آزادی مارچ، مگر خواتین کے بغیر!

آزادی مارچ

،تصویر کا ذریعہS.S. MIRZA

،تصویر کا کیپشن

اس مارچ میں دسیوں ہزار لوگ شرکت کر ر ہے ہیں

جمیعت علماء اسلام کا آزادی مارچ صوبہِ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے شروع ہو کر، پنجاب پہنچا ہے اور اس کی منزل ملک کا دارالحکومت اسلام آباد ہے، جہاں 31 اکتوبر کو اس کی آمد متوقع ہے۔

مولانا فصل الرحمان کی قیادت میں منعقد ہونے والے اس آزادی مارچ میں جہاں ایک طرف دسیوں ہزار لوگ شرکت کر ر ہے ہیں وہیں اس میں خواتین کی تقریباً مکمل غیر موجودگی بھی ایک حقیقت ہے۔

مولانا فضل الرحمان پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کے ساتھ شریک مرد اپنے گھر کی عورتوں کی نمائندگی کرنے کے پوری طرح اہل ہیں اور عورتوں کو گھر میں رہ کر روزہ رکھنا اور دعا کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہRIZWAN TABASSUM

،تصویر کا کیپشن

مولانا فضل الرحمان کہہ چکے ہیں کہ عورتوں کو گھر میں رہ کر روزہ رکھنے اور دعا کرنی چاہیے

خواتین کہاں ہیں؟

تو اس سارے آزدی مارچ میں، جس کو ایک طرح کی عوامی تحریک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اس میں خواتین کہاں ہیں؟

تجزیہ کار بینظیر شاہ کہتی ہیں کہ پاکستان کی خواتین کو ویسے تو کسی بھی عوامی ریلی میں حصہ لینے کے لیے کسی کی بھی اجازت کی ضرورت نہیں، لیکن میرے خیال میں اس مارچ میں ان کی غیر موجودگی بہتر ہے۔ اس ملک کی خواتین کو دو مردوں کی انا کی اس جنگ میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ مارچ معاشرتی تبدیلی کے لیے کوئی عوامی عوامی تحریک نہیں، جیسے کہ مثال کے طور پر لبنان میں ہو رہا ہے۔ جمیعت علماء اسلام اس کے ذریعے ایک منتخب حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ خواتین اس میں حصہ کیوں لیں؟

صحافی اور تجزیہ کار قطرینہ حسین کہتی ہیں، 'جمیعت علماء اسلام ویسے بھی خواتین کے حقوق کی کوئی علم بردار تو ہے نہیں۔ جہاں تک مجھے پتا ہے ان کا کوئی ومنز وِنگ بھی نہیں ہے۔ تو یہ بات تو صحیح ہے کہ آبادی کے 50 فیصد کو اس عمل سے باہر رکھا جا رہا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہFAROOQ NAEEM

،تصویر کا کیپشن

2016 کے پی ٹی آئی کے دھرنے میں خواتین بھی شریک تھیں

ترقی پسند جماعتوں کا موقف کیا ہے؟

تو اگر خواتین کو جان بوجھ کر ایک سیاسی عمل سے باہر رکھا جا رہا ہے، تو انہیں اس کا جواب کیسے دینا چاہیے؟

بینظیر شاہ کہتی ہیں 'دائیں بازو کی ایک جماعت کے صرف اس ایک مارچ میں شامل نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ خواتین کو عوامی مقامات یا سیاست سے الگ کیا جا رہا ہے۔ اس جماعت سے زیادہ ہمیں دیگر سیاسی جماعتوں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ وہ خواتین کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کے لیے کیا کر رہی ہیں۔ خاص طور پر حکومت کی جماعت۔ وفاقی کابینہ میں مشکل سے چند ایک خواتین ہیں اور پنجاب کی صوبائی کابینہ میں صرف دو۔'

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ جمیعت علماء اسلام کا خواتین کے بارے میں نظریہ ملک گیر سطح پر خواتین کے مقام کی عکاسی نہیں کرتا، تب بھی، اس مارچ میں کئی دیگر جماعتیں بھی شامل ہو رہی ہیں۔ مسلم لیگ نون سے لے کر عوامی نیشنل پارٹی، سب نے کسی نہ کسی حد تک اس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ کیا ان جماعتوں کے لیے یہ باعث فکر نہیں ہونا چاہیے کہ خواتین کے لیے اس مارچ میں کوئی جگہ نہیں؟

قطرینہ حسین کہتی ہیں، 'سچ پوچھیں تو اب تک کسی نے اس مارچ کو اس زاویے سے دیکھا ہی نہیں۔ اس بارے میں بات تک نہیں ہو رہی۔ اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر اوقات اس طرح کے مارچ سے خواتین خود ہی دور رہتی ہیں کیوں وہ خود کو وہاں محفوظ تصور نہیں کرتیں۔'

اس مارچ کا موازنہ بار بار عمران خان کے دھرنے سے بھی کیا جا رہا ہے، لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ اس دھرنے میں خواتین نہ صرف موجود تھیں، بلکہ بڑھ چڑھ کر اس میں شریک تھیں۔