’آزادی مارچ کا قافلہ بدھ کی رات گجر خان میں رکے گا‘

مارچ کے شرکا

مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ لاہور سے اسلام آباد کی جانب گامزن ہے۔

جمعیت علمائے اسلام نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آزادی مارچ کا قافلہ بدھ کی رات گجر خان میں قیام کرے گا۔

بیان کے مطابق اس بات کا فیصلہ فضل الرحمان کی زیرِ قیادت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جو کہ کنٹینر پر منعقد ہوا۔

مولانا فضل الرحمان کے ترجمان مولانا طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ جے یو آئی ایف کی قیادت کا ایک اجلاس کنٹینر میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مارچ کے شرکا آج رات گجر خان میں قیام کریں گے اور جمعرات کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کا مارچ اسلام آباد میں پہنچنے کے لیے حکومت کے ساتھ طے شدہ راستہ اختیار کرے گا۔

اس سے پہلے جے یو آئی ف کے قائد مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں مارچ کے شرکا بدھ کی صبح لاہور میں داخل ہوئے جہاں ان کا پڑاؤ آزادی چوک میں ہوا۔ اس سے قبل شرکا ملتان سے منگل کے روز تقریباً 10 گھنٹوں سے زیادہ وقت میں لاہور پہنچے۔

ملتان سے لاہور کے سفر کے دوران مارچ کے شرکا نے خانیوال، ساہیوال اور اوکاڑہ میں بڑے قیام کیے جہاں ان کے لیے جے یو آئی ف اور دیگر جماعتوں کی طرف سے استقبالی کیمپ لگائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کا خصوصی ضمیمہ

آزادی مارچ، مگر خواتین کے بغیر!

آزادی مارچ کا آغاز سندھ سے کیوں ہو رہا ہے؟

آزادی مارچ: حکومت اور اپوزیشن میں معاہدہ طے پا گیا

دھرنا ہو یا مارچ، کنٹینر ناگزیر

جے یو آئی ف کے ترجمان کے مطابق لاہور سے اسلام آباد کے سفر کے آغاز سے قبل مولانا فضل الرحمان مارچ کے شرکا سے خطاب کریں گے۔

جی ٹی روڈ پر واقع گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور دیگر شہروں میں بھی مارچ کے لیے استقبالی کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں نون لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے لگائے گئے کیمپ بھی شامل ہیں۔

جے یو آئی ف کے اعلان کے مطابق ان کا مارچ 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہو گا۔ ان کا دعوٰی ہے کہ ان کے اس مارچ میں سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں افراد شامل ہیں۔

یہ مارچ کب تک جاری رہے گا یہ واضح نہیں، اسی لیے اس مارچ میں شامل افراد نے ہر طرح کے مکمل انتظامات کیے ہیں یہاں تک کہ اپنے ساتھ مکمل زادِ راہ لیے ہوئے ہیں۔

Image caption مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ آج لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کے لیے سفر کا آغاز کرے گا

آزادی مارچ میں اگرچہ مختلف طبقہ فکر کے لوگ شامل ہیں لیکن ان میں زیادہ تعداد مدارس اور جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

صوبہ بلوچستان کے شہر کچلاک سے روانہ کوئی 50 افراد کے ایک گروپ کے پاس آٹے، چاول، دالوں، آلو، ٹماٹروں اور سبزیوں کی بوریوں کے علاوہ دیسی مشروب لسی بھی ساتھ ہے۔

مقامی سطح پر اس لسی کو شملے کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ خود کھانا بناتے ہیں، چٹائیاں بچھا کر بڑے اہتمام سے کھاتے ہیں اور پھر بس میں بیٹھ کر مارچ کے ساتھ روانہ ہو جاتے ہیں۔

کچلاک سے اس قافلے میں شامل محمد نسیم حماد کہتے ہیں کہ وہ قلعہ سیف اللہ میں مدرسے میں پڑھاتے ہیں۔ ان کے یہاں اس احتجاج میں شامل ہونے سے مدرسے میں بچوں کی تعلیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ان دنوں مدرسے میں امتحانات کے بعد چھٹیاں ہیں۔

’ہمارا اپنا باورچی ہے، روٹی بھی خود پکاتے ہیں اور کھانا کھا کر اگلی منزل کو روانہ ہو جاتے ہیں۔‘

نسیم حماد نے لسی کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا کہ شملے ہم شوق سے پیتے ہیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ مارچ میں کیوں آئے ہیں تو ان کا یہی جواب تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی اپیل پر وہ گھروں سے نکلے ہیں اور مولانا کی قیادت میں اس مارچ کے مقاصد حاصل کر کے ہی واپس جائیں گے۔

واضح رہے کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان سے روانہ ہونے والے قافلے گذشتہ روز ملتان میں یکجا ہو گئے تھے اور ملتان بائی پاس روڈ پر واقع ایک بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سب ایک جگہ موجود تھے۔

Image caption لاہور میں جمیعت علمائے اسلام کے آزادی مارچ میں شریک کارکن

مارچ میں شامل مثل خان پیشے سے ڈرائیور ہیں اور ان کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک بچانے کے لیے نکلے ہیں کیونکہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے ملک کا بیڑا غرق ہو گیا ہے۔ وہ اپنے خرچے پر یہاں پہنچے ہیں اور اسلام آباد تک جائیں گے۔

رفیع اللہ بھی کراچی سے آئے ہیں اور وہ کراچی میں ایک پکوان سنٹر کے مالک ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کو دکان پر بٹھا کر یہاں آزادی مارچ میں شامل ہونے کے لیے آئے ہیں۔

انھوں نے خود ہی سوال کیا اور خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم کیوں آئے ہیں؟ ہم اس لیے آئے ہیں کہ اس وقت مہنگائی نے سب کی کمر توڑ دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے، خرچے بڑھ گئے ہیں۔ آج سے چار ماہ پہلے گیس کا بل 40-45 ہزار روپے ماہانہ آتا تھا جو اب بڑھ کر 63 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چھوٹی الائچی 1600 روپے کلو سے بڑھ کر 4300 روپے کلو ہو گئی ہے، فائن آٹے کی 1800 روپے کی بوری کی قیمت 2600 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح گھی کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے وہ ایک پراٹھا جو 15 روپے کا بیچا کرتے تھے، اب مجبوراً اس کی قیمت بڑھا کر 20 روپے کر دی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے گاہک کم ہو گئے ہیں اور اب ان کے پاس کھانے والے کم آتے ہیں کیونکہ لوگوں کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

Image caption مارچ میں شریک جمیعت علمائے اسلام کے کارکن

صوبہ سندھ کے علاقے شکار پور سے چار افراد دو موٹر سائیکلوں پر سوار اس مارچ میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ موٹر سائیکلوں پر پہلی مرتبہ اتنا طویل سفر طے کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ مہنگائی سے تنگ ہیں اور انھیں ایسا لگتا ہے کہ یہ حکومت اگر ختم ہو جائے تو حالات بہتر ہو جائیں گے اور اس امید پر وہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ روانہ ہوئے ہیں ۔

محمد اشرف صوبہ بلوچستان کے ضلع دکی سے روانہ ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ مدرسے میں پڑھاتے ہیں اور وہ مولانا فضل الرحمان کی اپیل پر روانہ ہوئے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ قافلے میں بیشتر افراد مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ اور علماء کرام ہیں۔

ملتان کے جلسے میں مقامی افراد کی تعداد انتہائی کم تھی۔ پنڈال میں موجود اکثریت کا تعلق صوبہ بلوچستان اور پھر اس کے بعد صوبہ سندھ سے تھا۔

ملتان کے قریب کبیر والا سے تعلق رکھنے والے بزرگ محمد اشرف اسرا نے بتایا کہ فحاشی زیادہ ہے اور مہنگائی کی وجہ سے غریبوں کے حالات خراب ہوئے ہیں جبکہ نواز شریف کے دور میں انتظامیہ کے افراد خود جا کر منڈیوں میں روز مرہ اشیا کی قیمتیں برقرار رکھتے تھے۔

کوئٹہ سے ایک نوجوان زمیندار محمد نجیب نے کہا کہ ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے جس وجہ سے وہ مولانا فضل الرحمان کی اپیل پر نکلے ہیں۔

محمد نجیب نے بتایا کہا کہ ان کی ٹماٹر کی فصل تباہ ہو گئی ہے اور اب اس کے کوئی خریدار بھی نہیں مل رہے اس کے علاوہ ان کے علاقوں میں لوگ بھی بہت پریشان ہیں۔

محمد نجیب سمیت 10 افراد دو گاڑیوں میں روانہ ہوئے اور ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ مارچ جاری رہے گا وہ اس مارچ کا حصہ بنے رہیں گے۔

سکھر سے ملتان تک مختلف لوگوں سے بات چیت کے دوران کراچی سے آئے چند مزدوروں نے بتایا کہ ان کے ساتھ بڑی تعداد میں مزدور بھی روانہ ہوئے ہیں اور چند ایک فیکٹریاں تو مزدوروں کے جانے کی وجہ سے بند ہو گئی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں