نواز شریف کی صحت: ڈاکٹروں کے مطابق سابق وزیر اعظم کی صحت ابھی بھی غیر مستحکم

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ PMLN

پاکستان کے سابق وزیرِاعظم نواز شریف بدستور لاہور کے سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں ان کی صحت اور جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد میں اتار چڑھاؤ کے سبب ڈاکٹروں میں تشویش پیدا ہو رہی ہے۔

نواز شریف کے ذاتی معالج اور سابق وزیرِاعظم کا علاج کرنے والے مڈیکل بورڈ کے رکن ڈاکٹر عدنان نے ان کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت انتہائی خراب ہے اور وہ اپنی صحت اور زندگی کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔

پلیٹلیٹس کی تعداد میں کمی اور ہارٹ اٹیک نے ان کے گردوں پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ کم بلڈ شوگر اور انتشار خون میں کمی بھی ان کی صحت میں بگاڑ پیدا کر رہی ہے۔'

نواز شریف کے معائنے کے لیے تشکیل دیے گئے ڈاکٹروں کے بورڈ کے سربراہ سروسز ہسپتال کے ڈاکٹر محمود ایاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’سابق وزیر اعظم کی طبعیت بہت نازک تھی لیکن اب ہم ان کی صحت میں پہلی سے بہتری لانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب سابق نواز شریف کی صحت پہلی کی نسبت تھوڑی مستحکم ہو رہی ہے۔ تاہم اب بھی تمام تر توجہ ان کی طبیعت کو مستحکم رکھنے پر مرکوز رکھی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر محمود ایاز نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج کی جانب سے ان کی صحت سے متعلق کی گئی ٹویٹ پر ردعمل میں کہا کہ ’ہم نواز شریف کا علاج ان تمام طبی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کر رہے ہیں۔ صحت کے یہ تمام مسائل ان کو اس وقت لاحق ہیں اور اسی کا علاج کیا جا رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پلیٹلیٹس ہوتے کیا ہیں، ان کی کمی سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

’بدھ کو تحقیق کریں گے کہ پلیٹلیٹس میں کمی کیوں ہوئی‘

’مریم نواز کو والد کے پاس سروسز ہسپتال میں رکھا جائے‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی جانب سے کی گئی ایک اور ٹویٹ میں بتایا گیا کہ ’نواز شریف کی صحت سے متعلق زیر التواء تشخیصی سکینز اور بایئوپسی اور دیگر ٹیسٹ کے لیے اب بھی متعدد پیچیدہ پیتھولوجی درکار ہے۔ اس انتہائی پیچیدہ صورتحال میں ایک حتمی تشخیص کا نہ ہونا اور اس کا علاج نواز شریف کی نازک اور غیر مسحتکم صحت کے لیے خطرناک ہے۔‘

ڈاکٹر عدنان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حالت نازک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں لاحق گردوں کی تکلیف ان کی بگڑتی ہوئی صحت میں مزید پیچیدگی پیدا کر رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کے مرض کی حتمی تشخیص نہیں ہو پا رہی جو ایک تشویش ناک مسئلہ ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں کمی کی وجہ سے ان کا انجیوگرام نہیں کیا جا رہا کیونکہ اس سے اندرونی بلیڈنگ کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے انجیوگرام کے لیے کم از کم پلیٹلیٹس کی تعداد 40000 ہونی چاہیے۔

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی جانب سے ٹویٹ میں ان کی صحت سے متعلق بتائے گئے مختلف پیچیدہ سکینز اور ٹیسٹ پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود ایاز کا کہنا تھا کہ ’یہ تمام ٹیسٹ تب کیے جاتے ہیں جب مریض کی صحت تھوڑی سے مستحکم ہو لہذا جب ان کی صحت کچھ مستحکم ہو جائے گی تو یہ تمام ٹیسٹ تب کیے جائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت ابھی مستحکم نہیں ہے اور ان کی حالت نازک ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اس وقت لاہور کے سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انھیں 21 اور 22 اکتوبر کی درمیانی شب نیب لاہور کی حراست سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ نواز شریف کے خون کے نمونوں میں پلیٹلیٹس کی تعداد انتہائی کم ہو گئی تھی۔

نیب لاہور نے طبیعت ناساز ہونے پر جب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سروسز ہسپتال منتقل کیا تھا تو ان کے جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد 16 ہزار کے لگ بھگ تھی۔

سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ان کی جماعت کے افراد میں 22 اکتوبر کو اس وقت تشویش پیدا ہوئی جب ان کی جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد دو ہزار تک گر گئی تھی۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اس وقت لاہور میں سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹروں کی دس رکنی ٹیم ان کا طبی معائنہ کر رہی ہے۔

جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت دے رکھی ہے۔ سنیچر کو نواز شریف کی سزا کی معطلی کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے حکم جاری کیا کہ یہ مشروط ضمانت ہے اور عدالت منگل (آج) کے دن مقدمے کی تفصیلی سماعت کرے گی۔

مریم نواز کو والد کے پاس رکھنے کی ہدایات

تصویر کے کاپی رائٹ PML N

24 اکتوبر کو گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے مریم نواز کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سکے انھیں اپنے والد نواز شریف کے ساتھ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

گورنر پنجاب کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے ان سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے نواز شریف کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ 23 اکتوبر کی شب کو مریم نواز شریف کو اپنے والد سے ملنے کے لیے جیل سے سروسز ہسپتال جانے کی اجازت دی گئی تھی اور ہسپتال پہنچنے کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ انھیں طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ جبکہ انھیں 24 اکتوبر کی علی الصبح جیل واپس منتقل کر دیا گیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کا بیان

وزیر اعظم عمران خان نے 24 اکتوبر کو اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی دعائیں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔

ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 'سیاسی اختلافات اپنی جگہ، میں صدق دل سے نواز شریف کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔ انھیں علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایات دے چکا ہوں۔'

ن لیگ کے رہنماؤں کا ردعمل

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں احسن اقبال اور مریم اورنگزیب نے 22 اکتوبر کی شام اسلام آباد پریس کلب میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے متعلق پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے کہا کہ ’انسان کے خون میں موجود پلیٹلیٹس دس ہزار سے نیچے آ جائیں تو پھر اندرونی بلیڈنگ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔‘

احسن اقبال نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے خون میں پلیٹلیٹس کی مقدار دس ہزار سے بھی کم ہوگئی تھی تاہم پلیٹلٹس کی منتقلی کے بعد ان کی 'طبعیت تھوڑی بہتر' ہوئی ہے۔ ان کے ذاتی معالج کے مطابق اس سے قبل نواز شریف کے خون کا پلیٹلیٹ کاؤنٹ 2000 تک پہنچ گیا تھا۔

ن لیگ کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر نواز شریف کی بگڑتی صحت کو نظر انداز کرتی رہی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ 'حکومت نے نواز شریف کی صحت کے بارے میں غفلت برتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی'۔

انھوں نے نواز شریف کی صحت کی براہ راست ذمہ داری عمران خان پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر خدانخواستہ ان کی صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو وزیراعظم ذمہ دار ہوں گے اور انھیں ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا'۔

احسن اقبال نے الزام لگایا کہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے حکومت کو بروقت آگاہ کرنے کے باوجود سرکار کی طرف سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ 'یہ مجرمانہ غفلت تھی یا خدانخواستہ ان کی صحت کو نقصان پہچاننے کی کوشش تھی۔

'ہسپتال لے جا رہے تھے تو حکومت کی مشیرِ اطلاعات جس طرح کے تبصرے کر رہی تھیں۔۔۔ بیماری کے حوالے سے کوئی بھی ایسی بات نہیں کرتا۔ اس سے پہلے تحریک انصاف نے کلثوم نواز کی بیماری کا مذاق اڑایا۔ یہ پاکستانی سیاست کا سیاہ دھبہ ہے جو تحریک انصاف نے متعارف کرایا کہ مخالفین کی بیماری کا بھی مذاق اڑایا جائے۔'

اس موقعے پر مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 'نیب ترجمان نے ڈاکٹر عدنان پر یہ جھوٹا الزام لگایا کہ کہ انھوں نے نواز شریف کو کوئی ایسی دوا دی جس سے ان کی طبعیت بگڑی۔'

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے ذاتی معالج نے نیب حکام کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ نواز شریف کی طبعیت بہت خراب ہے۔

'انھوں نے نیب کو خط لکھا کہ ٹیسٹ کرنے دیں۔ ان کے مطابق بعد میں نیب نے اپنی ٹیم بلائی اور اپنی تسلی کرنے کے بعد رات 12 بجے انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔'

اسی بارے میں