ان میں مذہب و عقائد، لبرل آرٹس اور سائنس، فنِ تعمیر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جنوبی ایشیائی علوم شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پنجابی اور خالصہ زبانیں سکول آف لبرل آرٹس اور سائنسز میں پڑھائی جائیں گی۔

’سکول آف تھیالوجی میں صوفی ازم، روحانیت اور بابا گرو نانک کی تعلیمات کے حوالے سے پڑھایا جائے گا اور دنیا بھر میں یہ یونیورسٹی روحانیت کی تعلیم کے حوالے سے جانی جائے گی۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ دوسرے ممالک میں سکھ کمیونٹی کے لوگوں نے اس پراجیکٹ میں فنڈنگ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں 10 ہزار طالب علم تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

جبکہ یونیورسٹی کے ہر شعبہ تعلیم کے لیے ہم دنیا بھر کے ماہرین کو مدعو کریں گے تاکہ وہ اپنی ماہرانہ رائے دے سکیں۔

سکھ بابا گرو نانک یونیورسٹی کو کیسے دیکھتے ہیں؟

سابق ایم پی اے پنجاب اسمبلی سردار رمیش سنگھ اروڑہ کہتے ہیں کہ یونیورسٹی بنانے کا اعلان 14 سال پہلے کیا گیا تھا لیکن آج تک کوئی حکومت اسے مکمل نہیں کرسکی۔

تاہم انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا قیام خوشی کی بات ہوگی۔

’اس یونیورسٹی کے قیام سے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھا جائے گا۔ کرتار پور راہداری منصوبے کے بعد اس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا جانا انتہائی اچھا عمل ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت کے اس اقدام سے دنیا میں پاکستان سے متعلق شکوک و شبہات بھی دور ہو جائیں گے اور یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان اپنی اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر تو پنجاب حکومت اس یونیورسٹی میں بھی باقی یونیورسٹیوں کی طرح تعلیمی معیار رکھے گی تو مشکل ہے کہ اس یونیورسٹی کا معیار قائم کیا جا سکے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ لوگ پاکستان آکر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ’ہماری تعلیم زیادہ مہنگی نہیں ہے۔ لوگ پاکستان میں سستی تعلیم حاصل کرنے کے غرض سے اس یونیورسٹی میں آئیں گے۔

’پنجاب حکومت کو اپنے کندھوں کو مضبوط کرنا ہو گا کیونکہ اس یونیورسٹی کے ساتھ بابا گورو نانک جی کا نام منسلک ہو گیا ہے۔‘

اسی بارے میں