بلوچستان یونیورسٹی: ’ہراس کیے جانے کے الزامات درست ہوئے تو ہم انسان کہلوانے کے قابل نہیں‘

ہائی کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ HIGH COURT OF BALOCHISTAN
Image caption چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی باتیں بھی سامنے آئی ہیں کہ 'اے گریڈ چاہیے یا فیل ہونا ہے، سکالر شپ پر آسٹریلیا جانا ہے یا امریکہ جانا ہے یا کہیں نہیں جانا۔'

پاکستان میں صوبہ بلوچستان کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں طالبات کو مبینہ طور پر ہراس کیے جانے کے حوالے سے جو دعوے سامنے آئے ہیں ’وہ خدا کرے کہ درست نہ ہوں کیونکہ اگر وہ درست ہوئے تو پھر ہم اس قابل نہیں کہ انسان کہلوائیں‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی باتیں بھی سامنے آئی ہیں کہ 'اے گریڈ چاہیے یا فیل ہونا ہے، سکالر شپ پر آسٹریلیا جانا ہے یا امریکہ جانا ہے یا کہیں نہیں جانا۔'

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ’ہم سب نے مل کر دو کام کرنے ہیں ایک یہ کہ یونیورسٹی کی ساکھ بحال ہو اور دوسرا یہ کہ جو لوگ ہراس کیے جانے کے واقعات میں ملوث رہے ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے‘۔

یہ ریمارکس انھوں نے یونیورسٹی میں طالبات کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔

یہ بھی پڑھیے

’پڑھائی کی خاطر میں نے گھر کی کیبل کاٹ دی‘

اچھے نمبروں کے لیے سیکس کی شرط، آخر کب تک۔۔۔

’خواتین کو نوکریوں کا جھانسہ دیکر ہراساں کیا جا رہا ہے‘

کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم دو رکنی ڈویژنل بینچ نے کی۔

سماعت کے موقع پر بلوچستان اسمبلی کے پارلیمانی کمیٹی کے اراکین، یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر محمد انور پانیزئی، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندوں کے علاوہ وکلا کی بہت بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔

سماعت کے دوران ایف آئی اے کے حکام نے ایک مرتبہ پھر یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں کے استعمال کے حوالے سے ایک رپورٹ اس درخواست کے ساتھ پیش کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک اسے افشاں نہ کیا جائے، تاہم چیف جسٹس نے ایف آئی اے کی رپورٹ سے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کو آگاہ کرنے کے لیے انھیں اپنے چیمبر میں طلب کیا۔

قائم مقام وائس چانسلر کی بے بسی

سماعت کے دوران جب چیف جسٹس نے قائم مقام وائس چانسلر سے کہا کہ وہ قانون کی مطابق کارروائی کریں تو وہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے رہے۔

چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ قانون کے تحت انھیں طالبات کو ہراس کیے جانے سے متعلق معاملات کی تحقیقات اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار ہے۔

انھوں نے وائس چانسلر کو کہا کہ اگر وہ قانون کے مطابق کارروائی نہیں کر سکتے تو وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے کیا کہا؟

بلوچستان اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین چیئر پرسن مہ جبین شیران کی قیادت میں پیش ہوئے۔

چیئر پرسن نے کہا کہ انھیں ہراس کیے جانے سے متعلق بہت ساری شکایتیں، فون کالز موصول ہوئیں لیکن متاثرین میں سے تاحال کوئی بھی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوا۔

کمیٹی کے رکن ثنا بلوچ نے کہا کہ یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں لیکن ان کے استعمال کے حوالے سے کوئی سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یونیورسٹی میں جو لوگ سکیورٹی یا سی سی ٹی وی کو آپریٹ کرنے پر معمور ہیں ان کی اخلاقی اور ہماری سماجی اقدار کے حوالے سے تربیت ہونی چاہیے‘۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت لوگوں کی نگاہیں عدلیہ، بلوچستان اسمبلی اور ایف آئی اے پر ٹکی ہوئی ہیں۔

اسمبلی کی رکن شکیلہ نوید نے عدالت میں الزام عائد کیا کہ ’کچھ عرصہ پہلے بیشتر سکیورٹی اہلکار گرلز ہاسٹل میں رات کو آئے اور وہاں کمرہ نمبر دو کو خالی کرایا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہاسٹل میں لڑکیاں چیختی رہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور رات کو یہ لوگ کیوں آئے ہیں؟‘

انھوں نے بتایا کہ جب کمیٹی کے اراکین نے ہاسٹل کے چوکیدار سے پوچھا کہ انھوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو کیوں آنے دیا تو ان کا جواب یہ تھا کہ وہ ہاسٹل کے دروازے سے نہیں آئے بلکہ سیڑھیاں لگا کر اندر داخل ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اس کی ویڈیو بھی ہے جسے وہ چیمبر میں فاضل ججوں کو دکھائیں گی۔

اس بات پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر سے کہا کہ ’سکیورٹی اہلکار وہاں حفاظت کے لیے ہیں یا لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے‘۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے نمائندے نے کیا کہا؟

ہراس کیے جانے کے الزامات کی خبروں کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اراکین نے بھی یونیورسٹی کا دورہ کیا تھا۔

کمیشن کے بلوچستان چیپٹر کے سربراہ حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ کمیشن کے اراکین نے نہ صرف اب یونیورسٹی کا دورہ کیا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن نے بھی یونیورسٹی کے امور کا جائزہ لیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے اندر فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تعینات ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا گھر، جمنیزیئم اور ایک ٹیچرز ہاسٹل بھی ایف سی کے استعمال میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یونیورسٹی کی اپنی سکیورٹی کافی ہے اس لیے ایف سی کے اہلکاروں کی یونیورسٹی کے اندر تعیناتی کی ضرورت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA Media

اس موقع پر ایک خاتون وکیل جمیلہ ایڈووکیٹ نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ ’ایف سی کے اہلکاروں نے یونیورسٹی کے اندر ایک تفتیشی مرکز بھی بنایا ہے جہاں وہ باہر سے لوگوں کو گرفتار کر کے تفتیش کے لیے لاتے ہیں‘۔

چیف جسٹس نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر کو ہدایت کی کہ وہ جمنیزیئم، ٹیچرز ہاسٹل اور وائس چانسلر کے گھر کو دو دن کے اندر ایف سی کے اہلکاروں سے خالی کرائیں۔

’ہراس سے متاثرہ کوئی شخص ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوا

اس کیس میں کوئی بھی خاتون ایف آئی اے میں کیس رجسٹر کرانے کے لیے سامنے نہیں آئیں جس پر عدالت کے کہنے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان شہک بلوچ شکایت کنندہ بنے تھے۔

انھوں نے سماعت کے دوران بھی ایک کیس کا حوالہ دیا۔

انھوں نے عدالت میں کہا کہ 'ایک ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ کو اس کے ایک ٹیچر نے کہا کہ آپ کا سمیسٹر ڈراپ ہو رہا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس کو ڈراپ نہیں ہونے دوں گا۔ اس طالبہ کو ان کے ڈیپارٹمنٹ کے دو ٹیچروں نے تین گھنٹے تک اپنے پاس بٹھائے رکھا‘۔

انھوں نے سوال کیا کہ اس حوالے سے اب تک یونیورسٹی کے چھوٹے گریڈ کے چار اہلکاروں کو معطل کیا گیا لیکن معاملے کو اس سے آگے کیوں نہیں بڑھایا گیا۔

انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ’کل ایف آئی اے والے آئیں گے اور یہ بتائیں گے کہ متاثرین میں سے کوئی سامنے نہیں آیا اس لیے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی بتائیں گے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے فلاں فلاں گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کیا جائے‘۔

تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ایسا نہیں ہونے دے گی کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف اس بینچ کے اراکین دیکھ رہے ہیں بلکہ عدالت کے تمام جج اس کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے وائس چانسلر اور ایف آئی اے کے حکام کو کہا کہ 'جو بھی ان واقعات میں ملوث ہو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں خواہ اس میں میں خود (چیف جسٹس ) ہی کیوں نہ ہوں۔'

انھوں نے کہا کہ متاثرین کو ایف آئی اے یا بلوچستان اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا چاہیے تاکہ ان واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

عدالت نے کیا احکامات دیے؟

عدالت نے کیس کی سماعت 15 دن بعد تک ملتوی کرتے ہوئے ایف آئی اے کے حکام کو حکم دیا کہ وہ اپنی تحقیقات جاری رکھیں۔

عدالت نے وائس چانسلر کو حکم دیا کہ وہ یونیورسٹی کی جمنیزیئم، وائس چانسلر کے گھر اور ٹیچرز ہاسٹل سمیت ان تمام مقامات کو ایف سی اہلکاروں سے خالی کرائیں جو کہ طلبا اور اساتذہ کے لیے مختص ہیں۔

عدالت نے کہا کہ کیس کی سماعت کے دوران یہ دلائل بھی سامنے آئے کہ یونیورسٹی کے اندر فرنٹیئر کور کی ضرورت نہیں۔

عدالت نے کہا کہ چیف سیکرٹری، وائس چانسلر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اگر ایف سی کی ضرورت ہے تو ان کے لیے یونیورسٹی کے باہر کون سی جگہ مختص ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں