العزیزیہ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سزا آٹھ ہفتوں کے لیے معطل کر دی

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کی سزا آٹھ ہفتوں کے لیے معطل کر دی ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ آٹھ ہفتوں کے بعد بھی اگر نواز شریف کی طبعیت میں بہتری نہیں آتی تو ان کی سزا کی معطلی میں توسیع کے لیے ایگزیکٹیو اتھارٹی یعنی حکومتِ پنجاب سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے نواز شریف کے وکلا کو 20، 20 لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

سنیچر کو عدالت نے شہباز شریف کی درخواست پر نواز شریف کی عبوری ضمانت چار دن کے لیے منظور کی تھی۔

منگل کو جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شہباز شریف کی طرف سے دائر درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

عدالت نے یہ ریمارکس دیے کہ اگر کسی بھی قیدی کی صحت خراب ہو تو ایسی صورت میں متعلقہ انتظامیہ ان کی رہائی سے متعلق فیصلہ کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹرز: ’نواز شریف کی حالت نازک ہے‘

نواز شریف:’پہلے جھکے، نہ اب جھکیں گے‘

پلیٹلیٹس ہوتے کیا ہیں، ان کی کمی سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ قانون کے مطابق ایگزیکٹیو ایسے مقدمات میں اپنا اختیار کیوں استعمال نہیں کرتی؟ عدالت کے مطابق جیل مینوئل کی شق 401 کے تحت رہائی کی شرائط کا تعین متعلقہ حکام کی صوابدید پر ہے، البتہ جیل حکام کی جانب سے کسی بھی فیصلے کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے۔

اس مختصر فیصلے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کی غرض سے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اگر وہ علاج کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ وفاقی حکومت نے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر رکھا ہے جسے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہی نکالا جا سکتا ہے۔

سابق وزیر اعظم کے ڈاکٹر عدالت میں

سابق وزیر اعظم کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے منگل کے روز عدالت میں پیش ہو کر ججوں کو نوازشریف کی صحت سے متعلق آگاہ کیا۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ عام آدمی میں پلیٹلیٹس کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہونی چاہیے لیکن نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد بہت کم ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نوازشریف کو علاج کے دوران دل کی تکلیف ہوئی۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اگر ایک بیماری کا حل تلاش کرتے ہیں تو دوسری بیماری کا مسئلہ ہوجاتا ہے۔

Image caption سروسز ہسپتال کے ڈاکٹر سلیم شہزاد

’اتنی تشویشناک حالت نہیں دیکھی‘

نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے روسٹرم پرآ کر کہا کہ نواز شریف کو جان بچانے کی ادویات دی گئیں۔ پلیٹلیٹس کی کم تعداد کی تاحال وجوہات کا علم نہیں ہو سکا ہے۔ 'بورڈ نے کل فیصلہ کیا ہے کہ مکمل باڈی سکین کیا جائے۔'

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور ابھی تک نہیں سنبھلی۔ ڈاکٹر عدنان نے عدالت کو بتایا کہ ’میں نے آج تک کبھی ان کی اتنی تشویشناک حالت نہیں دیکھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی عمر 70 سال ہے اور ان کو عارضہ قلب بھی لاحق ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ڈاکٹرز کمرہ عدالت میں موجود رہیں، اب ہم وکلا سے ان کے دلائل سن لیتے ہیں۔

ڈاکٹرعدنان نے عدالت کو بتایا کہ پلیٹلیٹس بڑھانے کی دوائی دی تو نوازشریف کو دل کی تکلیف شروع ہو گئی۔ انھوں نے کہا :’نوازشریف اس وقت زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ دل، گردے، اسٹروک اور شریانوں کے سکڑنے کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ نوازشریف کو کہیں کھو نہ دیں۔ ایک بیماری کا علاج کرتے ہیں دوسری بیماری کھڑی ہوجاتی ہے۔‘

ایم ایس سروسز ہسپتال نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف کی حالت اس وقت بھی خطرے میں ہے۔ ’نوازشریف کو جو ادویات دی جا رہی تھیں ان میں سے بعض دوائیں دیگر بیماریوں کے باعث روکنی پڑیں۔

نواز شریف کے انجائنا کی وجہ سے تمام بیماریوں کا علاج بیک وقت ممکن نہیں۔ 26 اکتوبر کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق نوازشریف کا دل مکمل طور پر خون پمپ نہیں کررہا۔‘

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار عدالت میں

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے ایک سال میں آٹھ بار جیلوں کا دورہ کیا، جس سے 4500 قیدیوں کو فائدہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 600 قیدیوں کے جرمانے ادا کیے ہیں۔

جیل اصلاحات کے ذریعے جیلوں کا نظام ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، نواز شریف ہسپتال میں ہیں ان کا پنجاب حکومت پر اعتماد ہے، ہم نواز شریف کا بھرپور خیال رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انتہائی پروفیشنل ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔‘

Image caption پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عدالت کے باہر موجود ہیں

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکلا کے دلائل

سابق وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی جان کو ہسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے، مرض کی ٹھیک سے تشخیص نہیں ہو رہی اس لیے خطرہ موجود ہے۔

خواجہ حارث نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے حوالہ جات پیش کیے۔ انھوں نے کہا کہ فالج سے بچاؤ کے لیے پلیٹلیٹس بڑھانا ضروری ہے اور پلیٹلیٹس فوری بڑھائیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پلیٹلیٹس اس وقت بھی مصنوعی طریقے سے بڑھائے گئے ہیں اور سابق وزیر اعظم کو کچھ دن پہلے بھی اسی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہوا۔ ’قدرتی طور پر ان کے پلیٹلیٹس بڑھ نہیں رہے۔‘

خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف کو ایک چھت کے نیچے تمام میڈیکل سہولیات ملنا ضروری ہیں۔ ’ہمیں ڈاکٹرز کی نیت و قابلیت پر شبہ نہیں مگر نتائج سے بورڈ خود مطمئن نہیں۔' ان کا کہنا تھا کہ اگر نوازشریف کی سزا پر عملدرآمد کرانا ہے تو اس کے لیے ان کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف کو ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے علاج کروانے کی اجازت ملنی چاہیے۔ ’ڈاکٹرز کی استدعا پر کیس پیر کے بجائے آج منگل کے لیے رکھا گیا تھا۔ ابھی تک بیماری کی وجوہات ہی معلوم نہیں ہو رہیں۔‘

Image caption پاکستان مسلم لیگ (ن) کی خواتین کارکنان منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر جمع ہیں

قومی احتساب بیورو کے دلائل

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے علاج کے لیے نواز شریف کی سزا چھ ہفتوں کے لیے معطل کی تھی اور سزا معطلی کے وقت کچھ شرائط طے کیں تھیں۔

عدالت نے واضح کیا تھا کہ نوازشریف ان چھ ہفتوں کے دوران ملک سے باہر نہیں جاسکتے اور اس عرصے میں اپنی مرضی کا علاج کرنے کا کہا گیا تھا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ کسی ڈاکٹر نے نہیں کہا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔ 'وفاقی حکومت بیرون ملک سے ڈاکٹر کی سہولت فراہم کرنے کی بھی پیشکش کر چکی ہے۔'

انھوں نے عدالت کو ایک خاص مدت تک نواز شریف کو علاج کے لیے ضمانت دینے کی تجویز دی۔

آج کی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو نے عدالت میں تجویز دی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ٹائم فریم کے تحت سزا معطل کر دی جائے۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ اس عرصے کے دوران نئی میڈیکل رپورٹ منگوا کر اس کا جائزہ لیا جائے، جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ’ہم پانچ یا سات سال کے لیے سزا معطلی نہیں مانگ رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’اسلام آباد میں جیل، نہ جیل قوانین‘

سماعت کے دوران دو گھنٹے تک اسی نکتے پر ہی بحث ہوتی رہی کہ متعلقہ حکام سے مراد وفاقی حکومت ہے یا صوبائی حکومت۔

عدالت کا استفسار تھا کہ نواز شریف کے خلاف مقدمے میں فیصلہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے دیا، مگر چونکہ اسلام آباد میں کوئی جیل نہیں ہے، اس لیے وفاقی دار الحکومت کی عدالتوں سے سزا پانے والے مجرمان کو پنجاب کی جیلوں میں رکھا جاتا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اسلام آباد میں سزا یافتہ مجرم کی سزا معطلی وفاق کے زیر اثر آئے گی یا پنجاب کے، اسلام آباد میں سزا پانے والے قیدی جیل جائیں تو ان کی کسٹڈی کو کون ریگولیٹ کرے گا کیونکہ اڈیالہ اور کوٹ لکھپت جیلیں پنجاب میں ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آج تک کسی نے سوچا نہیں کہ اسلام آباد میں بھی جیل ہونی چاہیے۔ انھوں نے نیب کے پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد کے شہریوں کے لیے بھی جیل بہت ضروری ہے، یہاں بھی جلدی جلدی جیل بنائیں۔‘

نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ کسی بھی مجرم کی سزا کی معطلی کا اختیار وفاق اور پنجاب دونوں کے دائرہ کار میں آتا ہے تاہم عدالت اس سے مطمئن نہیں ہوئی۔

اس کے بعد ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد طارق محمود جہانگیری کو بلایا گیا جنھوں نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت ہی اسلام آباد کے قیدیوں پر بھی فیصلہ کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد میں نہ جیل، نہ ہی جیل قوانین ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے قیدیوں کی سزا میں جو کمی کی جاتی ہے اس کا اطلاق ان قیدیوں پر بھی ہوتا ہے جنھیں اسلام آباد کی عدالتوں نے سزا سنائی ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر رہائی کی درخواست دو بار مسترد بھی کی۔

تاہم چیف جسٹس آصف سیعد کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے سابق وزیر اعظم کو طبی بنیادوں پر ضمانت صرف چھ ہفتوں کے لیے دی، جس کے بعد انھوں نے خرابی صحت کی وجہ سے ضمانت میں توسیع کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا مگر انھیں اس میں کامیابی نہ مل سکی۔

اسی بارے میں