پاکستان کے تاجر، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، طالبعلم اور آرٹسٹ کیوں سراپا احتجاج ہیں؟

تاجر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔

احتجاج کرنے والوں میں تاجر، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، طالبعلم اور آرٹسٹ شامل ہیں۔

لیکن ان احتجاج کرنے والے گروہوں کے مطالبات کیا ہیں؟ یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے ان سب لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی جو ان احتجاج میں براہِ راست شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خیبر پختونخوا: ڈاکٹروں، حکومت کا تنازع کیا ہے؟

بہتری کی’یقین دہانی‘کے باوجود تاجر بےیقینی کا شکار کیوں؟

نقیب اللہ کے قتل کی عکاسی کرتے فن پارے پھر گرا دیے گئے

آزادی اظہارِ رائے

کراچی کے فریئر ہال میں گذشتہ دنوں ہونے والے بینالے میں آرٹسٹ عدیلہ سلیمان نے ماورائے عدالت قتل کو اپنے فن پاروں کا موضوع بنایا۔

Image caption علامتی قبروں پر لوہے کے مرجھائے ہوئے پھول لگائے گئے تھے

جس کے نتیجے میں اُن کے اور چند نامعلوم لوگوں کے درمیان تنازعہ سامنے آیا اور پہلے ان کی نمائش روکی گئی اور بعدازاں فن پاروں کو گرا دیا گیا۔ اس پر سماجی کارکنان بھی سامنے آئے جنھوں نے 27 اکتوبر کے بعد دو روز احتجاج کیا اور فن پاروں کو دوبارہ اپنی جگہ پر رکھا۔

عدیلہ سلیمان نے فن پاروں کے ذریعے ایک قبرستان کی عکاسی کی تھی جن میں 444 قبروں کے کتبے لگائے اور اس کا نام ’کلنگ فیلڈز آف کراچی‘ رکھا۔

اسی سے جڑی تھی نقیب اللہ محسود کے والد کی اپنے بیٹے کے قتل کے حوالے سے بات چیت کی ایک ویڈیو انسٹالیشن، جو ہال کے اندر لگائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ 444 کراچی میں مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے نمبر پر مبنی ہے جو پولیس ریکارڈ کے مطابق مبینہ طور پر پولیس افسر راؤ انور سے منسلک ہے۔

کلاسیکل ڈانسر اور سماجی کارکن شیما کرمانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ فریئر ہال پبلک کے لیے بنائی گئی جگہ ہے جہاں سیاسی باتیں نہیں کی جا سکتیں۔ یہ بہت ہی حیرت کی بات ہے کہ جب ان کو ایسا کرنا ہی تھا تو پہلے یہ فن پارے لگانے کی اجازت دی کیوں؟ اور کیا اب آرٹسٹ اپنا فن منظرِ عام پر لانے سے پہلے کسی کی اجازت کا انتظار کریں؟‘

Image caption تاہم چند نامعلوم افراد نے ان علامتی قبروں کو گرا دیا

’کرپشن کا خاتمہ یا تاجر کا؟‘

پاکستان بھر میں تاجروں کی نمائندہ تنظیموں نے ملک گیر دو روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا تھا جو آج (بدھ) بھی جاری رہے گی۔

اس وقت حکومتِ پاکستان اور تاجروں کے درمیان ٹیکس کے معاملات پر تنازعہ چل رہا ہے۔ تحریکِ انصاف کی حکومت چاہتی ہے کہ ان افراد تک پہنچا جائے جو ٹیکس نہیں دیتے جن میں ایک بڑی تعداد تاجروں کی بھی ہے۔

تاجروں کے مطابق حکومت ان کو امپورٹر اور مینیوفیکچرز کے درمیان سہولت کار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے تاکہ ان امپورٹرز تک پہنچا جا سکے جو ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تاجر اس عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ اور ساتھ ہی یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ امپورٹرز اور مینیوفیکچرز کے ذریعے سامان کے لین دین کے دوران 17 فیصد ٹیکس ادا ہو جاتا ہے تو پھر مزید حکومتی اقدامات کیوں؟

اسی وجہ سے کئی تاجر نئی حکومتی پالیسی کے تحت لین دین کرتے وقت اپنی معلومات جیسا کہ شناحتی کارڈ کو حکومتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنانا چاہتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں تاجروں کی جانب سے اعلان کردہ شٹر ڈاؤن ہڑتال آج دوسرے دن بھی جاری رہے گی (فائل فوٹو)

اپنے مطالبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے آل پاکستان انجمنِ تاجران کے چیئرمین خواجہ محمد شفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کہتی ہے کہ تاجر ٹیکس نہیں دینا چاہتے، مگر ایسا نہیں ہے کیونکہ ہر تاجر بالواسطہ یا بلاواسطہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کی تاجر برادری کہتی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے مبینہ کرپٹ عملے کی وجہ سے امپورٹرز اور مینیوفیکچرر سے ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہی ہے۔

’طالبعلم کہاں رہیں گے؟‘

اسلام آباد کے E-11 سیکٹر میں کچھ طلبہ نے مل کر ایک گھر کرائے پر لیا اور اس کی وجہ یہ تھی جن یونیورسٹیوں میں وہ پڑھتے ہیں وہاں رہنے کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں ہے۔ اسی طرح اسلام آباد کے دیگر رہائشی سیکٹرز میں ہزاروں کی تعداد میں نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کے طالبعلم مشترکہ طور پر ایسے ’نجی ہاسٹلز‘ میں رہ رہے ہیں۔

E-11 میں رہائش پذیر طلبہ کو سی ڈی اے نے حال ہی میں یہ کہہ کر گھر خالی کرنے کو کہا کہ قواعد کے تحت رہائشی پلاٹ کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter: @AmmarRashidT
Image caption وفاقی ترقیاتی ادارے کی جانب سے سیل کیا گیا نجی ہاسٹل

گھر بدر کیے جانےوالے طلبہ نے احتجاج کیا اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے ذریعے اپنی بات باقی لوگوں تک پہنچائی۔

مشکل میں پھنسے ان طالبعلموں کو دیکھ کر باقی تعلیمی اداروں کے طالبعلم بھی ان کے ساتھ آن ملے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاملہ ایک احتجاج کی شکل اختیار کر گیا اور ملک بھر میں جاری بحث مباحثے کا حصّہ بھی۔

اسلام آباد کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ شہر کے رہائشی علاقے میں کسی گھر کو کمرشل مقاصد جیسا کہ نجی ہاسٹل کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے عوامی ورکرز پارٹی کے عہدیدار عمار راشد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ ’جب تک یونیورسٹی انتطامیہ، طالبعلم اور سی ڈی اے ایک ساتھ بیٹھ کر اپنے اپنے مسائل نہیں بتائیں گے، تب تک یہ معاملہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter: @AmmarRashidT
Image caption بیدخلی کے خلاف طالبعلموں نے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا

’اب سِول سرونٹ نہیں چاہییں‘

گذشتہ چند مہینوں سے خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کا احتجاج جاری ہے جس کے نتیجے میں وہاں کے ہسپتالوں کا نظم و نسق بری طرح متاثر ہے۔

اس احتجاج کا آغاز لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے شروع ہوتا ہوا آج پورے پختونخوا میں پھیل چکا ہے۔ اس احتجاج کی ایک بڑی وجہ ستمبر کے ماہ میں پختونخوا اسمبلی سے پاس ہونے والا ایک بِل ہے۔

ریجنل اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ایکٹ کے تحت صحت سے متعلق ضلعی اور ریجنل سطح پر مختلف محکمے قائم کیے جائیں گے، جن کو وفاقی اور صوبائی حکومت کے ذریعے فنڈز ملیں گے۔

ساتھ ہی اس قانون کے تحت یہ واضح کیا گیا ہے کہ آخری سِول سرونٹ کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ پوسٹ ختم کردی جائے گی۔ جس کے بعد ریجنل اور ضلعی انتظامیہ قوانین کے مطابق نئی آسامیاں نکالے گی اور ڈاکٹروں کو بھرتی کرے گی۔

اس بات پر ڈاکٹر برہم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ DR. RIZWAN, PRESIDENT YDA
Image caption فائل فوٹو

کیونکہ سِول سرونٹ کی پوسٹ ختم ہونے سے ان کو ملنے والی سہولیات ختم ہو جائیں گی اور زیادہ تر کو خدشہ ہے کہ وقت سے پہلے آسامیاں بھرنے کے لیے پہلے سے موجود ڈاکٹروں کو نکال دیا جائے گا۔

یہ احتجاج رواں سال مئی سے شروع ہوا جس کے بعد سے اب یہ احتجاج پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں جہاں ڈاکٹر، نرس اور پیرا میڈیکل سٹاف اپنے مطالبات منوانے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے گرینڈ ہیلتھ الائنس خیبر پختونخوا کے ترجمان حضرت اکبر نے بتایا کہ ’اس بِل سے ہمارا سِول سرونٹ کا درجہ ختم ہو جائے گا اور پھر ہسپتال کی مرضی ہو گی کہ وہ ہمیں رکھیں یا نہ رکھیں۔ یہی معاملہ نرسوں کا بھی ہے۔‘

نرسوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا کہ ’نرسوں کی تنخواہوں کا معاملہ گذشتہ دس برسوں سے تنازعے کا شکار ہے۔ جس پر صوبہ انھیں وفاق جبکہ وفاق صوبے سے رجوع کرنے کا کہتا ہے۔ تو اب یہ لوگ احتجاج نہیں کریں تو کیا کریں؟‘

اسی بارے میں